عید کی خریداری کرتے ہوئے کورونا مت خریدیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ لوگوں کے کاروبار بند رہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے ملازموں کو تنخواہ دینے کے لئے پیسوں کا بندوبست نہیں ہو پا رہا۔ ایسے میں کاروباری طبقہ بڑی بے چینی کے ساتھ لاک ڈاؤن ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ شروع ہوتے ہی عموماً عید کی خریداری کا ماحول بن جاتا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں رمضان کی عبادتوں کے ساتھ ساتھ عید کے لئے ضروری اشیا کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں لیکن اس مرتبہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے سبب بازار بند رہے، کورونا پھر بھی ختم نہ ہوا اور جب لاک ڈاؤن ختم ہوا تو عید آنے میں صرف چند دن رہ گئے ہیں۔

لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی عوام نے سمجھنا شروع کر دیا کہ شاید کورونا بھی ختم ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خریداری کا ٹاسک مکمل کرنے کے لئے اندھا دھند بازاروں، مارکیٹوں کا رخ کیا، ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی گئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد پھر سے بڑھنے لگی۔ جب لاک ڈاؤن لگا تھا تب عوام جس میں تاجر، دکاندار، گاہک اور سب شامل ہیں، یہ خواہش کرتے تھے کہ لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، اس سلسلے میں سب حکومت کو یقین دہانی بھی کراتے تھے کہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے گا۔

لیکن لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی سب عہد و پیماں بھول گئے۔ عوام جس طرح کورونا کو لائٹ لیتی ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ عوام کورونا کو وبا نہیں بلکہ کھیل سمجھتی ہے، وہ یہ نہیں جانتے کہ کورونا کا کھیل موت کا کھیل ہے جس میں ہارنے پر صرف اور صرف موت ملتی ہے۔ اب تک کورونا کو کھیل سمجھنے والے موت کے منہ میں جاچکے ہیں، ان بے چاروں کو یہ بھی موقع نہیں ملا کہ وہ اس بات کی حقیقت دوسروں کو بتا سکیں کہ کورونا کھیل نہیں ایک آفت، ایک عذاب ہے۔

مجھے تو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ جس خطرناک وبا نے دنیا کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور اس تباہی کے منظر لوگ روزانہ ٹی وی، سوشل میڈیا پر دیکھتے بھی ہیں پھر بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یہ سب جھوٹ ہے، کوئی کورونا ورونا نہیں ہے“ ۔ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہو کر لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ کورونا کی ویکسین ابھی تک نہیں دنیا میں نہیں بن سکی، اس کی تیاری کے مراحل جاری ہیں، اس پر بھی عالمی سیاست ہو رہی ہے۔

سپر پاورز ایک دوسرے پر ویکسین کی تیاری کے مراحل کی چوری کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ادھر پاکستانی عوام کو اس بات کی فکر ہی نہیں کہ کورونا ویکسین ہے یا نہیں بلکہ وہ تو کورونا کو ہی نہیں مانتے تبھی تو لاک ڈاؤن ختم ہونے پر خریداری کے لئے ایک دوسرے پر ایسے ٹوٹ پڑے ہیں جیسے شادی میں سویٹ ڈشوں پر باراتی ٹوٹتے ہیں۔ مگر یہاں تو سویٹ ڈش کی بجائے کورونا پر سب ٹوٹ رہے ہیں۔ جناب اس حقیقت کو سمجھیں کورونا، کورونا ہے کوئی سویٹ ڈش نہیں۔ عید کی خریداری احتیاط سے کریں، نئے کپڑے، نئے جوتے، نئی جیولری خریدیں لیکن خدارا خریداری کرتے ہوئے کورونا مت خریدیں۔

لوگوں نے خریداری کا عمل تو لاک ڈاؤن میں بھی نہیں چھوڑا، یہ خریداری انھوں نے خود مارکیٹ یا بازاروں میں جاکر نہیں کی تھی بلکہ یہ آن لائن خریداری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ملک میں آن لائن کاروبار کو کافی پذیرائی ملی۔ اگرچہ پاکستان میں آن لائن کاروبار دنیا کے مقابلے میں دیر سے شروع ہوا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں آن لائن خریداری کے رحجان میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ پاکستان کی وزارت تجارت کے ای کامرس پالیسی فریم ورک کے مطابق ملک میں آن لائن کاروبار کا رجحان دنیا کے مقابلے میں ابھی نیا ہے جس میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی کے ادارے کے مطابق دنیا میں آن لائن کاروبار کا حجم ساڑھے پچیس ٹریلین ڈالر سے زائد ہے اور دنیا کی ایک چوتھائی آبادی آن لائن شاپنگ کے ذرائع استعمال کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق دنیا میں آن لائن کاروبار اور شاپنگ کے رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری مزید اضافہ کرے گی۔

پاکستان میں آن لائن سروس کا رحجان بھی بڑھ گیا ہے۔ اب آپ کو آن لائن کپڑے، جوتے، جیولری، کھانے پینے کی اشیاء حتیٰ کہ آن لائن درزی، مکینک، پلمبر، الیکٹریشن وغیرہ کی سروس بھی باآسانی دستیاب ہیں یہاں تک کہ اب تعلیم کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہونے جا رہا ہے۔ آن لائن ایجوکیشن کی افادیت لاک ڈاؤن کے دوران ظاہر ہوچکی ہے جس کو یقیناً حکومت فروغ دے گی۔ اس کے علاوہ آن لائن دفتری میٹنگز، صحت کے شعبے میں آن لائن مریضوں کا چیک اپ، رہنمائی کے علاوہ آن لائن آپریشن بھی جدید دور کے کارنامے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply