ہائی الرٹ اور صنف نازک!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں پنجاب حکومت کی جانب سے ہائی الرٹ ڈسٹرکٹ کی ایک لسٹ جاری کی گئی جس میں اوکاڑہ کا نام بھی تھا اور لاک ڈاؤن میں نرمی بھی ہوگئی لیکن اس نرمی کا صنف نازک نے بہت ہی غلط فائدہ اٹھایا ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے!

”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“

نرمی کے بعد کائنات کا یہ رنگ کرونا کی ہی نذر نا ہو جائے۔ بازار میں جس طرف بھی نظر دوڑائیں خواتین کا ہجوم نظر آئے گا۔ ایک خاتون جس نے بچوں کے لیے عید کے جوتے کپڑے خریدنے ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ تین چار سہیلیوں کو اچھے انتخاب اور ریٹ کے تکرار کے لیے ساتھ لاتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں شرح پیدائش زیادہ ہے اسی لیے ہر خاتون کے ساتھ تین چار بچے بھی ہوتے ہیں اور خریداری جاری و ساری ہوتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بازار میں ٹریفک جام ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ کوئی کار یا بس کھڑی ہے بلکہ خواتین گزر رہی ہوتی ہیں اور بچے بھی پیچھے پیچھے ہوتے ہیں عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین بازار کے بیچوں بیچ چلنے کی شوقین ہوتی ہیں تاکہ دونوں اطراف نظر جائے اور دکانوں کے نام یاد ہوں۔ کہیں کوئی بھی خاتون پوچھ لے تو اس کو بتانے والے ہوں کہ یہ دکان فلاں جگہ۔ پر ہے اور پوائنٹ سکور کیے جائیں کہ شہر آنے جانے والے لوگ ہیں اور ہمیں دکانوں کا پتہ ہے۔

خواتین جس بھی مکتبہ فکر سے ہوں چاہے پڑھی لکھی ہوں یا ان پڑھ۔ ہر جگہ اکٹھی ہو کر ہی شاپنگ کریں گے آپ کو لگتا ہے کہ وہ شاپنگ کررہی ہیں تو یہ بالکل غلط سوچ ہے ہاں البتہ وہ دوسروں کو شاپنگ کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوتی ہے اور کمنٹ پاس کررہی ہوتی ہیں کہ دیکھو کیسا گندا کپڑا خرید رہی ہیں یا کاسمیٹکس کی دکان ہوگی تو کہیں گی کہ لو جی ”کالی کلوٹی نوں چٹا ہوون دا چسکا پے گیا جے“ اگر کوئی خاتون شیمپو خرید رہی ہو اور دوسری خاتون نے استعمال کیا ہو اور اس کا رزلٹ اچھا نا آیا ہو تو دوسری خاتون پہلی کو اصرار پر وہ خریدنے کا کہیں گی کہ اس کے بھی بال خراب ہوں۔

اچھا کئی لوگوں کے ذہن میں سوال ہوگا کہ ہو سکتا ہے خواتین ایس او پیز فالو کررہی ہوں ماسک پہنا ہو ؛ گلوز پہنے ہوں ؛ تو یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ ماسک کے ساتھ دکاندار سے بحث و تکرار ممکن ہی نہیں اور گلوز کے ساتھ کپڑے کی کوالٹی اور جوتے کی کوالٹی نہیں جانچی جاسکتی۔ لہذا ایس او پیز والی بات ذہن سے نکال دیں۔

واپس کرونا کی طرف لوٹتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ کرونا کی تباہی آ گئی تو جو رویہ صنف نازک کا ہے اس سے تو خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ہر طرف سے خواتین ختم ہو جائیں گی اور صرف مرد کبھی کسی دکان سے منہ اٹھا کر کھڑے ہوں گے کبھی کس دکان پر۔ اور کائنات کا حسن ماند پڑ جائے گا اور ہر طرف غصہ؛ سختی اور جبر ہی نظر آئے گا۔

میری درخواست ہے کہ خدارا اپنے بچوں پر اور مرد حضرات پر رحم کریں اور ان کو کس کے سہارے اس مشکل دنیا میں چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں۔ دربدر کی ٹھوکریں کھائیں گے۔ ۔ ۔

حاصل کلام :ایس او پیز فالو کریں اور گھر سے نہایت ضروری چیزیں لینے باہر نکلیں۔ عید الفطر کے بعد عید الاضحی نے بھی آنا ہے جی کھول کر من کی مرادیں پوری کیجیے گا۔ ابھی رحم کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *