کرونا سے نہیں، کرونا میں مرنے سے ڈر لگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افتاد سر پر آن پڑے، تو اللہ کی کائنات میں چھپے اسرار و رموز سے بیگانہ رہ کر زندگی بسر کرنے والوں کے لئے ’سازشی تھیوریوں‘ کی خود ساختہ دنیا ہی دائمی پنا ہ گا ہ ہوتی ہے۔ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں، جو نائن الیون حملوں کو عربی نژاد حملہ آوروں اور ان کے پیچھے القاعدہ کی کارفرمائی کو تسلیم نہیں کرتے۔ سینکڑوں تاویلیں ہیں کہ جن میں ان حملوں کے پس پشت یہودی سازش اب بھی سر فہرست ہے۔ کرونا وبا کے پیچھے بھی بہت سوں کو یہودی ہاتھ ہی نظر آ رہا ہے۔

عالمی سطح پر امریکہ اس وائرس کی تخلیق کے لئے چین کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ جبکہ چین کو یہ شک ہے کہ امریکی فوجی ووہان میں یہ وائرس چھوڑ کر گئے ہیں۔ ذاتی طور پر جو سازشی تھیوری مجھے پسند ہے وہ بل گیٹ اور اس کی بیوی کی فاؤنڈیشن پر کرونا وائرس ایجاد کرنے اور اس کے بعد عالمی سطح پر اس وبا کو پھیلانے کا الزام ہے۔ زرخیز دماغوں کا خیال ہے کہ اس سازش کا مقصد یقیناً ان ارب پتی میاں بیوی کا اربوں کی تعداد میں ویکسین بیچ کر مزید اربوں ڈالر کمانا ہے۔

اربوں ڈالر کمائیں گے تو ہی اربوں ڈالر ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کو دنیا میں غربت اور بیماری سے لڑنے کو عطیہ کریں گے۔ ہم جیسے بھی کہ جو پولیو ویکسین کے لئے بل گیٹ کی طرف ہی دیکھتے ہیں، محض اپنے وجدان کی بنا پر جانتے ہیں کہ کرونا ویکسین ابھی سے بل گیٹ کے ہاں تیار پڑی ہے۔ بس انتظار ہے تو اس وقت کا کہ وائرس اچھی طرح دنیا بھر میں پھیل جائے، تاکہ ویکسین کی بکری اچھی ہو۔ وطن عزیز میں اپنے وزیر اعظم عمران خان کو حسب ضرورت کسی بھی وقت مذکورہ بالا سازشوں کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ عمران خان ہی نہیں، کسی کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

کئی ایک زرخیز دماغوں کو تو یقین ہے کہ کرونا نامی کسی بیماری کا سرے سے وجود ہی نہیں! تاہم کئی ایک ایسے بھی ہیں جو یہ تو سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس ایک حقیقت ہے، تاہم وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ 65 کی جنگ کے دوران جو سبز پوش بزرگ راوی کے پل پر بھارتی طیاروں سے گرائے جانے والے بموں کو فضا میں ہی دبوچ لیتے تھے، وہ پیر کرشمہ ساز وطن عزیز میں ایک بار پھر کار فرما ہیں۔ چنانچہ جہاں دنیا بھر میں لوگ وائرس کے ہاتھوں دھڑا دھڑ مر رہے ہیں، ہمارے گرد مگر ایک ایسا غیر مرئی حصار ہے کہ یہ وائرس ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

ابھی کل ہی مفتی منیب صاحب فخر کے ساتھ ٹی وی پر فرما رہے تھے کہ 58 مسلم ممالک میں سے پاکستان واحد ملک ہے جہاں علما نے مسجدیں ویران نہیں ہونے دیں۔ تاہم مفتی صاحب یہ بتانا بھول گئے کہ جہاں دنیا بھر میں سینئر شہری وبا کے دوران گھروں میں رہے اور ان کی حفاظت کے پیش نظر باہر آنے جانے والے دیگر افراد خانہ سے بھی ان کا میل جول محدود کر دیا گیا تھا، ہمارے ہاں مسجدیں زیادہ تر ہمارے بزرگوں کے دم خم سے ہی آباد رہیں۔ ایسا شاید اسلامی تو کیا دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہوا ہوگا۔

کل تک جن سڑکوں اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ بازاروں کے کناروں پر مفلوک الحال بیلچہ برداروں کے غول در غول دیکھنے کو ملتے تھے، آ ج وہاں بند دکانیں کھل چکی ہیں۔ برینڈڈ سٹورز کے سامنے خوشحال خواتین قطار اندر قطار کھڑی نظر آتی ہیں تو کم آمدنی والے گھرانے اندرون شہر بازاروں پر ٹوٹے پڑے ہیں۔ میاں بیوی بچے سبھی امنڈ آئے ہیں۔ بازار عید کی خریداری کرنے والوں سے اٹے پڑے ہیں۔

عید سے چھ دن پہلے میرا ڈرائیور جو راولپنڈی میں ہی بال بچوں کے ساتھ رہتا ہے، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اپنی معمر ممانی صاحبہ کے جنازے میں شمولیت کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ وبا کے پیش نظر سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی تو بولا، ’سر، برادری کے معاملات ہیں‘ ۔ پرائیویٹ ٹیکسی پر فیملی سمیت ٹوبہ ٹیک سنگھ کی راہ لی ہے۔ عید معلوم نہیں راولپنڈی میں اپنے مکان پر آ کر کرے گا یا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہی برادری کے ساتھ!

گزرے موسم سرما میں اس قدر شادیاں بھگتائیں کہ جی اکتا اور تمام تر احتیاط کے باوجود پیٹ جواب دے گیا تھا۔ عجب روایت ہو چلی تھی کہ میزبان سینہ پھلا کر مہمانوں کے مراتب اور تعداد کا ذکر کرتے۔ مہمانوں کو ہی لیجیے، تو مجھ جیسے بھی، جا بجا، اوپر تلے دعوت ناموں کا بظاہر تو گلہ کرتے مگر دراصل شیخی بگھارتے۔ کرونا نے کم از کم یہ سہولت تو بخشی کہ دو چار پیاروں کے بیچ دلہن پیا گھر سدھارے۔ رو رو کر مگر اکثر گھروں کی خواتین نے برا حال کر لیا، ’شادی کوئی ایسے بھی ہوتی ہے!‘ زندگی دوبھر کر کے بسر کرنی ہو تو کوئی ہم سے سیکھے۔

کہیں دور پار سے کرونا کے ہاتھوں کسی کے مرنے کی خبر آتی ہے تو ایک بار سب سہم کر سمٹ جاتے ہیں۔ خبر سنتے ہی بیماری کی علامات خود اپنے جسم پر رینگتے ہوئے محسوس ہوتی ہیں تو توبہ استغفار کے ورود لبوں پر جاری ہو جاتے ہیں۔ شام کو سموسوں کی دکان پر بھیڑ مگر ویسے ہی جمتی ہے۔

وائلڈ لائف دکھانے والے چینلز پر اکثر دیکھا کہ ریوڑ میں سے ایک مرتا ہے تو باقی سب دور پرے، خاموشی کے ساتھ کھڑے کچھ دیر تک اسے جان کنی کے عالم میں تکتے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد مگر سبھی ایک بار پھر چارا چرنے میں جت جاتے ہیں۔ وطن عزیز میں بھرے بازاروں کو دیکھ کر اینیمل کنگڈم کے ریوڑ یاد آتے ہیں۔ آس پڑوس کے اندر کسی فرد میں مرض کی تشخیص ہو جائے تو اس بد نصیب سے سبھی پھدکتے، دور ہی دور سے تکتے اور قدیم زمانوں کے جذامیوں کا سا سلوک برتتے ہیں۔ اطلاع دیے جانے پر سر سے پاؤں تک سفید حفاظتی لباس اوڑھے عملہ یوں نمودار ہوتا ہے جیسے آسمان سے خلائی مخلوق اتر آئی ہو۔ بے چہرہ سفید پوشوں کے نرغے میں مجرموں کی طرح سر جھکائے مریضوں کی ٹولی گھر کے اندر سے سر جھکائے یوں نکلتی ہے کہ آدھی جانیں تو ایمبولینس میں پاؤں رکھنے سے پہلے ہی نکل گئی ہوں۔

اکثر مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔ کوئی عافیت سے گھر لوٹ آئے یا پھر دو فیصد کے قریب جان کی بازی ہار جانے والوں کو وہی سفید لباس والے کڑی تحویل میں لے کر کسی پہر قبرستان میں گاڑ آئیں، اس سے اوروں کو سروکار نہیں۔ جس گھر پر قیامت گزری سو گزری، باقی کا ریوڑ کچھ ہی دیر بعد، بازاروں میں جگالی کرتا پھرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *