ہائے شاپنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی قوم کے رویوں اور برداشت کو دیکھنا ہو تو کہا جاتا ہے کہ سڑک پر لوگوں کو دیکھا جائے، ٹریفک سگنل پر لوگوں کا رویہ دیکھا جائے۔ ٹریفک سگنل پر لال بتی ہو یا ہری بتی، سائیکل والے سے کار والے تک سب کہ کوشش ہوتی ہے کہ اشارہ توڑ دیا جائے۔ اسی لیے لوگ سگنل کی بتیوں کی بجائے ٹریفک وارڈن کو دیکھتے ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب ایک لمبا عرصہ گھروں میں رہنے کے بعد شاپنگ مالز، مارکیٹوں اور بازاروں میں لوگوں کا سمندر احتیاطی تدابیر کے بغیر نکلا تو ٹریفک سگنل ذہن میں آیا کہ اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کروانا ہے تو ہر پاکستانی پر پہرہ دار بٹھانا ہوگا۔

یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ یہ وہی لوگ ہیں جو بھوک سے مر رہے تھے اور حکومت نے لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن حکومت یہ نہیں جانتی تھی کہ لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ کچھ روز میں ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں پچاس ارب روپے کی خریداری کر کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دیگی۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ خریداری مڈل کلاس یا اس سے چھوٹے طبقے نے کی ہے جن کے متعلق یہ خیال تھا کہ دو سے تین کروڑ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اور فاقوں پر مجبور ہیں۔ بہر حال خریداری کرنا کوئی جرم نہیں مہذب دنیا میں بھی جب لاک ڈاؤن کھولا گیا تو لوگوں کی بہت لمبی لمبی قطاریں تھی لیکن لوگوں نے احتیاطی تدابیر ضرور اپنا رکھی تھی۔ سماجی فاصلے کا خیال بھی رکھا تھا لیکن ہمارے لوگوں نے ہزاروں روپے جوڑوں اور جوتوں پر لگا دیے لیکن پانچ دس روپے کا ماسک نہیں خرید سکے کیوں کہ ڈنڈا لے کر ان کو کسی نے ماسک نہیں پہنایا۔

سونے پر سہاگا حکومت کے فیصلے اور پالیسیاں بھی اس کی وجہ ہیں۔ رمضان المبارک میں عموماً لوگ سحری کے بعد سو جاتے ہیں اور سہ پہر میں اٹھتے ہیں۔ جب کہ خریداری کا وقت شام پانچ بجے تک ہے جس وجہ سے دوپہر دو سے شام پانچ تک ہر چھوٹے بڑے شہر میں مارکیٹس میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی اور لوگ شدید گرمی چالیس ڈگری میں ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے بہت مناسب ہوتا اگر دوپہر بارہ سے رات آٹھ یا دس بجے تک کا وقت ہوتا۔

یہ بات طے ہے کہ لوگوں نے حکومت کی بات نہ مانی ہے اور نہ ہی مانیں گے۔ ایسے وقت میں جب کرونا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے مارکیٹس میں احتیاطی تدابیر کا خیال کیے بغیر گھومتے لوگ پاکستان میں امریکہ یا اٹلی جیسے حالات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ہم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ملک کی معاشی صورتحال جو کہ بہت مشکل سے بہتری کی جانب گامزن تھی پھر سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا جس سے باہر نکلنے میں کئی سال درکار ہوں گے۔

ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے نوجوان طبقہ جو کہ خود کو پڑھا لکھا اور سمجھدار کہتا ہے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم نے پچھلے الیکشن میں دیکھا کہ کس طرح یہی وہ لاکھوں نوجوان تھے جنہوں نے تبدیلی کو ووٹ دیا اور ملک کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی آئی جب دو پارٹی سسٹم کا خاتمہ ہوا۔ تو خود کے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے گھر سے شروع کریں اور اور گھر والوں کو سختی سے احتیاطی تدابیر پر عمل کروائیں۔

پاکستان میں کرونا کی لوکل ٹرانسمشن کا ریٹ بہت زیادہ ہے جس کی وجہ لوگوں کا احتیاط نہ کرنا ہے۔ پڑھے لکھے اور باشعور لوگ بھی ہاتھ ملاتے اور گلے ملتے نظر آتے ہیں جو کہ افسوس ناک ہے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے یہ جملہ آج تک ہمارے لوگوں کو سمجھ نہیں آ سکا یہی وجہ ہے کہ بہت سے معاملات میں احتیاط نہیں کی جاتی۔

پنجاب میں ایک محاورہ مشہور ہے ”اینے نہیں بچنا اینوں لاہور لے جاؤ“ یہ ایک جملہ ہماری ساری داستان بیان کرتا ہے کہ کیسے ہم لوگ گھریلو ٹوٹکوں سے علاج کرتے رہتے ہیں اور جب مریض کا آخری وقت آ جاتا ہے تو اس کو لاہور کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف یہ جملہ ہمارے حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کہ پورے پنجاب بلکہ پاکستان سے لوگ صحت کی ناکافی سہولیات ہونے کی وجہ سے لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ تو لاہور جانے سے بہتر ہے اپنے گھر میں محفوظ رہیے اور یہ مشکل وقت احتیاط کے ساتھ گزاریں کیوں کہ جان ہے تو جہان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ملک عبدالرحمان علی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *