تلاوت کی بحث اور سوشل میڈیا کے دانشور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل سوشل میڈیا پر تلاوت کلام کی بجائے قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کی بحث زور پکڑ رہی ہے، سوشل میڈیا کے کچھ متحرک دوستوں کی نظر میں قرآن کو سمجھ کر ہی پڑھنا چاہیے سمجھ کر نہ پڑھنے سے بہتر ہے کہ انسان قرآن نہ پڑھے۔ دلیل میں وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے جو انسان سے مخاطب ہے اگر انسان کو اس کی سمجھ ہی نہیں ہے تو پڑھنے کا کیا فائدہ؟

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی بات بظاہر دل کو لگتی ہے اور تقاضا بھی ہے کہ قرآن سمجھ کر پڑھا جائے لیکن اس ضمن میں یہ تاثر دینا کہ اگر قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھ سکتے تو پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے یہ موقف درست نہیں ہے اور نہ ہی اس کی حمایت کی جا سکتی ہے کیونکہ اس طرح کے موقف سے دراصل یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قرآن کی تلاوت نہ کی جائے حالانکہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا بھی باعث اجر ہے اور سمجھ کے بغیر پڑھنا بھی باعث اجر ہے۔

قرآن تلاوت پر متعدد آیات اور احادیث دلالت کرتی ہیں۔ لیکن ہم یہاں صرف ایک حدیث پر اکتفا کرتے ہیں ”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور (پڑھنا) اس پر (کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے ) مشکل ہو اس کے لئے بھی دوگنا اجر ہے۔

”ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے حالانکہ یہ پڑھنا اس کے لئے سخت مشکل ہو، اس کے لئے دو اجر ہیں۔“ (بخاری و مسلم)

مذکورہ حدیث کی رو سے دیکھا جائے اور اس میں تلاوت کی بات کی جائے گی ہے کیونکہ فہم تو بغیر تلاوت کے بھی ہو سکتا ہے اور قرآن پڑھتے ہوئے اٹکنا خالصتاً تلاوت کی طرف اشارہ ہے۔

میں نے گاؤں دیہات میں ایسے بوڑھے بھی دیکھے ہیں جو قرآن مجید پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن باوضو ہو کر پوری عقیدت کے ساتھ قرآن مجید لے کر اس انداز میں بیٹھتے، دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا کہ جیسے تلاوت کر رہے ہوں لیکن درحقیقت وہ بوڑھے ان پڑھ دیہاتی قرآن مجید کے صفحات اور آیات پر انگلیاں پھر کر صرف بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھ رہے ہوتے تھے جس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی تھی کہ دیگر لوگوں کو تلاوت کرتا دیکھ کر ان سے رہا نہیں جاتا تھا۔ یہ خیال ان کے دل میں کیسے اور کب آیا اس بارے کوئی نہیں جانتا لیکن ان پڑھ بوڑھے دیہاتیوں کی اس عقیدت کا انہیں خداوند کی بارگاہ سے اجر انشا اللہ ضرور ملے گا۔ اسی طرح کچھ ان پڑھ لوگ قرآن کی سماعت ذوق شوق سے کرتے تھے یقیناً قرآن کریم کو سننے پر بھی اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔

تلاوت کلام بارے لوگوں کا مختلف الخیال ہونا محض پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان سے باہر یہ سوچ زیادہ پائی جاتی ہے۔ چند سال پہلے جب اللہ نے مجھے عمرہ کی سعادت نصیب فرمائی تو یہ بات مشاہدے میں آئی کہ پاکستان سے جانے والے حرم میں زیادہ تر اوقات میں طواف اور تلاوت کرتے ہیں جبکہ زیارات کو تیسرے نمبر پر رکھتے ہیں۔

حرم میں مجھے تلاوت کرتے دیکھ کر ایک عرب شیخ میرے پاس آئے اور سرزنش کے انداز میں کہنے لگے کہ رٹے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے قرآن کو سمجھ کر پڑھو۔ عرب شیخ کی اس سرزنش کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ عرب لوگ ہماری نسبت قرآن کریم کی تلاوت بہت کم کرتے ہیں کیونکہ وہ اس زعم میں ہوتے ہیں کہ وہ قرآن کو سمجھتے ہیں اس تناظر میں اگر ہمارے لوگ بھی قرآن فہمی پر زور دیتے ہیں تو خدشہ ہے کہ عربوں کی طرح ہمارے ہاں بھی تلاوت قرآن کا رجحان بہت کم رہ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply