اسلام اور مسلمانوں کا سنہرا دور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مسلم دنیا میں نویں صدی سے تیرویں صدی تک کے دور کو سائنسی، مذہبی، فلسفیانہ اور ثقافتی ترقی کا سنہرا دور مانا اور منایا جاتا ہے، جن کا پیمانہ اور گہرائی بنی نوع انسان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ عرب کے بنجر صحرائی زمین سے اس کی شہابی اٹھان کے بعد، مسلم تہذیب نے سپین سے ہند تک کئی الگ الگ قدیم ثقافتوں، مذاہب اور دانشورانہ روایات کا احاطہ کر لیا۔ اس دور میں دور افتادہ تہذیبوں کی پچھلی کامیابیوں کو یکجا کیا گیا تاکہ ان کا موازنہ کر کے سائنسی دریافتوں کا ایک نیا سنہرا دور تخلیق کیا جائے۔ دنیا میں کہیں بھی کسی میں اتنی قابیلئت نہ تھی کہ اتنے سارے الگ اور مختلف تہذیبوں کو یکجا کر کے مقامی دانشوروں کی مدد سے ان میں موجود کمی کو پورا کیا جائے۔ نتیجتاً مسلمانوں کی اس کاوش نے دنیا کے جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور علوم و فنون کی بنیاد رکھی۔

|| دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ”جامعہ القروئیین“ کی بنیاد 859 عیسوی میں ایک مسلم خاتون ”فاطمہ الفہری“ نے ”فیض۔ مراکش“ میں رکھی ||

”عباسی“ دوسرے سیاسی جماعتوں کی طرح مثبت اور مثالی مستقبل کے وعدوں کے بلبوتے پر اقتدار میں آئی۔ ان کی مساوی معاشرے کی یقین دہانی اور خدا ترس قیادت نے خلافت امیہ کے منتشر ہونے کے بعد نمایاں کیا۔ 800 عیسوی کے شروعات میں ان کی حکومت آئی جو بحر اوقیانوس سے بحر ہند تک پھیلی ہوئی تھی۔ ”بغداد“ ان کا دارلخلافہ تھا جو پوری دنیا سے آئے ہوئے لاکھوں لوگوں کا مسکن تھا، جو یونانیوں، قبطیوں، فارسیوں اور اہل ہند کے مختلف تہذیبوں اور روایتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ عباسیوں کے لئے یہ ایک نادر موقع تھا کہ اس مثالی معاشرہ کی آغاز کی جائے جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ ساتواں عباسی خلیفہ المامون ( 813 ء تا 833 ء) نے سوچا کہ مستقبل کا مثالی معاشرہ سائنس اور عقل پسندی کے بغیر لاحاصل ہے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ طے پایا کہ سلطنت میں موجود سائنسی علوم کے بکھرے ہوئے دھاگوں کو ایک مرکزی مقام پر جمع کر کے ایک لڑی میں پرویا جائے۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر مسلم دنیا کے بڑے بڑے مفکر ایک دوسرے سے سیکھنے اور سکھانے کے لئے قریب لایا جائے تو علم و شعور کے لامحدود مواقع کھل سکتے ہیں۔

اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے بغداد میں ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جو ”بیت الحکمہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا دائرہ کار اتنا وسیع تھا کہ یہ اب تک جدید علوم کے بنیادی افہام و تفہیم کے تعریفوں کو للکارتی ہے۔ یہ ہمہ وقت ایک یونیورسٹی، لائبریری، ادارہ برائے ترجمہ اور تحقیقی لیبارٹری تھی جو سب کے سب ایک چھت کے زیر سایہ دستیاب تھے۔ اسکالرز کی دل جوئی کے لئے یہ اعلان گیا کہ اگر کسی نے دوسرے زبان میں لکھی گئی کتاب کو عربی زبان میں ترجمہ کر کے شایع کیا تو اس کتاب کے وزن کے حساب سے اسے اتنا سونا بطور انعام دیا جائے گا۔ خلیفہ مامون کی اس پروجیکٹ کے بارے میں سن کر پوری دنیا کے مسلم اور غیر مسلم نامور سکالرز نے بغداد کا رخ کیا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ، فارس، مصر، ہند اور بازنطین کے بڑے اور با اثر لوگ ایک ساتھ جمع ہوئے اس عظیم مقصد کے لئے کہ سائنس کو ان راستوں پر استوار کیا جائے جس سے پوری بنی نوع انسان استفادہ کر سکے۔

المامون تاریخ میں بمشکل واحد انسان گزرا ہے جنہوں نے سائنس پر خصوصی توجہ دی۔ جو چیز بیت الحکمہ اور مسلمانوں کے اس سنہرے دور کو منفردبناتی ہے وہ ان کا یہ مثالی خیال تھا جس کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا۔ اسلام سے پہلے کہیں بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک اسکالر درس و تدریس کے لئے کسی دوسرے ملک جا بسے۔ اگر کوئی چلا بھی جاتا تو زبان درمیان میں رکاوٹ بنتی۔ یہ اس سنہرے دور کی دوسری منفرد پہلو تھی کہ عربی ایک مخلوط زبان کی حیثیت اختیار کر گئی جس نے مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کو یکجا کیا۔

ویسے بھی ایک مسلمان کا تعلق چاہے کسی بھی ملک کے کسی بھی قوم سے تھا اسلام کے بنیادی تعلیمات کو حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں سے سرانجام دینے کے لئے بنیادی عربی کا معلوم ہونا اور قرآن کی تلاوت کے لئے سیکھنا اشد ضروری تھا۔ عربی نے نہ صرف ایک عبادتی زبان کی حیثیت سے خدمات سرانجام دی بلکہ یہ اس وقت کے سائنس دانوں کی سائنسی تحقیق اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم کلام ہونے کے بھی واحد زبان تھی۔

تیسری انفرادی وجہ حضور ﷺ کے علم حاصل کرنے پر تاکید تھی۔ کائنات کے وجود پر سوچ بچار اور سائنسی تحقیق اللہ‎ ہی کی عبادت میں شامل ہے۔ قرآن پاک کے کئی آیات اور حضور ﷺ کے بہت سے ارشادات دینی، دنیاوی اور سائنسی علوم حاصل کرنے پر زور دیتی ہیں۔

|| حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ‎ رب العزت اس شخص کے لئے جنت میں جانے کا راستہ آسان بناتا ہے جو علم کی تلاش میں نکلتا ہے (مفہوم) ||

حضور ﷺ کے دنیا سے رحلت فرمانے کے چند سو سالوں بعد ان مسلمان سائنس دانوں کی سائنسی تحقیق اور مطالعہ کی بڑی وجہ اللہ‎ کی خوشنودی حاصل کرنا تھی۔ ان کی ہر تحقیق کی ابتداء قرآن کی آیات سے ہوتی تھی۔

مسلمانوں کے اس سنہرے دور میں جن سائنس دانوں نے اور جن فیلڈز میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے ان میں سے چند کا انتہائی مختصر ذکر ملاحظہ کیجئے۔

1: محمد بن موسیٰ الخوارزمی ( 780 ء تا 850 ء)

آپ بیت الحکمہ میں کام کرنے والے پہلے سائنس دانوں میں شامل ہیں۔ آپ نے ریاضی اور فلکیات میں بنیادی خدمات سر انجام دیے۔ آپ نے ریاضی کے ہندسوں میں زیرو یعنی صفر کا اضافہ کیا۔ آپ کی سب سے بڑی شراکت الجبرا پر لکھی گئی کتاب ”کتاب الجبر و المقابلہ“ ہے۔ دراصل الجبرا کا لفظ ان کی کتاب کے عنوان ”الجبر“ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ”تکمیل“ ہے۔ آپ کی بہت سی تالیفات اب تک کافی مقبول ہیں۔

2: عمر خیام ( 1048 ءتا 1131 )

آپ کا پورا نام ابوالفتح عمر خیام بن ابراھیم ہے۔ آپ علم ریاضی، علم ہئیت اور شعر و سخن کے ماسٹر رہے ہیں۔ آج دنیا جو جی۔ پی۔ ایس سسٹم سے استفادہ کر رہی ہے اس میں عمر خییام کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

3:البیرونی ( 973 ء تا 1048 ء)

ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی بیک وقت ریاضی دان، کیمیا دان، طبیعات دان، ماہر فلکیات، انسانیات، دوا سازی، لسانیات، مترجم اور مؤرخ تھے۔

آپ کی لکھی گئی کتابیں آج تک پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں۔
4: بو علی سینا ( 980 ء تا 1037 ء)

علی الحسین بن عبداللہ بن الحسن بن علی بن سینا کا شمار اسلام کے سنہرے دور کے سب سے اہم اسکالرز اور ادیبوں میں کیا جاتا ہے۔ آپ کو آج تک مغرب میں ”اویسینا“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ طب، فلسفہ، علم الکلام، طبیعات، سائنس اور شاعری کے ماہر رہے ہیں۔ آپ نے تقریباً 450 کتابیں لکھی۔ آپ کو طب کی دنیا کا آفتاب مانا جاتا ہے۔ آپ کی لکھی گئی بہت سی کتابیں اب تک پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں۔

5: ابن الہیثم ( 965 ء تا 1039 ء)

ابو علی الحسن بن الہیثم انجینرنگ، طبیعات، فلکیات، ریاضی اور علم الادویات کے مایہ ناز سائنس دان تھے۔ آپ کی وجہ شہرت آنکھوں اور روشنی کے متعلق دور رس نتائج اخذ کرنے والے تحقیقات ہیں۔ آپ کے دور میں ریاضی کا کوئی بھی سائنس دان آپ کے پائے کا نہ تھا۔ آپ نے بصریات میں وہ کارنامے سر انجام دیے جو آج تک زبان زد عام ہے۔ کاپر نکس، گیلیلیو اور نیوٹن وغیرہ جیسے سائنس دانوں نے آپ کے فلکیات پر کیے گئے کام کو سراہتے ہوئے آپ کی وضاحت کردہ اصولوں پر مزید کام کیا۔ آپ نے بہت سارے ایجادات بھی اپنے نام کیے۔

الغرض آج کی سائنس مسلمانوں کے آج سے تقریباً ایک ہزار سال گزرے سنہرے دور کی مقروض ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالغفار نوشہرہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *