جواب آپ بھی دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز پاکستان ایک مرتبہ پھر تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ (ویسے بر سبیل تذکرہ جب سے ہوش سنبھالا ہے پاکستان کو نازک ترین دور سے گزرتے ہی دیکھ رہے ہیں ) ایک طرف کرونا نے پوری قوم کو بے چین کر رہا ہے دوسری طرف ہمارے ہینڈ سم اور ماہر فن وزیر اعظم صاحب کی رہنمائی نے سونے پر سہاگا کیا ہوا ہے۔

پاکستانی سیاست کا سب سے آزمودہ اورآسان طریقہ یہ ہے کہ جب اپنی کوتاہیوں اورغلطیوں کے سبب سفینہ حکومت ڈوبنے کو آ پہنچے پاکستانی سیاست دان فوراً مجاہد ختم نبوت بن جاتے ہیں اور احمدیوں کے درپے ہو جاتے ہیں۔ عوام تمام مسائل بھول کر اس کام کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ نواز دور حکومت میں کبھی کیپٹن صفدر للکارتے نظر آئے، کبھی خادم رضوی ڈی چوک پر تماشا کرتے دکھائی دیے۔ مولوی سیاست دانوں کو بھی جب کوئی بات نہ ملے تو ختم نبوت کے چوکیدار بن جاتے ہیں۔

گزشتہ کچھ دنوں سے بھی یہی تماشا ایک دفعہ پھر جاری ہے۔ پہلے کسی احمدی ذمہ دار سے پوچھے بغیر ان کو ایک لاوارث اور لاچار اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا سوچا اور حامیوں سے داد و تحسین وصول کرنا شروع کر دی کہ دیکھو ہم نے احمدیوں کو اقلیت ثابت کر دیا۔ مخالفین کی ہوہو کار سن کر یہ فیصلہ بھی واپس لیا اور دوبارہ داد وصول کی کہ دیکھا احمدی چور دروازے سے پارلیمان میں داخل ہونے والے تھے ہم نے ان کو روک کر دکھا دیا۔ کسی احمدی سے ہی پوچھ لیتے کہ ”بھائی کیا اس کمیشن میں شامل ہونا بھی ہے کہ نہیں“ ۔ واہ رے حکومت اور سیاست۔

بات صرف حکومت تک ہی نہیں بلکہ گالیوں کے اس حمام میں ہر کوئی اپنی مرضی سے اشنان کر کے اپنی پاکیزگی ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس میں صحافی اینکر، اداکار، ڈرامہ مصنف، وکیل، معزز جج حضرات، سیاست دان، عوام الناس وغیرہ سب شامل ہیں۔ حتی کہ وقار ذکا جیسے تھڑا چھاپ لوگ بھی لوگوں کے اسلام اور کافر ہونے پر قاضی بنے بیٹھے ہیں۔

میری تمام قارئین سے نہایت عاجزانہ التماس ہے کہ اگر آپ کے نزدیک پاکستانی قومی اسمبلی کے فیصلے کی وجہ سے احمدی مسلمان نہیں اور تو کسی قسم کی گالی گلوچ کے بغیر براہ کرم ان سوالات کے جوابات دے دیں۔

1۔ 1953 میں پاکستانی علماء مسلمان کی کوئی تعارف پیش نہیں کر سکے۔ 21 سال بعد مسلمان کی تعریف بیان کرنے ہی لگے تو اس میں یہ نہ بتا سکتے کہ مسلمان کون ہوتا ہے۔ صرف یہ بتا دیا کہ مسلمان کون نہیں ہوتا؟ کیوں؟

2۔ جن علماء نے اسمبلی میں بیٹھ کر احمدیوں کو کافر قرار دیا، وہ سب ایک دوسرے کو پہلے کافر قرار دے چکے ہوئے تھے۔ پھر آئینی ترمیم احمدیوں کے خلاف ہی کیوں کی گئی۔

3۔ جو علماء 1974 میں اسمبلی میں بیٹھے تھے وہ یا ان کے بزرگ جناح صاحب کو قائد اعظم کی بجائے کافر اعظم قرار دے چکے تھے۔ اگر آج آپ کو ان کا فتویٰ احمدیوں کے خلاف قبول ہے تو کیا آپ کو ان کا فتوی قائد اعظم کے خلاف بھی قبول ہے۔

میرے تمام معزز پاکستانی حضرات۔ مذکورہ بالا تحریر میں سے کسی بات کا حوالہ چاہیے تو خاکسار آپ کو مہیا کر دے گا۔ براہ کرم آپ کا جواب شائستگی کی حدود سے باہر نہ ہواور بات دلیل سے ہو تو انسان کے دل کو اپنی طرف مائل کرتی ہے۔ براہ کرم جواب آپ بھی دیں، صرف احمدیوں کی جواب طلبی ہی نہ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *