درویش کی کٹیا اور ایک درویشنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب اپنے اور پرائے، دوست اور رشتہ دار، درویش سے پوچھتے ہیں کہ کرونا کی وبا میں اس کا کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے کہ درویش اپنی کٹیا میں اکیلا رہتا ہے۔ وہ تنہا ہونے کے باوجود احساس تنہائی کا شکار نہیں ہے۔ وہ اپنا بہت اچھا دوست ہے اس لیے اپنی صحبت سے محظوظ ہوتا ہے۔ وہ پہلے بھی امن اور آشتی سے رہتا تھا اور کرونا وبا کے دوران بھی شانتی اور سکون سے زندگی گزار رہا ہے۔ اسے اب زیادہ یقین ہوتا جا رہا ہے کہ خاموشی، تنہائی اور دانائی پرانی اور پکی سہیلیاں ہیں۔

ایک دوپہر درویش کی کٹیا میں اس سے ملنے ایک درویشنی چلی آئی اور اپنے ساتھ اپنے ہاتھ کا پکا ہوا لذیذ کھانا بھی لائی۔ کھانے کے بعد جب درویش میز سے پلیٹیں اٹھا رہا تھا تو درویشنی نے درویش سے کہا

مجھے ایک جائے نماز چاہیے میں نے نماز پڑھنی ہے۔

درویش نے پہلے تو معذرت کی لیکن پھر کچھ سوچ کر کہا، میرے پاس ایک خوبصوت بیچ ٹاول ہے جس پر کچھوے بنے ہوئے ہیں۔ آپ اسے جائے نماز کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔ درویشنی وہ بڑا سا تولیہ لے کر درویش کی خواب گاہ میں چلی گئی اور نماز پڑھنے لگی۔

جب درویشنی نماز پڑھ چکی تو درویش نے مسکراتے ہوئے کہا، میری خواب گاہ میں پری رخوں نے اور بہت کچھ کیا ہے لیکن کبھی کسی نے نماز نہیں پڑھی۔ اب تو میری خواب گاہ بھی مقدس ہو گئی ہے۔

درویشنی نے کہا کبھی آپ سنجیدہ ہوتے ہیں اور کبھی آپ کی رگ ظرافت پھڑک اٹھتی ہے۔ درویش مسکرایا اور کہنے لگا۔ اے درویشنی! تم تو میری دوست ہو ماضی میں میری ایک درویشنی محبوبہ بھی ہوا کرتی تھی جس پر شاعر سلمان اختر کا یہ شعر صادق آتا تھا

؎ ایک لڑکی جو پوجتی تھی مجھے
اب سنا ہے نماز پڑھتی ہے

درویشنی نے کہا میں نے کبھی کسی انسان کو نہیں پوجا عمر بھر صرف اللہ کو پوجا ہے۔ درویش مسکرایا اور بولا، میں نے کئی مذہبی عورتوں کو دیکھا ہے جو اللہ کو میاں بنا دہتی ہیں اور میاں کو مجازی خدا اور پھر سارا دن اپنی قسمت کا رونا روتی رہتی ہیں۔

درویشنی نے درویش سے کہا، میں آپ کی نئی نئی دوست بنی آپ یہ بتائیں کہ آپ کی زندگی کا کیا فلسفہ ہے؟
درویش نے کہا۔ ۔ ۔ یہ فلسفہ بالکل سیدھا سادہ ہے
مل جائے تو شکر۔ ۔ ۔ نہ ملے تو صبر
اور
؎ یوں گزارو ہر ایک دن گویا
زندگی کا یہ آخری دن ہے

جب سے کرونا وبا کا تاریک سایہ ساری دنیا پر چھایا ہے میں اپنی زندگی کے بارے میں غور وخوض کر رہا ہوں اور دو نتائج تک پہنچا ہوں۔ میری زندگی میں ایک چیز کم اور دوسری چیز زیادہ ہو گئی ہے۔ موت کا خوف کم اور دوستوں کی محبت کا احساس زیادہ۔

درویش کو اگر اپنے مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے موت لینے آ گئی تو وہ بخوشی اس کے ساتھ چلا جائے گا۔ اس نے ایک بھرپورزندگی گزاری ہے۔ اسے زندگی سے نہ کوئی شکوہ ہے نہ شکایت۔ اسے کوئی پچھتاوا بھی نہیں۔

اسکا ضمیر صاف ہے اسی لیے وہ تنہائی میں گنگناتا ہے
؎ بس ایک ثبوت اپنی وفا کا ہے مرے پاس
میں اپنی نگاہوں میں گنہگار نہیں ہوں
درویشنی اس کی باتیں سن کر مسکرائی بھی اور حیران بھی ہوئی۔

جاتے ہوئے درویشنی نے کہا، کیا میں اگلی دفعہ اپنے ساتھ اپنی جائے نماز لا سکتی ہوں؟ درویش نے کہا، جائے نماز ہی نہیں تسبیح بھی لا سکتی ہیں۔

درویشنی ہنسی اور کہنے لگی، کیا آپ جانتے ہیں مجھے آپ کی کون سی عادت سب سے زیادہ پسند ہے؟ ،
نہیں مجھے نہیں پتہ، درویش نے جواب دیا۔

آپ خود تو دہریہ درویش ہیں لیکن آپ کی کٹیا میں آپ سے ملنے مذہبی، روحانی اور سیکولر سب درویش آتے ہیں اور آپ سب کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

درویش نے کہا، جب آتش جوان تھا تو اس نے قتیل شفائی کی کتاب۔ ۔ ۔ مطربہ۔ ۔ ۔ میں، جو ویشیاؤں کی زندگی کے بارے میں تھی، ایک شعر پڑھا تھا جو اسے بہت پسند آیا تھا اسی لیے یاد رہ گیا۔ وہ شعر تھا

؎ برا نہ مانو تو کہہ دوں خدا کے گھر کی طرح
کھلا رہا ہے مرا در بھی ہر بشر کے لیے

خدا کے گھر، ویشیا کے گھر اور درویش کے گھر میں یہ قدر مشترک ہے کہ ان کا در ہر انسان کے لیے کھلا رہتا ہے۔ راز کی بات یہ ہے کہ ویشیا اور درویش دونوں انسان دوست ہوتے ہیں اسی لیے وہ رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے تعصب سے بالاتر ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حالات پاپی کو پارسا اور پارسا کو پاپی بنا سکتے ہیں۔

درویشنی نے کہا، اے درویش آپ کی ایسی باتیں ہی تو سب کا دل موہ لیتی ہیں اور جب جاتے وقت آپ ان سے پوچھتے ہیں، ریپیٹ یا ڈیلیٹ؟ تو سب کہتے ہیں، ریپیٹ، اور وہ بار بار آپ سے ملنے آتے ہیں اور درویش کی کٹیا ہمیشہ آباد رہتی ہے۔ آپ تنہا ہو کر بھی کبھی تنہا نہیں ہوتے آپ اپنے مداحوں اور اپنی پرستاروں میں گھرے ہوتے ہیں۔ آپ کی کٹیا میں ایک راز پوشیدہ ہے اور وہ راز یہ ہے کہ ؎ یہاں ہونا نہ ہونا ہے۔ ۔ ۔ نہ ہونا عین ہونا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 325 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *