ڈاکٹر کی ڈائری: چیف جسٹس نے غلط نہیں کہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کی عالمگیر وبا اور موجودہ ملکی حالات پر ڈاکٹرز شاید واحد طبقہ ہیں جو مسلسل فکر مند اور پریشان ہیں کیونکہ حالات کی سنگینی کا درست ادراک بھی میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ افراد ہی کر سکتے ہیں۔

پچھلے دو مہینے کے حالات اور واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو تعلیمی اداروں کی بندش سے لاک ڈاؤن، پھر جزوی لاک ڈاؤن، پھر سمارٹ لاک ڈاؤن پھر مرحلہ وار اداروں اور کاروبار کا کھلنا اور پھر مکمل کاروباری اور سماجی سرگرمیوں کا آغاز۔

اس ساری صورتحال میں ڈاکٹرز کا غصہ بجا ہے، مگر حقیقتاً میں یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ عدالتی کارروائی اور چیف جسٹس کے ریمارکس کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر غم و غصے کا طوفان کیوں برپا ہے۔ (کہ میڈیکل اسٹاف بیچارہ سوشل میڈیائی برگیڈ بننے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتا) ۔

کیا چیف جسٹس کے آج کے ریمارکس سے پہلے ہی صوبائی حکومتیں سرکاری سر پرستی میں 21 رمضان کے جلوس کا انعقاد نہیں کر چکیں؟
کیا تمام چھوٹی مارکیٹیں اور بازار ہفتے میں چار دن کھولنے کا حکومتی اعلان نہیں ہو چکا؟
کیا ملک کے چار بڑے شہروں کی جنتا چار دن میں اربوں روپے کی خریداری نہیں کر چکی؟
کیا درزی، بیوٹی پارلر، سیلون، باربر شاپ، کھولنے کا حکم نہیں دیا جا چکا تھا؟
کیا پبلک ٹرانسپورٹ کھلنے کا فیصلہ نہیں ہو چکا تھا، بلکہ فیصلہ ہونے سے پہلے وزیر اعظم صاحب ( نامعلوم افراد سے ) تمام ٹرانسپورٹ کھولنے کی دردمندانہ اپیل نہیں کر چکے تھے؟

اگر چیف جسٹس نے عدالت میں یہ پوچھ لیا کہ کرونا جمعہ، ہفتہ اتوار بازاروں میں آئے گا اور باقی چار دن چھٹی کہاں گزارے گا تو کیا غلط پوچھا؟ اس بات پر تو پچھلے چار دن سے ہزاروں لطائف سوشل میڈیا پر گردش کر رہے تھے۔

اگر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے عید پر نئے کپڑے نہیں پہننے مگر دوسرے لوگ پہننا چاہتے ہیں تو کیا غلط کہا؟ کیا یہ قوم چار دن میں اربوں روپے کی خریداری نہیں کر چکی تھی۔

اگر کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دینا اور ٹرانسپورٹ، پارک اور بازار کھولنا غلط فیصلہ تھا تو، کم وقت کے لئے اور کم تعداد میں مارکیٹوں کو کھولنا تو اس سے بھی زیادہ غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا،

اگر کسی علاقے کی دس لاکھ آبادی اور بیس مارکیٹیں اور 18 یا چوبیس گھنٹے کے لئے خریداری کی سہولت میسر ہو، تو وہاں پر سماجی فاصلوں کی پاسداری بہتر ہو سکے گی۔ یا پھر دس لاکھ آبادی، پانچ مارکیٹیں اور 8 گھنٹے میں رش کو کنٹرول کر کے سماجی فاصلہ کو برقرار رکھنا ممکن ہو گا؟

چیف جسٹس صاحب نے حکومتی فیصلوں پر نہیں بلکہ ان کے طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے، کہ بہرحال لاک ڈاؤن کو کھولنے اور کاروباری سرگرمیوں اور سماجی رابطوں کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کا فیصلہ تو حکومت نے کیا ہے۔
ہر خاص و عوام بشمول ڈاکٹر حضرات صورتحال پر اگر تشویش رکھتے ہیں تو براہ کرم غصہ نکالنے کے لئے اپنی انرجی درست جگہ پر استعمال کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *