پلید اور پاک لڑکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سنہ 2017 میں جی سی یو کی ایک سوسائٹی نے لاریب نامی تقریب کا اہتمام کروایا تھا۔ جی سی یو نے اس تقریب سے سرکاری طور پر غیر وابستگی کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس غیر وابستگی کو میں ہر گز نہیں سراہ رہی کیونکہ جیسے دوسرے لوگوں کو کام کرنے کی اجازت ہوا کرتی ہے تو ان کو بھی ہونا چاہیے۔ آزادی رائے کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے۔ چند لوگوں کی رائے میں اس تقریب کا تعلق کچھ دینی نظریاتی یا سیاسی مقاصد کو پروان چڑھانا تھا جو کہ ہو بھی سکتا ہے۔ اس لئے یہ بھی کہا گیا کہ اسی وجہ سے اس جلسے کو انتظامیہ کی طرف سے سرپرستی حاصل نہیں تھی مگر میرے نزدیک یہ باتیں معنی نہیں رکھتی اور ایسے نکات فقط تفریق کا باعث بنتے ہیں۔

خیر میری اس تحریر کا مقصد کچھ اور ہے۔ لاریب، جو اس نسشت کا نام تھا میں نامی گرامی اولڈ راوئنز نے شرکت کرنا تھی اور مجمے سے خطابات بھی۔ معروف شاعر محترم انور مسعود، ہمارے ہر دل عزیز سید اقرار الحسن، طارق جمیل، اخوت کے چئیر پرسن امجد ثاقب، سہیل احمد، جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ و دیگر نے اس تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ کچھ خطیب تو راویئن تھے اور کچھ نہیں۔

بہت سی اچھی باتیں کی گئیں یا مجھے اس وقت اچھی لگیں، ٹیم سرعام کے لئے سید اقرار الحسن نے رضاکاروں کی خدمات لینے کی دوخواست بھی کی یعنی سب بہت اچھا رہا۔ مگر کچھ ایسا ضرور ہوا کہ مجھے نہیں بھولتا۔ جیسا کہ ہم سب کو ہی پتا ہے کہ ہم پاکستان کے شہری ہیں اور ہمارا دیس اول اور آخر پاکستان ہی ہے۔ پاکستان ایک خاص زمین کے خطے پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ تمام تر سانحات، حادثات کے باوجود قائم و دائم ہے اور اللٰہ ہمارے وطن کو حقیقی معنوں میں شاداب و سالامت رکھے۔ پاکستان جس خطہ زمین پر بنایا گیا تھا، اس کا اپنا رنگ، روپ اور نکھار ہے۔ اس کی اپنی تاریخ اور تقافت ہے۔ یہاں کے باسیوں کا لباس دل کش ہی نہیں منفرد اور جاذب نظر بھی ہے۔ یہاں کے ناصرف مرد بلکہ عورتوں کا لباس بھی اپنی تمام رعنائیوں اور دل ربائیت کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔

جب دروغ کے رستوں سے مرد اقتدار میں آتے ہیں تو اپنی طاقت کا استعمال عورتوں کے جسموں، ان کی روز مرہ زندگی اور معاملات کو اپنی مٹھی میں کرنے سے باز نہیں آتے جس میں ان کا لباس سرفہرست رہتا ہے۔ معاشرے کے تمام ظلم و ستم، نا انصافی، قتال، زیادتی، جنسی تشدد ایک جانب اور عورت کا لباس ایک جانب۔ اس کو اگر ظالموں کی اناؤں کی مورتیوں کا ڈھیر کہا جائے تو معیوب نہ ہوگا۔ چونکہ چند دہائیوں سے پاکستانیوں نے اپنے تشخص کو بانٹنا شروع کیا ہے اور شناخت کی پہیلیوں میں خود کو الجھا کر ہی رکھا ہے۔ جس کا طرز حیات ہماری امنگوں سے مطابقت نہیں رکھتا، ہم اس کو سرے سے رد کر دیا کرتے ہیں۔ شاید احساس، حرمت اور رواداری کی تدریس ہمارے قلوب میں گھر نہیں کرتی۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اخلاقیات کا معیار ترقی کر چکا ہے اور انسانوں کو ان کے انتخاب کے عوض رنج دینا نفرت آمیز سمجھا جاتا ہے۔

ہم پاکستانی خواتین کا لباس شلوار قمیض اور آنچل ہے اور یہی سرکاری لباس ہے۔ ہم سب یہی لباس تو ہر وقت زیب تن کیے رکھتی ہیں۔ یہی ہماری ثقافت اور تہذیب ہے اور کیسی خوش نما ثقافت ہے۔ لاریب نامی اس تقریب کا مقصد جیسے کہ نوجوانوں کو اسلامی اقدار سے ہم آہنگ کرنا تھا، وہیں اس تقریب میں مسلمان لڑکیوں کو ان کے پست ہونے کا احساس دلانے کا فریضہ بھی ایک اعلیٰ پائے کی شخصیت نے بخوبی نبھایا۔ میرا اشارہ طارق جمیل کی طرف قطعی نہیں ہے۔ بات کچھ یوں ہوئی کہ چند لڑکیوں نے عبایا اور نقاب پہن رکھے تھے۔ اپنی چاہت سے عبایا پہننا یا نقاب کرنا ہر گز بری بات نہیں ہے۔ زبردستی کپڑے اتارے جائیں یا زبر دستی لحاف پہنائے جائیں، ایک ہی وائرس کے دو اسٹرین ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں پاکستانیوں کی تاریخی ثقافت کے مطابق لباس پہنا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ بلکہ قباحت کرے بھی کوئی کیوں؟

معروف شخصیت جب اپنا خطاب فرما رہے تھے تو ہال میں موجود نقاب اور برقعے میں گنتی میں آئی لڑکیوں کی طرف اشارہ کر کے کچھ فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ جو ان کی بیٹیاں پردے میں ہیں وہ پاکیزہ ہیں اور پلید عورتوں کی طرح بے پردہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پلید اور ناپاک عورتیں نہ بنا جائے۔ ایسی سوچ کو جارحانہ اور دل شکن کہا جاتا ہے، دینی تو قطعی نہیں کہ نوے فیصد لڑکیوں کو پلید کہہ دیا جائے ایک تقریب میں بلا کر۔ مجھے اچھے سے یاد ہے یہ الفاظ سن کر میں نے بغل میں بیٹھی اپنی دوست کی طرف دیکھا تھا اور سر پر ہاتھ رکھ کر اپنا دوپٹہ دیکھا کہ کہیں سرک تو نہیں گیا۔ برقعہ اور نقاب پاکی پلیتی کے ضامن نہیں ہوتے۔

یہ جو محرابوں کے امیر مرد و زن عورتوں کے پردے پر خدائی گہوارے بنے رہتے ہیں اور پاک و پلید کا ہائیجین چیک کرتے نہیں شرماتے، ان سے اتنی گزارش کروں گی کہ جس لباس میں پاکستانی عورت کی نماز ہوجاتی ہے، جس لباس میں وہ مدینے کی زیارت کر کے آجاتی ہے اور جس لباس میں چادر کے ساتھ اس کا حج ہوجاتا ہے، وہ لباس اتنا ہی پاک اور صاف ہے جتنا محروم شناخت کے گمشدگین کا لباس۔

پھر بھی اس دلیل میں نقص نکالنے والے بہتیرے ہوں گے جو شلوار قمیض، دوپٹے، چادر کے جواز تلاشیں گے۔ جن کو خواتین کی قمیضوں کے خاکے، نمونے اور ساخت میں گمراہی دکھے گی تو حضرات پھر ایمان لے آئیے اپنے حسرت زدہ بیہودہ ہونے پر۔ انگریزی میں جس کے لئے پرورٹ کی اصلاح استعمال ہوتی ہے۔

عجب نہیں کہ اسلام جیسے دین کے نام پر لوگوں کے دلوں کو رنج دینے والے یہ لوگ معصوموں کی محرومیوں، ان پر بربریت اور ان کی اموات پر کسی شخصیت، ریت کی لاج میں خاموش رہتے ہیں۔ عجب نہیں کہ منبروں پر حور کے جھولتے بدن پر دین کو بیچا جاتا ہے اور عجب نہیں کہ حرمت اور تقدس کا پاس رکھتی عورتوں کو میلی کچیلی پلید بھی اسی منبر پر کہا جاتا ہے جو میراث ہوا کرتا تھا ان مسلمانوں کا جن کی نظریں پاک اور ہاتھ زیادتی سے ماورا ہوا کرتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رابعہ سرفراز چودھری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *