روس میں کرونا ویکسین دینے کے لیے درجہ بندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر کے عقب میں اس باغیچہ والے صحن میں جس میں لسوڑا، کیکر، نیم، شہتوت، کھجور، بیری کے درخت ہیں اور کئی کیاریوں میں موتیا کے پودے پھولے ہوئے ہیں، میں جب صبح دم سیر بلکہ قدم زنی کرتا ہوں تو کئی طرح کی چڑیاں آتی ہیں جن میں گلدم جسے عام لوگ بلبل کہتے ہیں مگر وہ بلبل یعنی مل کے آہ وزاریاں کرنے والی عندلیب نہیں ہوتی، کا جوڑا، خوبصورت معصوم فاختاؤں کا جوڑا اور سب سے بڑھ کر چمکدار سیاہ رنگ، جس میں زمردیں چمکدار رنگ بھی ادھر ادھر، خاص طور پر گردن سے ملے بدن کے حصے پر، جھلکتا ہے کا جوڑا مجھے بہت بھاتا ہے، اور ہاں آج تو میں نے اس جوڑے کے ساتھ ایک تنہا فاختئی رنگ کی بدی بھی دیکھی۔

گلدم گیت گاتی ہے اور دیکھتے ہی اڑ کر درخت کی کسی محفوظ شاخ پر منتقل ہو جاتی ہے۔ فاختاؤں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ توجہ مبذول کراتی ہے پھر فاختائیں میرے دیکھنے پر معصوم سی نگاہ ڈالتی ہیں اور پھر کر کے اڑ جاتی ہیں۔ مگر چمکدار سیاہ زمردیں رنگ کی پدیوں کا جوڑا چہکتے ہوئے، میری موجودگی سے بے نیاز، کھیلنے کے سے انداز میں ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر اڑانیں بھرتا رہتا ہے۔ بعض اوقات تو عین میرے چہرے کے نزدیک سے بھی گزرتا ہے، کبھی ایک درخت کی شاخ پر جا بیٹھتا ہے تو کبھی دوسرے درخت کی شاخ پر۔

میں سوچتا ہوں کہ یہ کتنے مزے میں ہیں۔ انہیں نہ کرونا کا خوف ہے نہ ملک کے منصف اعلٰی کے ”کھول دو“ نام کے فیصلے کا، جس میں فیصلے والے روز انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اگر اربوں روپے خرچ کر کے بھی ہمارے 600 افراد مر گئے تو ہمیں اخراجات کرنے کا کیا فائدہ، جب کہ درحقیقت جس روز یعنی 18 مئی 2020 کو یہ تحریری فیصلہ آیا اس سے پہلے کی رات تک کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 873 تھی جو فیصلے کی شام بڑھ کر 903 افراد ہو چکی تھی۔

یہ خوش خصال چڑیاں اس حقیقت سے یقیناً غیر آگاہ ہوں گی کہ ملک میں کاروبار حیات کھول دیے جانے سے اور لوگوں کی کرونا سے متعلق پدیوں ایسی بے نیازی کے سبب مرنے والوں کی یہ تعداد ایک ماہ بعد تک ہزاروں میں اور مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔

پرندوں کے علاوہ زمین پر حشرات بھی چل پھر رہے ہوتے ہیں، جن میں سیاہ مکوڑے بھی ہوتے ہیں، ان میں سے کئی تو مکوڑوں کی ہی لاش اٹھائے نجانے کدھر جا رہے ہوتے ہیں، لاشوں کو ٹھکانے لگانے یا انہیں اپنی غذائی پروٹین میں شامل کرنے کو۔ میں چونکہ انہیں دیکھ سکتا ہوں چنانچہ کوشش کرتا ہوں کہ کوئی میرے جوتوں تلے نہ آئے البتہ اینٹوں کے جس غیر ہموار فرش پر میں قدم زنی یا چہل قدمی، جو درحقیقت چہل نہیں بلکہ صد قدمی ہوتی ہے، کر رہا ہوتا تو ان اینٹوں کی ریخوں سے طرح طرح کی چیونٹیاں بھی رزق کی تلاش میں نکلی ہوتی ہیں۔

میں بے حد پریشان رہتا ہوں چونکہ میں ہر چیونٹی کو علیحدہ علیحدہ نہیں دیکھ سکتا یوں نہ جانے کتنی چیونٹیاں روزانہ میرے جوتوں تلے آ کر میرے بوجھ سے کچلی جاتی ہوں گی، ویسے ہی جیسے حکومت کے متذبذب فیصلوں اور عدالت عظمٰی کے بے دھڑک، غیر تکنیکی فیصلے کے سبب کئی انسان اشرافیہ کے پاؤں تلے آنے کے سبب یا مر چکے ہیں یا تکلیف میں مبتلا ہیں اور پتہ نہیں کتنے مریں گے اور کتنے زیادہ لوگ مرض میں مبتلا رہنے کی تکلیف سہیں گے۔

لگتا ہے اس ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ پہلے تو وزیر اعظم کئی بار بغیر ماسک کے اجلاسوں میں متمکن دکھائی دیے، کم از کم محافظین اور مصاحبین کے جلو میں لوگوں میں بھی دیکھے گئے۔ کرونا سے متعلق کبھی یہ بیان دیا تو کبھی وہ بیان۔ پھر کرونا سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اسد عمر اس مرکز کے اجلاسوں میں کھلے منہ بیٹھے دکھائی دیتے رہے۔ البتہ اس مرکز کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل ہمیشہ ماسک پہنے بیٹھے دکھائی دیے۔

یوں صاف معلوم ہو جاتا رہا کہ کون منظم طاقت سے ہے اور کون کون بلڈی سویلین کے زمرے میں آتا ہے۔ فوج کی اشرافیہ عام لوگوں کے لیے یہ مذموم لفظ شاید اس لیے ہی استعمال کرتی ہو کہ عام لوگوں میں نظم و ضبط نام کو بھی نہیں۔ دکانیں کھولنے کی اجازت دے دو تو ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کا وعدہ کر کے اس کو ایفا نہیں کریں گے۔ لوگ دکانوں پہ یوں ٹوٹ پڑیں گے جیسے کپڑوں جوتوں کے بغیر ننگے بدن اور ننگے پاؤں پھرتے رہے ہوں۔ اوپر سے سراج تیلی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بازاروں کو ساتوں روز مسلسل کھلا رکھنے کی اجازت دے دی جائے تو ہجوم کم پڑ جائے گا۔

اسی حکومت کے ایک وزیر چوہدری فواد جو اپنی زباں طرازی کے باوجود مختلف معاملات بارے کئی بار مناسب بات کر چکے ہیں، نے کہا ہے کہ میں تو کرونا سے متعلق رائے دینے والا کوئی نہیں ہوتا مگر چونکہ میں سائنس و ٹکنالوجی کے محکمے کا وزیر ہوں جس کے تحت کئی سائنسدان اور طبی ماہرین کام کرتے ہیں، ان سبھوں کا کہنا ہے کہ ابھی ہمارے ملک میں کووڈ 19 کی معراج نہیں پہنچی، ان پیشہ ور افراد کے مطابق یہ جون کے پہلے ہفتے سے تیسرے ہفتے تک ہوگی۔ یعنی بہت زیادہ مریض ہوں گے اور اموات کی تعداد لا محالہ بہت بڑھ سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے مصلحت کے تحت بڑھ جائے گی نہیں کہا لیکن میرے منہ میں خاک بات دراصل یہی ہے۔

کل ہی جب میں نے ماسکو میں اہلیہ سے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق جولائی میں ماسکو پہنچنا ممکن ہو پائے گا تو انہوں نے کہا کہ دیکھیے آنے میں جلد بازی سے کام مت لیجیے گا کیونکہ یہاں ایک بار پھر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ یہ ہوتا ہے لوگوں کو مناسب اطلاعات فراہم کرنے والے ملکوں کے رہائشیوں کا رویہ کہ خاتون نے ڈیڑھ ماہ سے ملازمت کو اس لیے خیر باد کہا ہوا ہے تاکہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں جا کر واپس آتے ہوئے بچوں کے بارے میں خطرہ مول نہیں لیں۔

میں نے بھی ان کے اس فیصلے کی تائید کی تھی البتہ کل روس کی نان ریگولر چیف ایپی ڈیمیالوجسٹ ایلینا مالینیکووا نے ایک ٹاک شو میں کہا ہے کہ ٹی وی چینل ماہ جولائی میں وبائی امراض کے ماہرین کو مدعو کرنا چھوڑ دیں گے یعنی وبا سے متعلق وہاں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بھی کرونا کی لہریں اٹھا کریں گی مگر وہ وسیع تر وبا کی شکل میں نہیں ہوں گی۔

روس میں ویکسین بھی تیاری کے آخری مراحل میں ہے، ترجیحات بھی طے کر لی گئی ہیں کہ سب سے پہلے طبی عملے کو ویکسین دی جائے گی تاکہ وہ بے خوف ہو کر مریضوں کا علاج کریں۔ پھر دکانوں میں کام کرنے والوں، ٹیکسی ڈرائیوروں اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرنے والوں کو ویکسین استعمال کرائی جائے گی۔ اس کے بعد باقیوں کو شاید ہی ویکسین استعمال کرانے کی فوری ضرورت رہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *