کرنل کی بیوی ہونا چھوٹی بات تو نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تو اچھا ہوا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس اورنگزیب صاحب نے آخری لمحات میں موٹر کار کے سامنے سے ہٹ کر عقل سے کام لے لیا ورنہ کرنل کی بیوی اسے کچل کر اگے جانے میں کسی بھی قسم کے خوف سے آزاد تھی۔ کرنل کی بیوی پانچ، چھ منٹ سے بار بار اس بات کا راگ الاپ رہی تھی کہ جب میں نے بتا دیا ہے کہ میں کرنل کی بیوی ہو تو پھر تم لوگ راستہ کھول کیوں نہیں رہے؟ کرنل کی بیوی کو غصہ یونہی نہیں آیا تھا، وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت پاکستان کے سرحدات کے اندر ہے، ایک کرنل کی بیوی ہے اور پھر بھی یہ پولیس کی وردی میں ملبوس اورنگزیب صاحب اس کے جانے کے لئے راستہ نہیں کھول رہے۔

اورنگزیب صاحب کو اوپر سے حکم ہے کہ کسی کو بھی آگے نہیں جانے دینا لیکن کرنل کی بیوی کے ذہن میں ایک حاضر سروس کرنل کی بیوی ”کسی بھی“ کے زمرے میں تو نہیں آتی نا! یہ تو پاکستان ہے جہاں کرنل کی بیوی ہونا کوئی چھوٹی بات نہیں اور چھوٹی بات ہو بھی کیسے، کرنل کے بس میں یہاں کیا نہیں ہوتا۔ کرنل تو کرنل، یہاں تو کیپٹن بھی اپنی بیوی کے ساتھ اس بچے پر سرعام تشدد کردیتا ہے جس نے اس کیپٹن صاحب کے بیٹے سے سکول میں جھگڑا کیا تھا۔ اب سوچیں کیپٹن اور کرنل کی بیویاں ایسی ہیں تو جرنیلوں کی کیسی ہوگی؟ جرنیل کیسے کیسے ہوں گے؟ جرنیل کے سر میں استبداد کا نشہ کون سے بام پر ہوگا؟ پولیس وردی میں ملبوس اورنگزیب صاحب تو پاکستان میں رہنے والا ایک سویلین ہے اور سویلین کی قیمت ایک کرنل کی بیوی کے سامنے کیا ہوگی۔

جس جمہوری ملک کے ریاستی منتخب شدہ وفد کے ساتھ عالمی سطح پر سائے کی طرح وردی منڈلاتی ہو اس ملک میں وردی اور وردی والوں کی اہمیت کا اندازہ کسے نہیں ہوگا۔ ملک کے تقریباً آدھے سے زیادہ فیصلہ ساز کرسیوں پر جس وردی میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، اس وردی کے حامل ایک کرنل کی بیوی کے لئے پولیس والوں کی وردیاں اتروانے کی دھمکی دینا کون سی بڑی بات ہے۔ بلوچستان میں، فاٹا میں اور سوات میں سویلین کو کیا کیا نہ جھیلنا پڑا، وہاں کے سویلینز نے شکایتیں بھی درج کیے، آواز بھی بلند کی، احتجاج بھی ریکارڈ کرائے لیکن کیا ہوا؟

آج بھی وہاں پر وار پالیٹکس کے بنائے گئے خول سے باہر سوچنے والا ہر بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے، یا مار دیا جاتا ہے۔ چاہے سویلین پولیس میں ایس پی ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر اس میں زرہ برابر بھی آواز اٹھانے والوں سے ہمدردی ہوگی تو اسے مملکت خداداد کے دارالحکومت سے اغواء کر لیا جائے گا اور کچھ دن بعد اس کی لاش سرحد پار، افغانستان سے برآمد ہوگی۔ حقیقت کو سامنے لانے والوں کا راستہ روک لیا جائے گا، سچ بولنے پر پابندی لگادی جائے گی اور یوں کچھ دن بعد یہ بلڈی سویلینز بھول جائیں گے کہ کچھ ہوا بھی تھا۔ ہم تو اس ملک میں بڑے ہو کر اب ان تماشوں کے عادی ہو گئے ہیں۔

اورنگزیب صاحب نے عقل سے کام لے کر جان بچائی ورنہ کرنل کی بیوی اسے کچل کر بھی اگے جاسکتی تھی۔ پھر چند دنوں تک سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگنی تھی، مین سٹریم میڈیا میں حادثے کو ایک اور رنگ میں پیش ہونا تھا اور پھر کچھ دنوں بعد ہم سب سے یہ بات بھول جانی تھی کہ اورنگزیب صاحب کی بیوی اور بچے زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *