عنبرین کوثر اور خالد سہیل کے محبت نامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری جان میرے پیارے بھائی جان!
آپ ہمیشہ خوش رہیں

25 مارچ 2020 کے انتظار میں ارشاد صاحب، میں اور میری نواسی نیہا، جو اب ہمارے ساتھ ہی رہتی ہے، خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے کیونکہ اس دن آپ کو کینیڈا سے پاکستان پہنچنا تھا۔ میں اور نیہا آپ کے لیے آپ کے پسندیدہ کھانوں کی لسٹ بنا رہے تھے۔ چونکہ 24 مارچ کو ہماری بیٹی وردہ کی سالگرہ ہوتی ہے تو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ہم سب مل کر کسی ہوٹل میں منائیں گے۔ ہم نے یہ بھی سوچ رکھا تھا کہ ہم کن کن دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے گھر بلائیں گے اور کن کے گھر آپ کے ساتھ جائیں گے۔

اور تو اور نیہا اور میں نے تو تین تین نئے سوٹ بھی بنا لیے تھے کہ آپ کے ساتھ ادبی محفلوں میں نئے سوٹ پہن کر جائیں گے۔ ہم یہ سب خواب دیکھ رہے تھے کہ 12 مارچ کو آپ کا فون آ گیا کہ کرونا وبا کی وجہ سے آپ پاکستان نہیں آ رہے۔ اس خبر سے ہمارے ارمانوں پر جیسے اوس پڑ گئی۔ دو تین دن ہم بہت پریشان رہے پھر میں نے سوچا کہ میں آپ کو ایک طویل خط لکھوں جیسا کہ برسوں پہلے آپ کو لکھا کرتی تھی کیونکہ ان دنوں ای میل اور وٹس ایپ نہیں ہوتے تھے۔ میں نے سوچا جو باتیں آمنے سامنے ہوتی ہیں وہ بات بھلا خط میں کہاں لیکن پھر یہ خیال آیا کہ نہ ہونے سے آدھی ملاقات بہتر ہے۔

آپ دراصل میرے بھائی بھی ہیں میری بہن بھی، میری ماما بھی اور میرے ابو بھی۔ میں نے اپنے دل کی ساری باتیں آپ سے شیر کرنی ہوتی ہیں کیونکہ آپ میری ساری باتیں بڑے تحمل سے سنتے ہیں اور بہترین مشورے دیتے ہیں۔ میں جو آج کل ایک بہت خوشحال زندگی گزار رہی ہوں وہ آپ کے مفید مشوروں کی وجہ سے ہی ہے۔ جب میرے چاروں بچے پاکستان سے چلے گئے ( عفیفہ قظر، ذیشان دوبئی، عروج سعودیہ اور وردہ آپ کے پاس کینیڈا) تو میں بہت رویا کرتی تھی۔ یہ مشورہ آپ نے ہی مجھے دیا تھا کہ میں نئے دوست بناؤں اور گھر سے نکلا کروں۔ آپ کا مشورہ تیر بہدف ثابت ہوا اور اب میری مصروف اور دلچسپ زندگی آپ کے مشورے کی مرہون منت ہے۔

مجھے یاد ہے کہ بچپن میں مجھے بہن کا بہت شوق تھا۔ آپ جب چالیس برس پیشتر ڈاکٹر بن کر نفسیات میں ایف آر سی پی کرنے کینیڈا چلے گئے تو میں کالج کی سٹوڈنٹ تھی اور ہر نماز کے بعد اپنے اللہ سے بہن مانگا کرتی تھی۔ جب آپ چلے گئے تو مجھے احساس ہوا کہ آپ میرے بھائی ہی نہیں بہن بھی ہیں۔ ویسے سہیل بھائی میرے اللہ نے میری وہ دعا قبول کی اور مجھے عفیفہ، عروج، وردہ جیسی بیٹیوں، پیاری سی اکلوتی بہو نادیہ، (جو بہو کم بیٹی زیادہ ہے ) اور آمنہ، نیہا، شانزے اور علیزہ جیسی پوتی اور نواسیوں سے نوازا۔ اس طرح بہن بننے کی خواہش حقیقت بنی اور خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔

مجھے یاد ہے جب ہم دونوں چھوٹے تھے تو امی کی ڈانٹ سے آپ ہمیشہ مجھے بچا لیا کرتے تھے حالانکہ اس عمر میں تو بہن بھائی ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتے ہیں۔ آپ چونکہ بہت لائق فائق اور ذہین فطین تھے تو امی ابو آپ کی ہر بات آنکھیں بند کر کے یقین کرتے تھے اور میں اپنی شرارتوں اور نادانیوں پہ آپ سے پردہ پوشی کروا لیتی تھی۔

میں نے زندگی میں آپ جیسا محبت کرنے والا بھائی نہیں دیکھا۔ آپ جیسا معروف انسان جو شاعر ادیب اور دانشور بھی ہے اور اتنی زیادہ کتابوں کا مصنف بھی کہ دوست کہتے ہیں کہ اگلی کتاب کے تحفے کے ساتھ انہیں رکھنے کے لیے ایک بک شیلف بھی تحفہ دیں۔

جب آپ نے میرے بارے میں، ہم سب، پر کالم لکھا اور میری تعریفیں کیں تو میرا سینہ خوشی سے پھول گیا اور سوچا کہ اتنے بڑے ادیب نے میرے بارے میں یہ سب باتیں لکھی ہیں۔

2019 کی فروری میں جب آپ اپنی دوست زہرا نقوی کے ساتھ پاکستان آئے تو بہت سی ادبی محفلیں جمیں اور ہم سب کو بہت مزا آیا۔ آپ کی کتاب، درویشوں کا ڈیرا، جو آپ نے رابعہ الربا کے ساتھ مل کر لکھی تھی، کی جب امیر حسین جعفری، سیمیں جعفری اور منظر حسین اختر نے مل کر سیفما میں تقریب رونمائی کا اہتمام کیا تو اس میں شہر کے بہت سے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے شرکت کی اور آپ دونوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب کے بعد انہوں نے پرتکلف چائے کا بھی انتظام کیا تھا۔

ایک دن سلمیٰ اعوان نے بھی آپ دونوں کے اعزاز میں کھانے کا اہتمام کیا تھا اور اپنے ادیب دوستوں کو بلایا تھا۔

آپ جب بھی مجھے اپنے ساتھ کسی ادبی محفل میں لے کر جاتے ہیں تو وردہ ہنس کر کہتی ہے کہ ماما فاطمہ جناح بن گئی ہیں اور اپنے بھائی قائد اعظم کے ساتھ جا رہی ہیں۔

میں کبھی کبھار سوچتی ہوں کہ آپ کی شخصیت میں نجانے کیا طلسم ہے کہ اس کا سحر اب تک مجھ پہ طاری ہے۔ جب میرے بچے مجھ پر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اپنے بھائی سے عشق کی حد تک پیار کرتی ہیں تو میں کہتی ہوں کیا آپ نے کبھی سہیل ماموں جیسا بھائی دیکھا ہے جو اپنی بہن سے اتنا پیار کرتا ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو آپ جیسا محبت کرنے والا بھائی دے۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے کہ میں بلا ناغہ روزانہ نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد آپ کی صحت اور کامیاب زندگی کی دعا کرتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری دعا قبول کرے اور آپ ہمیشہ صحتمند اور خوشحال زندگی گزاریں آمین

آپ کی دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والی
صرف آپ کی
عنبر
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
خالد سہیل کا جواب
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پیاری عنبر!

آپ کا محبت نامہ پڑھ کر مجھے چند پرانی نظمیں یاد آ گئیں جو میں نے کافی سال پیشتر آپ کے اور آپ کے بچوں اور اپنے بھانجے بھانجیوں کے لیے لکھی تھیں۔ حاضر خدمت ہیں۔

ایک معجزہ
میری پیاری بہن عنبر
تمہاری زندگی کسی معجزے سے کم نہیں
میں جب کبھی تمہارے بارے میں سوچتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں
تم نے کیونکر
اپنے والدین کے تضادات کو ورثے میں پایا
ایک اجنبی سے شادی کی
زندگی کی آزمائشوں کا سامنا کیا
بچوں کی دیکھ بھال کی
اپنے زمانے کے جبر برداشت کیے

اور پھر بھی
نہ گھبرائیں نی حواس باختہ ہوئیں
تمہیں دیکھ کر میرے ذہن کو سکون
روح کو تحریک
اور
قلب کو خوشی ملتی ہے
ایسی خوشی جو وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے

میری پیاری بہن
میرے قریب آؤ
میں تمہیں گلے لگاؤں
تمہاری پیشانی پر بوسہ دوں
تم عمر میں مجھ سے چھوٹی ہو
لیکن زندگی میں مجھ سے بہت آگے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بچے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب میرا بھانجا اور بھانجیاں مجھ سے کھیلتے ہیں
میں خوشی سے جھوم اٹھتا ہوں
جب وہ مجھ سے بات کرتے ہیں
میرا دماغ بھینی بھینی خوشبو سے لبریز ہو جاتا ہے
جب وہ مجھے گدگدی کرتے ہیں
میرے دل میں خوشیوں کے پھوارے پھوٹتے ہیں

جب وہ مجھ سے گلے ملتے ہیں
میں اس کا حظ
روح کی گہرائیوں میں محسوس کرتا ہوں
ان کی والدہ
میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھتی ہے
آخر کب تک

تم یہ بے جان کتابیں تخلیق کرتے رہو گے
کب تم
ذی روح بچے پیدا کرو گے
میں اس کی بات سنتا ہوں
میں مسکراتا ہوں
اور خاموش رہتا ہوں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عورت کی ڈگری اور چار نسلیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آج ایک اہم دن ہے
آج میں بہت خوش ہوں
آج میری بھانجی وردہ کی کونووکیشن ہے
میں بڑے فخر سے اس تقریب میں شرکت کر رہا ہوں
وہ گاؤن پہن کر
سٹیج پر ڈگری وصول کر رہی ہے
اور میں سوچ رہا ہوں

میری نانی سرور کی تعلیم دو جماعتیں تھی
وہ صرف اپنا نام لکھ سکتی تھیں
میری والدہ عائشہ نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی
انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن

ان کے روایتی والد اور بھائی نے کہا
تم نے شادی کرنی ہے
بچے پیدا کرنے ہیں
کھانا پکانا ہے
سلائی کرنی ہے
زیادہ پڑھائی نہ کرو
رشتہ ملنا مشکل ہو جائے گا

میری بہن عنبر کی تیرہویں جماعت میں شادی کر دی گئی
اسے سسرال بھیج دیا گیا
وہ بچے پالتی رہی اور ساری عمر
حور، زیب النسا، اور، خواتین ڈائجسٹ، کے افسانے پڑھتی رہی
وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکی
میری بھانجی وردہ کینیڈا میں چار سال میرے ساتھ رہی

وہ کالج گئی
اس نے بڑی محنت سے ڈگری حاصل کی
آج میں
اس کی گریجوئیشن کی تقریب میں شرکت کر رہا ہوں
اور سوچ رہا ہوں

ہمارے خاندان میں
عورت کو ڈگری حاصل کرنے میں
چار نسلیں لگ گئی ہیں
وردہ بخوبی جانتی ہے
اس کی ڈگری وہ کنجی ہے
جس سے اس کے لیے
زندگی کے بہت سے دروازے کھل جائیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 365 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “عنبرین کوثر اور خالد سہیل کے محبت نامے

Leave a Reply