اس قبر کو نہ اکھاڑو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھوڑا شاید ان جانوروں میں شامل ہے جس سے حضرت انسان نے پہلے پہل انسیت پیدا کی۔ یہ انسیت بڑھتے بڑھتے دوستی میں بدل گئی۔ مگر یہ دوستی اسی وقت تک قائم و دائم رہی جب تک گھوڑا کھڑا رہا۔ گھوڑا اس وقت تک کھڑا رہتا ہے جب تک اس میں جوانی اور طاقت کے آثار باقی ہیں۔ گھوڑا اپنی نیند بھی کھڑے کھڑے پوری کرتا ہے۔ گھوڑا کے اعضا مضمحل ہو جائیں اور وہ بیٹھنے لگ جائے تو سمجھا جاتا ہے اب اس پہ بڑھایا آ گیا ہے۔ بوڑھے گھوڑے مالک اور معیشت دونوں پہ بوجھ ہوتے ہیں۔

عمر رسیدہ گھوڑے کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔ اگلے وقتوں میں بوڑھے گھوڑوں کو جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جہاں وہ جنگلی حیات کے رحم و کرم پہ ہوتے۔ جب بندوق ایجاد ہوئی اور انگریزوں کی برصغیر آمد ہوئی تو وہ اپنے بوڑھے گھوڑوں سے چھٹکارا پانے کا اک نیا طریقہ لے کر آئے۔ انگریز اپنے بے کار گھوڑے کے سر کے وسط میں گولی مار کر اس سے چھٹکارا پاتے۔ انگریز تو برصغیر سے چلے کیے مگر ان کی بہت سی روایت اب بھی کسی نہ کسی صورت رائج ہیں۔

آئی سی سی کو لوگ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کہتے ہیں۔ مگر میں اسے انڈین کرکٹ کونسل سمجھتا ہوں۔ کرکٹ اور جوئے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ وہ جا ہے جہاں کہا جاتا ہے۔
کون ہے جس نے مے نہیں چکھی
کون جھوٹی قسم اٹھاتا ہے
مے کدے سے جو بچ نکلتا ہے
تیری آنکھوں میں ڈوب جاتا ہے

ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔ بھلا یہ ہو سکتا ہے کرکٹ کھیلی جائے اور جوا نہ ہو۔ کیسے ممکن ہے دھواں بھی نہ ہو اور دل بھی جلے۔

عشروں سے کرکٹ میں جوئے کا گڑھ ہندوستان ہے۔ لیکن آئی سی سی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم۔ اس کے علاوہ صف اول کے کسی ہندوستانی بولر کے ایکشن پہ آئی سی سی کو اعتراض موصول نہ ہوا۔ پاکستان میچ فکسنگ اور مشکوک بولنگ ایکشن کا سب سے زیادہ نشانہ بنا۔ فی الوقت ہمارا موضوع میچ فکسنگ ہے۔

پاکستان نے عطا الرحمٰن، سلیم ملک، سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عرفان، ناصر جمشید، شرجیل خان اور محمد عامر جیسے کھلاڑی اس وقت کھوئے جب ان میں بہت کرکٹ باقی تھی۔

دوسری طرف ہندوستان نے اظہر الدین، اجے جدیجا، منوج پربھارکر اور سری سنتھ جیسے گھوڑوں کے سر میں گولی مار کر لیپا پوتی کی۔ یہ سبھی بوڑھے اور بے کار گھوڑے تھے۔ اظہر الدین کو کیوں بدنام کیا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہر چند اظہر الدین بعد میں بری ہوگیا۔

ذوالقرنین، باسط علی، عطا الرحمٰن، سلیم ملک اور عامر سہیل سمیت کچھ چلے ہوئے کارتوس ایک بار پھر کرکٹ اور جوئے کے گند کو اسی طرح کرید رہے ہیں جیسے کچھ مرغیاں دانے دنکے کے لیے گند کو ٹٹولتی پھرولتی ہیں۔ یہ وہ مکے ہیں جو لڑائی کے بعد یاد آئے۔ باسی کڑھی میں ابال۔ جب وقت تھا تو چوری کھانے والے مجنوں بنے رہے۔ اگر بولے بھی تو ثبوت ندارد۔ کس میچ میں کس ورلڈ کپ میں کیا ہوا اب کہنے کا مقصد۔ بہت سی باتیں عوام ویسے ہی جانتے ہیں۔

بیس تیس سال بعد سچائی، ایمانداری کا ہیضہ۔ وسیم اکرم سمیت کون کتنا پارسا ہے یہ کہنے سے اب کیا حاصل۔ یہ ساری حرکات اداکارہ میرا کی طرح توجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے یا سوشل میڈیا اور یوٹیوب چینلز پہ سبسکرائبز لینے کی کوشش۔ بہر طور یہ ملک و قوم کی خدمت نہیں۔ اس میں پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کی بدنامی ہے۔

جوا ایک لعنت ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔ مگر اس کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگے پیچھے دونوں طرف دیکھنا ہے۔ پی سی بی کو چاہیے فکسنگ کے حوالے ایک مضبوط و مربوط قانون سازی کرے۔ جو گزر چکا اسے جانے دو اب گڑھے مردے اکھاڑ کے اپنے ملک و قوم کے منہ پہ کالک ملنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس قبر کو نہ اکھاڑو۔ اس حمام میں سارے ہی! ۔ قانون سازی میں یہ بات بطور خاص ملحوظ خاطر رہے کے جو کھلاڑی پانچ سال پرانے قصوں کو کھولے وہ کرکٹ بورڈ میں کسی بھی عہدہ کے کیے نا اہل ہوگا۔ خدا خدا کر کے انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونے لگی تھی۔ بمشکل پاکستان میں پی ایس ایل کا انعقاد ہوا۔ تو بہت سی یتیم بیواؤں نے بے وقت کی راگنی چھیڑ کے ماضی کا گند کریدنا شروع کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *