شوگر مافیا کتنا طاقتور ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فراڈ نہیں کیا تو پھر ہاہا کار کیوں، عدالتوں سے بے گناہی ثابت کر کے عوام کی نظروں میں سرخرو ہوں۔ چینی انکوائری رپورٹ پبلک ہونے کے بعد جگمگاتی سکرینوں پر دہائی مچی ہوئی ہے کہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے ہم اس سیکنڈل میں ملوث نہیں ہیں ہمارے دامن کرپشن سے آلودہ نہیں ہیں ہم انھیں نچوڑتے ہیں تو فرشتے وضو کرتے ہیں۔

شوگر مافیا کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے دو ہزار سات کی بات ہے جنرل شاید عزیز نیب کے طاقتور ترین سربراہ تھے۔ اوپر صدر بھی باوردی بیٹھا ہوا تھا جو سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ جنرل شاید عزیز اپنی کتاب یہ ”خاموشی کہاں تک“ میں لکھتے ہیں ”صدر صاحب نے چینی کی انکوائری بند کروا دی ہے“ وہ لکھتے ہیں کہ ابھی تحقیقات شروع ہی کی تھی کہ جنرل حامد جو صدر کے چیف آف سٹاف تھے فون آیا کہ چینی پر ہونے والی انکوائری کو بند کر دیا جائے، میں نے حجت پیش کی سر اس کے بہت برے اثرات ہوں گے انھوں نے کہا یہ ایگزیکٹو آرڈر ہے اب یہ انکوائری نہیں ہو گی۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ میں نے اخبار میں خبر دے دی کہ چینی سیکنڈل پر مزید انکوائری نہیں ہو گی خبر کا پبلش ہونا تھا کہ صدر صاحب بہت ناراض ہوئے میری طلبی ہوئی اور پوچھا گیا میں نے صاف الفاظ میں بتایا کہ خبر اس لیے دی کہ عوام اس امید میں نہ رہیں کہ نیب ان کے مفاد کا بدستور تحفظ کر رہا ہے جب شروع کرنے کی اطلاع بوساطت میڈیا دی تو بند کرنے کی بھی اطلاع دنیا لازم ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ میں جب نیب کا چیئرمین بنا تو بازار میں چینی کی قیمت میں یکا یک اضافہ ہو گیا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملز مالکان کی مرضی سے قیمت بڑھائی گئی۔ جب انکوائری کے احکامات جاری کیے تو کاروباری پیچیدگیاں سمجھنے کے لیے ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی خدمات مستعار لی یہ فوجی فاؤنڈیشن میں سالوں چینی کے کاروبار سے منسلک رہ چکے تھے۔

انکوائری شروع ہوتے ہی کچھ سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ شوگر مافیا اتنا طاقتور تھا کہ انھوں نے بذریعہ جنرل حامد جاوید مجھے دھمکی دی کہ انکوائری بند کروائی جائے بصورت دیگر مارکیٹ سے چینی غائب کر دی جائے گی۔ اس وقت کے چیئرمین سی بی آر عبداللہ یوسف ملے اور مجھے کہا کہ تم مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو نہیں جانتے ہو، آرام سے چلو۔ ان کے سامنے لوگوں کی مشکلات کا ذکر کیا تو کہنے لگے اگر تم نے انکوائری بند نہ کی تو چینی کی قیمت دوگنی ہو جائے گی تم کیا کر لو گے؟

میں نے انھیں کہا کہ چار چھ بڑے حضرات ہیں جن کے زور پر چینی کی قیمت بڑھائی گئی۔ یہ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے اگر نیب اور حکومت مل کر بھی انھیں قابو میں نہ رکھ سکے تو پھر گورننس کیا رہ جائے گی؟ انھوں نے کہا یہ گورننس کا مسئلہ نہیں سیاسی پیچیدگیاں ہیں جس کی وجہ سے یہ بند کرنا پڑے گی۔

شوگر مافیا اتنا طاقتور ہے کہ انھوں نے ایک آمر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ وہ آمر جو سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہوتا۔ وزیراعظم عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ ضرور دیں کہ انھوں نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ممکن ہوا کہ چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے والوں کو بے نقاب کیا گیا۔

میرے ذریعے کے مطابق ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کے ہاتھ کچھ ناقابل تردید شواہد ہاتھ لگے کہ ملز مالکان نے بے نامی جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔ کاشتکار بھی ان کے اپنے ہوتے ہیں، اپنی مرضی کے ریٹ لگواتے ہیں پھر حکومت وقت سے ساز باز کر کے سبسڈی بھی لیتے ہیں۔ ملز مالکان کو دوہرا فائدہ ہوتا ہے۔ ایک تو سبسڈیز کا پیسہ جیب میں ڈالتے ہیں اوپر سے چینی مہنگی کر کے عوام کو بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں آج تک فوجی آمروں سمیت کسی بھی سیاسی حکمران کی اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس مافیا کو بے نقاب کرے۔ یہ کام بھی عمران خان کے ہاتھوں ہوا۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ مخدوم خسرو بختیار سمیت کئی سیاستدان اس میں ملوث نہیں ہیں کیونکہ شوگر ملز ان کے نام پر نہیں ہیں بلکہ ان کے عزیزوں کے نام پر ہیں، کارروائی ان کے خلاف ہو گی یہ لوگ بچ جائیں گے۔ بے رحم احتساب اس حکومت کا سلوگن ہے اور اسی سلوگن کے تحت نواز شریف کو سزا دی گئی حالانکہ ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں بینیفشری ان کے عزیز تھے۔ انکوائری رپورٹ میں جو بھی ملوث ہے چاہے وہ مخدوم ہو یا چوہدری، سب کو سزا قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 125 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui

Leave a Reply