عالمی وبا اور بلوچستان کے جفاکش باشندے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالم انسانیت ایک عالمی وبا کی لپیٹ میں ہے اور پوری دنیا میں ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں اس وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہیں اللہ کے کرم اور کچھ زمینی حقائق کی بنیاد پر ہمارے وطن عزیز میں اس کے نقصانات تو ضرور سامنے آرہے ہیں لیکن وہ نقصانات واضح طور پر یورپی ممالک سے کہیں کم ہیں۔ اگر پاکستان کو صوبوں کی بنیاد پر تقسیم کر کے دیکھا جائے تو بلوچستان دیگر صوبوں کی نسبت کم متاثر ہوا ہے۔

صوبہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبہ کے تقریباً 44 فیصد رقبہ پر واقع صوبہ ہے اور رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بلوچستان کی کل آبادی تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ ہے۔ پورے ملک میں تقریباً 42 ہزار کورونا وائرس کے مثبت کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور ان میں سے تقریباً 27 سو کا تعلق بلوچستان سے ہے جبکہ صوبے میں 42 افراد اس وبا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں جو باقی صوبوں کے لحاظ سے کئی گنا کم ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے متعلق جو حقائق بیان کیے گئے ان کے تحت یہ وائرس زیادہ قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو متاثر کرنے کے باوجود ان کو نقصان تو دور کی بات ان کی عمومی زندگی میں کسی خلل کا باعث تک نہیں بنتا ہے مضبوط مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اس کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں اب تک جتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق شہری علاقوں بالخصوص کوئٹہ سے ہی ہے جبکہ دیہی علاقوں سے معمولی اعداد و شمار ہی سامنے آئے ہیں۔

بلوچستان کے دیہی علاقوں میں کیسز کے کم رپورٹ ہونے کے پیچھے کچھ زمینی حقائق ہیں۔ بلوچستان سنگلاخ چٹانوں پر مشتمل ایک طویل پہاڑیوں سلسلے کو اپنے دامن میں رکھے ہوئے ہے یہاں بنیادی طور دو اقوام آباد ہیں پشتون اور بلوچ۔ ان دونوں اقوام کے لوگ قدرتی طور پر مضبوط جسامت اور مضبوط نفسیاتی نظام کے مالک ہیں۔ قبائلی جھگڑے عام ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ ہر وقت جان کو ہتھیلی پر رکھے رہتے ہیں اور کسی بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے ہر طرح تیار رہتے ہیں۔

قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سے سروے کیے گئے ہیں جن سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ کورونا وائرس کا انسانی صحت یا جسم پر اثرانداز ہونا ایک مسلمہ حقیقت ضرور ہے لیکن اس کے نفسیاتی اثرات جسمانی اثرات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور نفسیاتی طور پر اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس لحاظ سے بلوچستان کے لوگ کورونا وائرس سے آشنا ضرور ہیں لیکن اپنی نفسیات کو اس وائرس کا قیدی بننے نہیں دیا گیا۔

اسی طرح بلوچستان کے دیہی علاقوں کے لوگوں کا رہن سہن، خوراک، معاش، جفاکشی اور قدرتی طور پر سماجی دوریوں نے ان کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور سوشل میڈیا اور الیکٹرانک سے دوری نے بھی انہیں خطرناک حد تک خوفزدہ نہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

اکثر لوگوں کا پیشہ مزدوری، کان کنی، باغبانی، مویشی بانی ہے جبکہ کافی لوگ سرکاری ملازمتوں پر بھی فائز ہیں دیہی علاقوں کے دفاتر میں ملازمین کی تعداد بھی زیادہ نہیں ہے گھروں کے درمیان شہروں کی نسبت فاصلہ بہت زیادہ ہے اس لئے ملنا ملانا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے شہروں میں سفر صرف شدید بیماری کی صورت میں علاج معالجے کی صورت میں ہی کرتے ہیں۔ اس لئے چین سے سفر کرنے والی اس وبا سے ابھی محفوظ ہیں۔ اپنے جفاکش طرز زندگی کی اور مضبوط بو دو باش کی بدولت یہ لوگ معمولی بیماریوں کا مقابلہ آسانی سے کرتے ہیں اور ڈاکٹر کو درکنار انہیں کوئی گولی یا سیرپ پینے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔

عام بیماریوں کا علاج جڑی بوٹیوں کی مدد سے اور گھریلو ٹوٹکوں سے ہی کیا جاتا ہے یہاں تک کہ سانپ کا کاٹنا یا بچھو کا کاٹنا ان لوگوں کے لئے اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا شہر میں بسنے والوں کے لئے ہوتا ہے یہ تو سانپ اور بچھو جیسے خطرناک اور زہریلے جانوروں کے کاٹنے کا علاج بھی جڑی بوٹیوں اور گھریلو طریقوں سے کرتے ہیں اور کسی زہریلے جانور کے کاٹنے اور علاج شروع ہونے کے درمیانی وقت میں مضبوط مدافعتی نظام کی وجہ سے بچ جاتے ہیں۔

بلوچستان کے لوگ اپنی خوش خوراکی کی وجہ سے پوری دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں یہاں کے علاقائی کھانے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں اور کھائے جاتے ہیں ان کی خوراک میں گوشت کا استعمال نمایاں طور پر زیادہ ہے ان کی خوراک میں شامل گوشت چاہے وہ بکرے کا ہو یا مرغی کا وہ بازار سے نہیں خریدا جاتا ہے اور وہ ان کے گھروں میں موجود بکروں اور مرغیوں سے لیا جاتا ہے جو کسی طور پر مصنوعی خوراک نہیں کھاتے قدرتی گھاس اور پہاڑیوں جڑی بوٹیاں کھانے والے جانوروں کا گوشت بازاری گوشت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

ان کی روایتی خوراک میں تیل میں بنی چیزوں کا استعمال بہت کم ہے جس کی وجہ سے کولیسٹرول میں اضافی کی وجہ سے امراض قلب، ذیابطیس وغیرہ جیسی بیماریوں سے محفوظ ہیں۔ ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھان کا روایتی کھانوں میں ”کاک“ (پتھر پر آٹے کو لگا کر لکڑی کی گرمائش پر پکانا) ، سجی، کھڈی کباب وغیرہ شامل ہیں۔ مسلم باغ، توبہ کاکڑی، توبہ اچکزئی، زیارت جیسے ٹھنڈے علاقوں میں لاندھی مشہور غذا ہے۔ لاندھی دنبے یا بکرے کے گوشت کو دھوپ میں خشک کر کے پھر اس سے بنائی گئی گریوی یا سالن کو کہتے ہیں۔

زیارت میں چیری اور سیب قابل ذکر پھل ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ پشین، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ کی مشہور غذا نمکین گوشت اور دم پخت ہیں جبکہ قلات، مستونگ اور لہڑی کا مشہور کھانا سجی یا سجی کباب ہے۔ بلوچستان کے مشہور پھلوں میں چیری، سیب، زرد آلو، خوبانی، تربوز شامل ہیں اور بلوچستان پنجگور، مکران، مچھ، بولان، تربت اور تمام گرم علاقوں میں کھجور وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے اور یہاں کے لوگوں کی خوراک کا اہم جزو ہے۔ خشک میوہ جات بادام، پستہ، اخروٹ، کاجو و دیگر میوہ جات یہاں کے لوگوں کے مہمان خانوں کی زینت ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں کے اکثر لوگوں کا مشغلہ شکار ہے جس میں مارخور، ہرن، بٹیر، تلور وغیرہ کا شکار قابل ذکر ہے جن کا گوشت مہمانوں کو پیش کرنے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ گھروں میں پالے جانے والے جانوروں گائے، بھینس، بکری اور بھیڑوں کے خالص دودھ کے استعمال اور ان سے تیار کردہ مکھن، دہی اور پنیر کھاتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کے زندگی میں خشک میوہ جات کا استعمال عمومی طور پر زیادہ ہے جس سے وٹامن سی کی وافر مقدار حاصل کرتے ہیں۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اکثر جو پانی استعمال ہوتا ہے وہ قدرتی چشموں سے حاصل کیا جاتا ہے جو قدرتی طور پر شہری ٹیوب ویلز کے پانی سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔

بالا تحریر شدہ حقائق اس بات کو ضرور ثابت کرتے ہیں کہ یہاں کے لوگ مضبوط مدافعتی نظام کے مالک ہونے کی وجہ سے شاید کورونا وائرس کے اثرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو حالات آج ہیں یہی کل بھی ہوں گے۔ کورونا وائرس اس قدر تیزی سے پھیلنے والی وبا ہے اس پر تحقیق کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وبائیں اپنی فطرت بدلتی ہیں ممکن ہے کہ یہ وبا اپنی فطرت بدلے اور مزید طاقت سے حملہ آور ہو یا کمزور ہو اور کم طاقت سے حملہ آور ہو۔

متاثرین کی تعداد میں اضافہ یا کمی ممکن ہے لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ کسی بھی بیماری کی فطرت کو جاننے کے لئے طویل تحقیق درکار ہوتی ہے اس میں سالوں لگتے ہیں اور نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے اور پہلا نتیجہ حتمی ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی پھر دوبارہ تحقیق کی جاتی ہے اس طرح تجربات کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے پھر دوا مرتب کی جاتی ہے۔ چند زمینی حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ایسا طرز زندگی اپنانے سے وبا متاثر نہیں کرے گی اس کے لئے تمام احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں اور انہیں میں ہماری بقا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *