مڈغاسکر میں دیسی دوا کے باعث دو ماہ میں کوئی موت واقع نہیں ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے دنیا میں نئے کرونا وائرس کی وبا پھلی ہے دنیا بدلتی جا رہی ہے۔ سٹاک مارکیٹوں میں عام لوگوں کے کھربوں ڈالرز ڈوب چکے ہیں۔ آبادی کی ایک بڑی تعداد روزگار سے محرومی کے باعث پریشان ہے، ان پانچ ماہ میں ایک قدرے تسلی بخش خبر یہ سامنے آئی ہے کہ ایک امریکی دوا ساز کمپنی کی بنائی ہوئی پہلے سے موجود ایک ایک اینٹی الرجی دوا ”ریمڈسی وائر“ نئے کرونا کے مریضوں کے لیے بھی کار آمد مان لی گئی ہے جو صحت یابی کا عرصہ ایک تہائی کم کر دیتی ہے۔

لیکن یہ معاملہ اس لئے متنازع بن گیا کیونکہ چین میں چند ماہ پہلے اس دوا کے ساتھ کیے گئے تجربات حوصلہ افزا ہونے کے باوجود نتائج کے اعتبار سے کارآمد نہ سمجھے گئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس رپورٹ کو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر بھی شائع کیا تھا لیکن اچانک کیا ہوا کہ دو ہفتے قبل یہ رپورٹ اچانک غائب کر دی گئی اور اسی دوا کے بارے میں امریکہ سے ایک اور سٹڈی پبلک کر دی گئی جس کے مطابق یہ دوا بہت کار آمد ہے اور نمونیہ کے باعث فوت ہو جانے کے امکانات کو کم کر سکتی ہے کیونکہ یہ اپنے خاص عمل کے ذریعے پھیپھڑوں کی تباہی کے عمل کو سست کر دیتی ہے جس کے باعث صحت یابی کا عمل 30 فیصد جلد مکمل ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف اموات میں کمی آنے کی امید ہے بلکہ کم طبی سہولیات کی وجہ سے مریضوں کی پریشانی کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

یہ حقائق تو اپنی جگہ درست ہوں گے لیکن یورپ اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ایشیا میں بھی اس وقت شدت کے ساتھ اس بظاہر بد دیانتی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے، ملیریا کی عام اور سستی ترین اور استعمال میں سب سے آسان دوا ”کونین“ کی ایک جدید قسم ”ہائیڈرو کلوروکین“ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں نئے کرونا وائرس کے خلاف جزوی طور پر مفید پایا گیا تھا۔ حتیٰ کی امریکی صدر نے اس کا اعلان بھی بار بار کیا اور بھارت اور دنیا بھر سے بڑے پیمانے پر اس دوا کو حاصل کرنے کی کاوشیں بھی تیز کر دی تھیں۔

یاد رہے کہ یہ دوا صرف دل کے بعض مریضوں میں احتیاط کی متقاضی تھی لیکن اچانک امریکہ سے ایک سٹڈی سامنے آئی کہ کونین کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ اس کے فوراً بعد ”ریمیڈسی وائر“ کی افادیت کا اعلان کر دیا گیا جس سے سٹاک مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیوں پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔

یاد رہے کہ یہ دوا نہ صرف کونین نے مقابلے میں کئی گنا مہنگی ہو گی بلکہ براہ راست خون کے اندر شامل کیے جانے کے سبب صرف اور صرف ٹیکے کی شکل میں دستیاب ہو گی جو مریض کو ہسپتال جا کر لگوانا ہو گا جو ہسپتالوں کی آمدنی میں اربوں ڈالر کے اضافے کا باعث بنے گا۔

نئے کورونا وائرس کے علاج کے سلسلے میں امریکہ کے بعد سب سے پر اسرار کردار عالمی ادارہ صحت کا ہے۔ عالمی اداری صحت اس علاج کے سلسلے میں اپنے اکڑ پن کے باعث سخت تنقید کی زد میں ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کرونا کے لاکھوں مریضوں پر بڑی تعداد میں دوائیں آزمائی جا رہی ہیں اور بہت سی دواؤں کی کامیابی کے بارے میں مقامی دعوے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن آج تک اس ادارے نے کسی خبر میں دلچسپی نہیں لی۔ سب سے پہلے چین میں چین کی روایتی دوائیں استعمال کی گئیں بعد ازیں جاپان میں مارچ کے دوران جاپانی دوا ”فیویری پیرا وائر“ کے مثبت نتائج سامنے آئے۔

انہی دنوں دنیا بھر میں ڈاکٹروں کے درمیان کونین کے استعمال پر زبردست اتفاق بھی پایا گیا۔ پاکستان میں بنفشہ، جائفل، دار چینی اور زیرے کے قہوؤں کے علاوہ نیم کے پتوں کا استعمال عام ہے۔ عرب ممالک میں سنامکی کا قہوہ مقبول ہو رہا ہے جس کی گونج یورپ تک بھی پہنچی۔ افریقی جزیرے مڈغاسکر میں کرونا وائرس کے خلاف ایک مقامی دیسی بوٹی بڑے پیمانے پر استعمال کی جارہی ہے اور حیرت انگیز طور پر وہاں دو ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایک بھی مریض کرونا سے نہیں مرا۔

یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے کہ جس کا نوٹس نہ لیا جائے۔ عالمی ادارہ صحت کے لئے نہایت آسان ہے کہ مختلف ممالک میں ڈاکٹروں کو اس بات کا پابند بنائے کہ و ہ اپنی اپنی سٹڈی اس ادارے کے ساتھ شیئر کریں تاکہ اس تمام عمل میں سے کسی مناسب دوا کے انتخاب کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے۔ مگر شاید اس ادارے کو ابھی اور با اختیار بنائے جانے کی ضرورت ہے

آخری بات یہ جا ن لیجیے کہ ایک معروف پاکستانی ادارے سمیت پانچ ایشیائی کمپنیوں نے ”ریمیڈسی وائر“ دوا بنانے کے لئے اصل دوا ساز امریکی ادارے سے معاہدہ کر لیا ہے اور دوا سازی کا عمل جولائی سے پہلے شروع ہونے کی امید ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *