محبت کی شادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیانے کہتے ہیں کہ جن شادیوں سے پہلے بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں وہ اکثر ناکام ہی ہوتی ہے، اس لئے اوقات سے بڑھ کر وعدے نہیں کرنا چاہیے، مثلاً لڑکے لڑکیوں پر اپنا رعب جمانے کے لئے وعدے کرتے ہیں کہ میری آمدن بہت ہے، تم کو سونے سے لاد دوں گا، بڑا گھر بنا کر دوں گا، بڑی گاڑی بھی دوں گا، نوکر چاکر تمہارے آگے پیچھے ہوں گے، امریکہ اور یورپ کے وزٹ ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ مگر شادی کے بعد جب وہ وعدے پورے نہیں کیے جاتے تو لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں۔

اور ایسی کئی شادیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ اور پھر جن کے بغیر پل بھی نہیں گزارا جا سکتا ان سے عدالتوں میں مقدمہ دائر کر کے جان چھڑوانا پڑتی ہے۔

کچھ ایسا ہی حال ہمارے ہینڈسم وزیر اعظم جناب عمران خان نیازی کا ہواہے۔ جب تک موصوف اپوزیشن میں تھے تو دن رات جلسوں، ریلیوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں عوام کو سہانے خواب اور سبز باغ دکھایا کرتے تھے کہ پچاس لاکھ گھر بنواوں گا، ایک کروڑ نوکریاں دوں گا، مہنگائی نہیں کروں گا، پولیس اور عدلیہ کے نظام میں اصلاحات کروں گا، کسی کرپٹ کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاؤں گا، نہ کسی کرپٹ کو چھوڑوں گا، ایسے حالات پیدا کروں گا کہ لوگ باہر کے ممالک سے نوکریاں کرنے پاکستان آیا کریں گے، ہرے پاسپورٹ کی پوری دنیا میں عزت اور مقام ہو گا، تعلیم و صحت کی معیاری سہولیات دی جائیں گی وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔

اور دبے الفاظ میں اپنا موازنہ مہاتیر محمد اور طیب اردوان سے بھی کرتے رہے۔

مگر شاید موصوف کو علم نہیں تھا کہ یہ خالہ جی کا گھر نہیں ہے، اگر کوئی اس ملک کو واقعی سنوارنا چاہتا ہے تو اسے پیٹ پر پتھر باندھنا ہوں گے اورکانٹوں پر چلنا ہو گا۔ اور وہ بلا کا مستقل مزاج ہوگا۔

مگر موصوف میں وہ حوصلہ کہاں۔ جس کی موقف بدلنے کی رفتار اتنی زیادہ ہو کہ اس کا نام ہی یوٹرن خان پڑ گیا ہو۔ ۔ ۔ وہ کیا خاک تقدیر بدلے گا۔ ۔ ۔ تو انجام کچھ محبت کی شادی جیسا ہی ہوا ہے۔ اب عوام نکو نک آئی پڑی ہے کہ جس کرب کا اب شکار ہوئے ہیں ایسا تو کسی بدترین دور میں بھی نہیں ہوا۔ ڈالر کو ایسے پر لگے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ تیل، گیس اور بجلی کی قیمتیں ہر ماہ بڑھتی جا رہی ہیں۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دگنا بل آ رہا ہے۔ سردیوں کی سبزیاں ہمیشہ ہی سستی ہوتی تھیں مگر اس دفعہ کوئی چیز سو روپے سے کم نہیں ہے

دوائیاں مہنگی، پھل مہنگا، سبزیاں مہنگی۔ مہنگائی کا جن ہے کہ بے لگام ہوتا جا رہا۔ ۔ ۔
تنخواہ ایک بار بڑھتی ہے مگر مہنگائی آئے روز بڑھ رہی ہے۔
چھوٹے کاروبار ٹھپ ہو رہے اور ان سے وابستہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہو تے جا رہے ہیں۔
نوکریاں دینا تو دور کی بات ہے۔ جن کے پاس نوکریاں ہیں ان کے لیے نوکریاں بچانا محال ہو تا جا رہا ہے۔
اوپر سے کرونا نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ ۔ ۔ نالائقیاں اور نا اہلیاں کھل کے سامنے آ رہی ہیں۔ ۔ ۔

مگر وزیراعظم اب بھی عوام کو 2020 کے حوالے سے قوم کو ویسے ہی لارے لگا رہے ہیں کہ آپ لوگوں نے گھبرانا نہیں۔ 2020 میں سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔ ۔ ۔ گویا ان کے نزدیک یہی تبدیلی کا سال ہے۔ ۔ ۔ چاہے تو اس دفعہ عوام کے پاس جو لنگوٹ بچا ہے وہ بھی اتر جائے۔ ۔ ۔

آگر یہ ہی تبدیلی تھی تو ایسا تو سابقہ حکومتوں کے ادوار میں بھی ہوتا رہا ہے۔ ۔ ۔ پھر پچھلے بائیس سال ظلم کی چکی میں پسی عوام کے جذ بات کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا؟

آئے دن ناکامیوں کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔ یہی تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ابھی ناتجربہ کاری کے باعث حکومت کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی۔ ۔ ۔ کہ کرنا کیا ہے۔

کب کرنا ہے؟ کیسے کرنا ہے؟ ۔ ۔
اور اوپر سے نئے نئے سکینڈل۔ ۔ ۔
حریم شاہ، صندل خٹک حکومتی ٹیم سے تو بہرحال بہتر ہیں چلیں کچھ کر تو رہی ہیں۔ ۔ ۔

عمران خان اگر کچھ نہیں کر پا رہا یا کچھ نہیں سمجھ پا رہا تو عثمان بزدار اور محمود خان جیسے سائیں لوگوں کو کیا خاک کچھ سمجھ میں آتا ہو گا؟

بیوروکریسی بے لگام ہو چکی ہے۔ ۔ ۔ شادی ٹوٹنے کا سامان مکمل ہے۔ اعلان ہونا باقی ہے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے
اس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *