گردن توڑ کر قتل کرنے والا لاہور کا مالشیا ججی سیریل کِلر کیسے بنا؟


ججی کون ہے؟

اعجاز عرف ججی کو جب پولیس نے حال ہی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پیش کیا تو دیکھا جا سکتا تھا کہ وہ انتہائی دبلی پتلی قامت کا نشے کے عادی افراد سے مشابہہ کمزور سا شخص نظر آ رہا تھا۔ اس کے عمر 30 سال کے لگ بھگ تھی اور وہ اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا۔

اس نے پولیس کو بتایا اس نے چھوٹی عمر ہی سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اس نے نشہ کرنے والوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا۔

اس نے پولیس کو بتایا کہ ’ہمارے گھر کے پاس ایک دربار تھا جس کے باہر بہت سے نشہ کرنے والے لوگ بیٹھتے تھے۔ ان کے پاس بیٹھنے سے مجھے نشے کے لت لگی۔‘

دورانِ تفتیس ججی نے پولیس کو بتایا کہ ’پہلی بار چوری میں نے نشے کے لیے اپنے گھر ہی سے کی تھی۔‘

پکڑے جانے پر گھر والوں نے مار پیٹ کر اسے گھر سے نکال دیا۔ اس دن کے بعد ججی کبھی گھر نہیں گیا۔ انسپکٹر محمد یعقوب کو ملزم نے بتایا کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کے گھر والے اب دکھتے کیسے ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔ اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ لاہور کے ایک مضافاتی علاقے اٹاری میں رہتا تھا۔

وہ قتل کیوں کرتا تھا؟

گھر سے نکالے جانے کے بعد اعجاز عرف ججی نے چھوٹی موٹی چوری چکاری شروع کر دی۔ بڑھتے بڑھتے بات موٹر سائیکل چوری کرنے اور بڑی چوریوں تک پہنچ گئی۔ پولیس افسر کے مطابق وہ نشے کا عادی تھا۔ اس نے بتایا کہ ’نشے کے لیے مجھے پیسے کی ضرورت ہوتی تھی۔‘

ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اس نے مالش کرنے کا کام بھی سیکھ لیا۔ جب اس نے پہلا قتل کیا تو اسے اکٹھے پیسے ملے۔

اس نے پولیس کو بتایا کہ ’پہلے قتل کے بعد جب میں بچ گیا تو مجھے لگا کہ یہ تو بڑا آسان کام ہے۔ ایک دم اتنے پیسے مل جاتے تھے اور آپ پکڑے بھی نہیں جاتے۔‘ پولیس انسپکٹر کے مطابق اس کے بعد اس نے بے خوف ہو کر قتل کرنا شروع کیا۔

’بھولے مالشیے کے پاس صرف چار سو روپے نکلے‘

ججی نے پولیس کو بتایا کہ بھاٹی گیٹ کے علاقے اس کے ہاتھوں قتل ہونے والے بھولے مالشیے کے بارے میں اس معلوم ہوا تھا کہ اس نے اس روز اچھی کمائی کی تھی اور اس کے پاس سے 1500 سے 1600 روپے ہو سکتے ہیں۔

’لیکن وہ جب اس پر چھریوں کے وار کر کے اس کی جیب سے پیسے نکال کر فرار ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ بھولے مالشیے کے پاس صرف 400 روپے تھے۔‘

اسی طرح اسلام پورہ میں راہ چلتے نشے کے عادی جس شخص محمد فہیم کو اس نے قتل کیا اس کے ساتھ اس کی نشے پر لڑائی ہوئی تھی اور اس کی جیب سے وہ 1500 روپے اور موبائل فون لے کر بھاگا تھا۔ ہر واردات میں اسے چھوٹی موٹی رقوم اور موبائل فون وغیرہ ملے تھے۔

تاہم پولیس کے مطابق اس نے زیادہ تر وارداتوں میں جن لوگوں کو نشانہ بنایا وہ اسی کے حلقے کے لوگ تھے اور اسے یہ بھی ڈر تھا کہ انھیں زندہ چھوڑ دینے سے وہ پکڑا جا سکتا تھا۔ ’لیکن نشے کی عادت نے اس کی سوچنے سمجھنے کے صلاحیت متاثر کر رکھی تھی۔ وہ نشہ حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔‘

انسپکٹر محمد یعقوب کے مطابق ملزم نشے کے ٹیکے لگاتا تھا جو کہ ایسے افراد کے لیے آخری مرحلہ گنا جاتا ہے جس کے کچھ عرصہ بعد وہ مر جاتے تھے۔ ججی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

تاہم جنوری میں بھاٹی گیٹ کے علاقے میں اس کے ہاتھوں قتل ہونے والے بھولے مالشیے کی تاحال شناخت نہیں ہو پائی۔ پولیس کے مطابق اس کا شناختی کارڈ نہیں بنا تھا اور اس کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد لی جا رہی تھی۔ اب پولیس کو ملزم کے گروہ میں شامل دیگر ساتھیوں کی تلاش ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp