عید کی آمد اور ایک غریب سے میری ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے ایک غریب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم دونوں نے کافی طویل گفتگو کی اور باتوں باتوں میں مجھے ایک عجیب احساس ہوا جس کا میں لمبے عرصے سے متلاشی تھا۔ اس احساس نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ میں سوچنے لگا یہ تو آسان سی باتیں ہیں پھر کیوں نہ ہم مل کر چار حروف والا یہ لفظ اپنی قومی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لئے تلف ہی کردیں۔

غریب کا حلیہ واقعی غریبوں والا تھا۔ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس شاید اس کا کبھی اپنے بکھرے بالوں کی طرف دھیان ہی نہ گیا تھا۔ میری نگاہیں جب جوتوں پر پڑی تو وہاں بھی فریاد کی صدائیں تھیں۔ میری خواہش تھی کہ گفتگو کے آغاز کا شرف مجھے حاصل ہو لیکن بات اس نے شروع کی۔

میرے جیسے لوگ ہمیشہ روٹی کے محتاج نہیں ہوتے۔ ہماری تکلیف صرف بھوک کی وجہ سے نہیں۔ ہم کپڑوں کا ٹینشن بھی اتنا نہیں لیتے جتنا یہ لوگ سوچتے ہیں۔ ہمارا بس ایک ہی المیہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ عام انسانوں والا سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔

بھائی چارہ جس چیز کا نام ہے اس کے لئے ہم صدیوں سے ترس رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ محبت سے بیٹھنے کی گنجائش موجود نہیں رہتی۔ معاشرتی رسم جب ادا ہوتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ پیچھے ہی رکھا جاتا ہے۔

غم اور خوشی دونوں مواقع پر ہم صرف صاحب ثروت لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ایسے میں ہماری توجہ خود پر ہوتی ہے نہ اپنے بچوں پر۔ ہم پیٹ کی پوجا کے لئے صبح گھر سے نکلتے ہیں تو سارا دن پگھلتے ہیں اور پھر معاشرے میں ہم سے صرف گلے ہوتے ہیں جن کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایک عمر بیت جاتی ہے۔

ہم ناراض اس لئے نہیں کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ ہم ناراض اس لئے ہیں کہ ہم کو اور ہماری نسلوں کو بس غریب ہی سمجھا جاتا ہے۔

اب دیکھو نا عید سر پر ہے۔ عید کے دن ہم سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ عید گزارنے کے اخراجات ہیں کہ نہیں لیکن عید کے دن صبح سویرے خدمت کے لئے ہمیں بھلایا جاتا ہے۔ ہم اس گہماگہمی میں دوسروں کی خوشیاں دیکھ کر یقیناً خوش ہو جاتے ہیں لیکن ہم اور ہمارے اپنے بچے ہمیشہ ان خوشیوں سے محروم ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ہم محنت مزدوری نہیں کرتے ہم خوب دل لگا کر محنت کرتے ہیں لیکن ہمارے بچے بھی بچے ہی ہوتے ہیں ان کو یہ نہیں سمجھایا جاسکتا کہ جیب کسی طوفان کی ضد میں آیا ہے۔

رمضان المبارک کا پچیسواں روزہ تھا۔ ارد گرد سب لوگ اسی پیٹ کی پوجا میں مصروف تھے جس کا ذکر غریب کر رہا تھا۔ میں نے بولنے کے لئے لفظ تلاش کیے لیکن کچھ بول نہ سکا۔ اس کو بھی جلدی تھی اس لئے اپنی ریڑھی لے کر روانہ ہوا۔ وہ زندہ انسانوں کے جم غفیر میں روپوش ہوا اور میں خود سے بے شمار سوالات پوچھنے لگا۔

ہم کیوں نہ اس عید پر تاریخ بدلنے کی کوشش کریں۔ ہمارے اردگرد بے شمار ایسے لوگ ہیں جو دو وقت روٹی کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں۔ کیوں نہ اس عید کے موقع پر ہم ان تمام لوگوں کو حصہ دار بنائیں جن کے پاس صرف محرومیاں ہیں۔ ہمارے پاس ضرورت کی کتنی چیزیں ہیں جو بے کار پڑی ہوئی ہیں۔ آپ یقین کیجیئے ہمارے کپڑے، ہمارے جوتے اور ہمارے جیب کے اضافی پیسے اگر اس بار ہم استعمال میں لائیں تو بے شمار لوگوں کی مستقل احساس کمتری ختم ہو سکتی ہے۔

ہم کتنے برسوں سے نظام اور ناظم کا رونا رو رہے ہیں لیکن خود اپنی رعیت کا کبھی نہیں سوچتے۔ ہم ملک کو ٹھیک کرنے سے تو رہے لیکن آس پاس موجود لاکھوں لوگوں میں سے چند کو تو خوش کر سکتے ہیں۔

عید کی آمد ہے ہمارے بازار ہر قسم کی رونقوں سے بھرپور ہیں۔ جن کے پاس وسائل ہیں وہ امپورٹڈ گاڑیوں میں بچوں سمیت بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور پورے خاندان کی ہر قسم کی فرمائشیں پوری کرتے ہیں لیکن ان چمکدار گاڑیوں کے آس پاس ایسے ہزار بچے موجود ہوتے ہیں جن کو اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی کہ ہم غریب ہیں اور یہی بچگانہ خصلت ان کے ذہنوں کو سوالات سے بھر دیتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے ہم بھلائی کے ان کاموں میں بھی سیاست شامل کردیتے ہیں۔

کیا ہمارے سامنے ایک پوری محروم نسل تیار نہیں ہو رہی۔

ہم کسی کو کیا دے سکتے ہیں۔ کوئی انفرادی طور پر نظام کو صحیح رستے پر شاید نہ ڈال سکے لیکن نظام تو بنتا ہی انفرادی رویوں سے ہے۔ ہم کیا دے سکتے ہیں کچھ خاص نہیں لیکن ان محروموں کو اگر اپنی جمع پونجیوں میں تھوڑا سا بھی حصہ دے دیں تو ہماری عید بھی حقیقی عید بن سکتی ہے۔

ہم روز دیکھتے ہیں غریب کی عید صرف اس وقت حقیقی عید بن جاتی ہے جس وقت اس کے جگر گوشوں کی خوشیاں پوری ہوں۔

ہم اس عید کو بہت آسانی کے ساتھ ان لوگوں کے لئے آسان بنا سکتے ہیں۔ ہر گاؤں میں نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ یہ نوجوان اگر ایک گروپ بنا لیں اور اس میں باقاعدہ ایک پلاننگ شامل کر لیں کہ گاؤں کے جتنے بھی صاحب ثروت لوگ ہیں ان سے ان کی استطاعت کے مطابق پیسے لیں گے اور جتنے پیسے جمع ہوں گے اس کو پورے گاؤں کے غریبوں میں بانٹیں گے تو مشکل نہیں کہ تھوڑا ہی سہی لیکن غریب کی عید بھی حقیقی عید بن جائے۔ یہ ایک انتہائی آسان کام ہے۔ ہمارے پاکستان کے عوام میں یہ ایک بڑی اچھی عادت ہے کہ اللہ کے نام پر دل کھول کر دیتے ہیں۔ یہ آسان کام کرنے کے بعد آپ یقین کریں جو حقیقی خوشی ملے گی اس کی وجہ سے اس عید کا مزہ ہی دوبالا ہو جائے گا۔

آخری بات کیوں نہ اس عید پر غریبوں کو حجروں میں تکلیف دینے سے گریز کیا جائے۔ مہمانوں کو چائے پانی خود بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس بار اگر ان کی عید اپنے بچوں کے ساتھ گھروں ہی میں گزرے تو یہ ہماری قومی زندگی کا ایک نیا آغاز ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply