سڈنی شیلڈن: خود کشی سے مقبول ترین فکشن رائٹر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سترہ سال کی عمر میں شکاگو میں ڈرگ سٹور پر ایک سامان پہنچانے والے لڑکے کے طور پر کام ایک بہترین نوکری تھی۔ کیونکہ اس کے ذریعے خودکشی کے لیے نیند کی گولیاں چرانا ممکن تھا۔“

منصوبہ بندی کے عین مطابق سڈنی نے گھر میں بیس گولیاں اور شراب اکٹھی کرلی کیونکہ نیند کی گولیاں اور شراب ایک مار دینے والا جوڑ ہیں۔ گھر کی تنہائی میں سڈنی جب منصوبے کی تکمیل کے لیے ہاتھ میں گولیاں لیے موت سے گلے ملنے کو تیار تھا تو عین اسی لمحے دروازہ کھول کر اس کا باپ ”اوٹو“ کمرے میں داخل ہوا۔

تیس سال تک فلم، ٹی وی ڈرامہ، تھیٹر اور ناولز کی چار دنیاؤں پر راج کرنے والا داستان گو، سڈنی شیلڈن 1934 میں خودکشی کے طویل المدتی منصوبے بناتا تھا اور اگر جو وہ اپنے ان منصوبوں میں کامیاب ہو گیا ہوتا تو آج دہائیوں کے بعد دنیا کے پرلی طرف بیٹھی میں اس کی داستان حیات مرتب نہ کررہی ہوتی۔ نیند کی گولیاں کھا کر مرجانے والے اس سڈنی شیلڈن کا نام شکاگو کے شہری بھی چند ہی روز میں بھلا دیتے۔ جب حیات کو اس کی مشکلوں سمیت سینے سے لگایا جاتا ہے۔

اس کے نشیب اور ناکامیوں کے رستوں پر سے خون آلود قدموں کے ساتھ گزرا جاتا ہے تبھی رات کے اندھیرے سے کامیابی کے سورج طلوع ہوتے ہیں اور دنیا کی اطراف میں آپ کے ہنر کی چمکیلی دھوپ پھیلتی ہے۔ سڈنی شیلڈن نام کا یہ آفتاب بھی چار آسمانوں پر بیک وقت چمکنے سے پہلے جدوجہد کی سڑکوں پر سڈنی سکیچل کی صورت اتنا ہی بے بس اور پریشان تھا جتنا آج ہم میں سے بہت سے ان رستوں پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب سویرا اس کی طویل جدوجہد کا مقدر بنا تو ادب کی دنیاؤں میں اس کے نام کا ڈنکا کئی دہائیوں تک بجا۔

”میرا خواب کالج میں پڑھنے کا تھا مگر میرے پاس اس کے لیے پیسے نہ تھے۔“

مسٹر بلاک بسٹر کہلانے والا سڈنی شیلڈن نوجوانی میں خود کو ختم کرنا چاہتا تھا کیوں کہ ایک خوب صورت مکمل زندگی کا خواب رکھنے والے کے پاس گھر، خاندان اور زندگی کے نام پر صرف بدصورتی اور مفلسی تھی۔ پریوں کی زندگی کا خواب دیکھنے والی نیٹیلی [Natalie] اور امارات کے لیے چھوٹے اور تیز رفتار رستے ڈھونڈتا اوٹو [Otto] کا آپسی رشتہ بدترین سطح تک تلخیوں کا شکار ہوچکا تھا اور اس کی کڑواہٹ کم عمر سڈنی کی مستقبل سے امیدیں بہائے لیے جارہی تھی۔

سنڈے غمگین ہے
بسر کیا اسے سایوں کے سنگ
میرا دل اور میں
فیصلہ کرچکے اس کے انجام کا!

ان دنوں یہ مشہور گانا شاید سڈنی ہی کی زندگی کا نغمہ سناتا تھا۔ سڈنی کو ایک بہترین مستقبل چاہیے تھا لیکن آنے والے وقت سے اس کا شعور صرف سیاہیوں کی توقع کرنے لگا تھا۔ سڈنی کے دامن سے خوف بندھے ہوئے تھے۔ اس کے پاس چمکتے ہوئے خواب تھے مگر درحقیقت وہ صرف ایک ڈرگ سٹور کا ڈیلیوری بوائے تھا۔ سڈنی لکھاری بننا چاہتا تھا اور بے شمار کہانیاں لکھ لکھ کر رسالوں میں بھیجتا رہتا اور وہاں سے ناقابل اشاعت کے اطلاع نامہ وصول کرتا۔

کوئی ایک بھی تو سپنا ایسا نہ تھا جو اس کی زندگی میں امید لے کر آتا۔ غربت اور افلاس نے اس کی پڑھائی تقریباً ناممکن بنا دی تھی اور وہ تین تین جگہوں پر حقیر سے حقیر کام کر کے بھی اس کو ممکن نہیں کر پاتا تھا۔ امریکہ کے طول و عرض پر پھیلی بدنام زمانہ معاشی ابتری ان کے گھر اور زندگیوں کی تہ تک اتر چکی تھی۔

”زندگی ایک ناول کی طرح ہے۔ حیرت انگیز تبدیلیوں سے بھری ہوئی، تم کو خبر نہیں ہوتی کہ صفحہ الٹنے کے بعد کیا ہونے والا ہے؟“

سیلز مین اوٹو نے سڈنی کو دلیلوں سے قائل کر لیا کہ زندگی کی کتاب کے چند صفحات الٹ کر دیکھنے چاہئیں۔ کون جانے اگلے صفحات پر کیسے عجوبے ہمارے منتظر ہوں۔ خودکشی کی آپشن محفوظ رکھ کر سڈنی نے اس کتاب کے کچھ اور صفحات کے مطالعہ کا فیصلہ کیا۔

دوسری اور تیسری دہائی میں شکاگو جیسے ایک شور مچاتی ٹرینوں، گھوڑا گاڑیوں، لوگوں سے اٹے ساحلوں اور مویشی فارموں کی بو سے بھرے علاقے کے اسکول میں ساتویں کلاس کے بینچ پر بیٹھ کر سڈنی نے لکھاری بننے کے خواب دیکھے۔ انگریزی کی کلاس میں وہ اکثر سوچتا کہ کیسا ہو اگر پڑھنے کے لیے استاد کتاب کھولیں تو، جو کہانی نکلے اس پر سڈنی کا نام بہ طور مصنف لکھا ہو۔ سڈنی نے بارہ سال کی عمر میں اسکول کے پراجیکٹ کے لئے ایک جاسوسی ڈرامہ لکھا، جو کلاس کے استاد کو حیرت زدہ کر گیا اور اس ڈرامہ کو سٹیج کرنے کی پیشکش کی گئی۔

یکایک سڈنی اسکول کی ایک مشہور ہستی بن گیا۔ دوسرے بچے کردار حاصل کرنے کی خواہش میں اس کے گرد منڈلانے لگے۔ اسکول آڈیٹوریم سڈنی کے لئے کھول دیا گیا اور اس کی ہر مطلوبہ چیز میز کرسی اور بنچ مہیا کر دیے گئے۔ آڈیٹوریم میں ڈرامہ کی ہدایات دیتے اور جی جان سے ریہرسلز کرتے یہ لمحات سڈنی کی زندگی کے بہترین لمحات میں سے تھے، جب وہ خود کو براڈوے کی ایک مشہور ڈائریکٹر اور اسکرپٹ رائٹر سمجھ کر اپنے عظیم الشان کیرئیر کی شروعات کر رہا تھا۔ وہ ماں کو دی گئی ایک پیش گوئی کی تکمیل کر رہا تھا کہ ”ایک دن سڈنی دنیا بھر میں شہرت حاصل کرے گا!“

ڈرامہ اسٹیج ہونے کا وقت آیا انگریزی کے طالبعلموں اور اساتذہ سے آڈیٹوریم بھر گیا۔ پرنسپل صاحب بھی ایک کم عمر اور عظیم ڈائریکٹر کے اس خصوصی ڈرامہ کو دیکھنے کے موجود تھے۔ پردے کے پیچھے کھڑا سڈنی اسٹیج پر اپنے داخلے کا منتظر تھا کہ سٹیج پر موجود لڑکا ایک چھوٹی سی غلطی کر بیٹھا، جس سے سڈنی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ چھوٹی سی ہنسی بڑھتے بڑھتے ہنسی کا دورہ بنتی چلی گئی اور پھر اساتذہ کی ڈانٹ بھی اس کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *