ایک پیشہ ور ہنسنے والا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کوئی شخص مجھ سے یہ سوال کرتا ہے کہ آپ کیا کام کرتے ہیں تو میں چند لمحوں کے لیے گھبرا جاتا ہوں۔ میرا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور زبان میں لکنت پیدا ہو جاتی ہے اگرچہ عام حالات میں مجھے لوگوں سے گفتگو کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو بڑی سادگی سے کہہ سکتے ہیں۔

میں ایک معمار ہوں
میں حجام ہوں
میں کتب فروش ہوں
میں ایک ادیب ہوں
کیونکہ لوگ ان پیشوں سے بخوبی واقف ہیں لیکن میرے جواب کے بعد مجھے اپنے جواب کی تشریح کرنی پڑتی ہے۔

میں ایک ہنسنے والا ہوں۔
جب لوگ یہ جواب سنتے ہیں تو فوراً پوچھتے ہیں
کیا آپ ہنس کر روزی کماتے ہیں؟
اور مجھے جواب دینا پڑتا ہے
ہاں

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ میں ہنس کر اپنی روزی روٹی کماتا ہوں۔ وہ بھی اچھی خاصی کیونکہ آج کل بازار میں میرے ہنسنے کی کافی مانگ ہے۔

میں ایک اچھا ہنسنے والا ہوں۔ کافی تجربہ کار ہوں۔ اس شہر میں مجھ سے بہتر ہنسنے والا کوئی نہیں۔ میں اس فن کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہوں۔ ایک طویل عرصے تک لوگوں کے غیر ضروری سوالوں اور بے جا تشریحات سے بچنے کے لیے میں اپنے آپ کو ایکٹر کہا کرتا تھا لیکن جب مجھے اندازہ ہو گیا کہ مجھے گفتگو اور خطابت کے فن پر مہارت حاصل نہیں تو میں نے اپنے آپ کو ایکٹر کہنا چھوڑ دیا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ میں صرف ہنسنے والا ہوں اور میں حقیقت پسند انسان ہوں۔ ۔ ۔ میں نہ تو لطیفہ گو ہوں اور نہ ہی مسخرہ۔ میں لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ میں بذات خود سراپا خوشی کا مظہر ہوں۔

کبھی میں روم کے شہنشاہ کی طرح ہنستا ہوں اور کبھی میں شرمیلے سکول کے بچے کی طرح۔ مجھے سترہویں صدی کی ہنسی پر بھی اتنی ہی مہارت حاصل ہے جتنی انیسویں صدی کی ہنسی پر اور اگر موقع ملے تو میں ہر صدی، ہر طبقے اور ہر عمر کی ہنسی ہنس سکتا ہوں۔ میں نے ہنسنے کے فن میں ایسی ہی مہارت حاصل کر لی ہے جیسے بعض لوگ جوتے مرمت کرنے کے فن میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔

میرے سینے میں امریکہ کی ہنسی کے ساتھ ساتھ افریقہ کی ہنسی بھی محفوظ ہے۔ میرے دل میں مختلف انواع و اقسام کی ہنسیاں پوشیدہ ہیں اور اگر میری ہنسی کی قیمت وصول ہو رہی ہو تو میں ان کے اظہار میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا۔

آج کل میری مانگ بہت بڑھ گئی ہے۔ لوگوں نے میری ہنسی کے ریکارڈ اور ٹیپیں بنانا شروع کر دی ہیں۔ اب ٹیلی وژن کے ڈائرکٹر مجھ سے بڑی عزت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ میں روہانسی ہنسی بھی ہنس سکتا ہوں اور کھلکھلا کر بھی ہنس سکتا ہوں۔ بس کنڈکٹر کی ہنسی بھی ہنس سکتا ہوں اور سبزی فروش کی ہنسی بھی۔ صبح، شام، رات کے ساتھ ساتھ چاندنی راتوں کی ہنسی بھی ہنس سکتا ہوں۔ مختصراً یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ میں ہر موقع کی ہنسی ہنسنے کے قابل ہوں۔

میرے مندرجہ بالا بیان سے عیاں ہے کہ میرا پیشہ بڑا تھکا دینے والا ہے۔ خاص طور پر جب کہ میں نے ایسی ہنسی میں مہارت اور تخصص حاصل کر لیا ہے جس سے جب میں ہنستا ہوں تو سب سامعین بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑتے ہیں اور اس خصوصیت کی وجہ سے میں درجہ سوئم اور چہارم کے لطیفہ گو اور مسخروں میں بہت مقبول ہوں جن کو اپنے پروگراموں کے ناکام ہو جانے کا ہر وقت خدشہ لگا رہتا ہے (اور ہونا بھی چاہیے ) وہ مجھے اپنے پروگراموں میں مدعو کرتے ہیں اور میں موقع کی مناسبت سے ہنستا ہوں جس سے سب لوگ ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح لوگ بھی خوش ہو جاتے ہیں اور ان فن کاروں کی عزت بھی رہ جاتی ہے۔

جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے میں پروگراموں کے اختتام کا بے چینی سے منتظر رہتا ہوں اور پھر فوراً اپنا اوورکوٹ اٹھا کر گھر کی طرف بھاگتا ہوں اور میری قسمت کہ گھر پہنچتے ہی مجھے تار ملتا ہے

تمہاری ہنسی کی اشد ضرورت ہے۔ ریکارڈنگ منگل کو ہونی ہے۔
نتیجتاً چند گھنٹوں کے بعد میں ایک گرم گاڑی میں بیٹھا واپس جا رہا ہوتا ہوں اور اپنے نصیبوں پر آنسو بہا رہا ہوتا ہوں۔

مجھے یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ کاروباری وقت کے علاوہ مجھے ہنسنے کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ میری کیفیت بھی اس گوالے کی طرح ہوتی ہے جو کچھ دیر کے لیے گائے بھینسوں کو بھول جانا چاہتا ہے اور اس ترکھان کی طرح جس کے گھر کے کئی دروازے اور کھڑکیاں مرمت کے انتظار میں رہتے ہیں۔

کئی مٹھائی بیچنے والے اچار کے شیدائی ہوتے ہیں۔ کئی گوشت فروش سبزیاں کھانا پسند کرتے ہیں اور کئی نانبائی روٹی پر گوشت کو ترجیح دیتے ہیں۔ کئی بیل لڑانے والے گھر میں کبوتر پالتے ہیں اور کئی باکسر اپنے بچے کی نکسیر دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ مجھے ان مثالوں سے کوئی حیرانی نہیں ہوتی کیونکہ میں بھی جب کام نہیں کر رہا ہوتا ہوں تو بالکل نہیں ہنستا۔ میں نہایت خاموش متین اور سنجیدہ انسان ہوں اور اکثر لوگ مجھے قنوطیت پسند سمجھتے ہیں۔

میری شادی کے اوائل میں میری بیوی کہا کرتی تھی۔ ۔ ۔ ہنسیے نا۔ ۔ ۔ لیکن اسے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ میں اس کی اس خواہش کو پورا کرنے سے قاصر ہوں۔ مجھے اس بات سے خوشی حاصل ہوتی ہے کہ فارغ اوقات میں میرے چہرے کے پٹھوں کو آرام کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ بعض دفعہ تو مجھے اوروں کی ہنسی بھی گراں گزرتی ہے کیونکہ اس سے میری پیشہ ورانہ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے ہماری ازدواجی زندگی نہایت سنجیدہ اور پرسکون ہے۔ میری بیوی بھی ہنسنا بھول چکی ہے۔ کبھی کبھار اسے مسکراتا دیکھتا ہوں تو میرے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔

ہم گھر سے باہر کلبوں میں جانے کی بجائے گھر کے اندر دھیمی آواز میں گفتگو کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ کلبوں کی آوازیں مجھے ریکارڈنگ اسٹوڈیوز کے ماحول کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ جو لوگ مجھے اچھی طرح نہیں جانتے وہ سمجھتے ہیں کہ میں ہر وقت لب بستہ رہتا ہوں۔ ان کا خیال کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ مجھے کام کے وقت ہنسنے کے لیے منہ کھولنا پڑتا ہے۔ میں اپنی ذاتی زندگی بہت سنجیدگی سے گزار رہا ہوں۔ کبھی کبھار موقع ہو تو مسکرا دیتا ہوں۔ میں اکثر اوقات سوچتا ہوں کہ کیا میں کبھی اپنی ذات کے لیے بھی ہنستا ہوں یا نہیں؟ میرا خیال ہے کبھی نہیں۔ میرے بہن بھائی مجھے بچپن سے ہی ایک خاموش اور سنجیدہ لڑکا سمجھتے رہے ہیں۔ میں بیسیوں طریقے سے ہنستا ہوں لیکن برسوں سے میرے کان میری ذاتی، دل کی گہرائیوں سے نکلی ہنسی کو ترس گئے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہنرک بول جرمنی میں 1917 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ہٹلر کی حکومت سے تعاون کرنے سے انکار کیا تھا جس کی انہیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ ان کی شہرت کا آغاز ان کے پہلے ناول ”دی ٹرین واز آن ٹائم“ سے ہوا جو انہوں نے تیس برس کی عمر میں لکھا تھا۔ 1972 میں انہیں ادب کا نوبل انعام ملا۔ ہنرک بول 1985 میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

ان کی ناولوں، کہانیوں اور مقالوں کا تیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ، ہنسنے والا، کا ترجمہ جرمن زبان سے انگریزی زبان میں لیلیٰ وینوٹر نے کیا اور میں نے اسے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 326 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *