پہلے خبر کی تصدیق پھر ترویج


ہمارے ہاں ایک نہایت سنگین نوعیت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خبر کی تصدیق کیے بغیر اس پر یقین کر لیتے ہیں اور نہ صرف یقین بلکہ اندھا دھن خبر کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس میں مسئلہ غلط خبر کا نہیں ہے عوام میں خبر کی تصدیق کے طریقہ کار کی آگاہی کا ہے۔ ہم میں بیشتر ایسے طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو خبر کے ٹھیک ہونے یا غلط ہونے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ خبروں اور اطلاعات کی بھرمار کے دور میں سب جائز ہے کہ فارمولے کے تحت ہر طرح کی چیزیں گردش کرتی رہتی ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا بلکہ اگر کہا جائے کہ صرف سوشل میڈیا اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ لیکن ان خبروں یا اطلاعات میں کس قدر سچائی ہوتی ہے یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے بس تھوڑی سی آگاہی ہے اگر حاصل کر لی جائے۔

سب سے پہلے میں چند باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ آج کل کے دور میں اور اطلاعات کہ اس زمانے میں پاکستان میں ایسے حکومتی ادارے قائم کیے جا چکے ہیں کہ جن کے ذریعے اگر خبر ملے تو اس میں کافی حد تک سچائی ہوتی ہے یا کہہ سکتے ہیں صحیح موقف سامنے آتا ہے۔ مثلآ صوبائی سطح پر ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز ( ڈی جی پی آر ) اور وفاقی سطح پر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) یہ دو ادارے ایسے ہیں کہ جن کے ذریعے حکومت اپنے اقدامات یا موقف عوام کو پیش کرتی ہے۔

اب چاہے حکومت سچ کہہ رہی ہے یا جھوٹ لیکن یہی دو ادارے ہیں جن کے ذریعے عوام تک حکومتی اقدامات سے متعلق اطلاعات پہنچائی جاتی ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ حکومتی عہدے دار ڈی جی پی آر اور پی آئی ڈی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے پریس کانفرنسز کرتے ہیں یا پھر پریس ریلیز جاری کرتے ہیں اور یہ ادارے وہ خبر یا اطلاع تمام چینلز کو فوری فراہم کرتے ہیں اور انہی اداروں کے ملازمین مختلف حکومتی اداروں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی ذمہ داری ہی صرف یہی ہے کہ اپنے ادارے سے متعلق خبروں سے عوام کو آگاہ رکھنا جن کو ہم پبلک ریلیشنز افسر (پی آر او) کہتے ہیں۔ اگر ان کے علاوہ حکومت سے متعلق کوئی خبر آئے تو وہ ذرائع کی خبریں کہلاتی ہے جو کہ اکثر اوقات غلط ہوتی ہیں۔

اسی طرح فوج سے متعلق خبروں یا اطلاعات کی رسائی کے لئے ایک نہایت فعال اور متحرک ادارہ ہے جسے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کہا جاتا ہے۔ اس ادارے سے متعلق اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ شاید ایک فرد کا نام ہے جسے ڈی جی آئی ایس پی آر کہا جاتا ہے۔ لیکن آئی ایس پی آر ایک بڑا ادارہ بن چکا ہے جو کہ پورے ملک میں کونے کونے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد ہے کہ فوج سے متعلق خبروں یا اطلاعات کو عوام اور دیگر متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہے۔

میجر جنرل لیول کے افسر کے زیر قیادت اس ادارے میں کئی فوجی افسران اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ فوج سے متعلق کسی بھی خبر پر جب تک آئی ایس پی آر اپنا موقف سامنے نہ لائے تب تک اس خبر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی یا تو خبر کی تصدیق ہوتی ہے یا تردید اور اگر یہ دونوں ہی نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خبر میں حقیقت نہیں ہے۔ فوج کہ اختیارات سے قطع نظر میں بطور صحافی اور صحافت کا طالب علم ہونے کے ناتے یہ سمجھتا ہوں کہ خبر کے ذرائع کو معلوم کرنا اور اس کی حقیقت کو جاننا نہایت ضروری ہے بجائے اس کہ کے بے بنیاد خبروں کو دھڑا دھڑ پھیلایا جائے۔

خبر چاہے جس سے متعلق بھی ہو جب تک دونوں اطراف سے موقف سامنے نہ آ جائیں اس پر مکمل یقین کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ سوشل میڈیا پر آئی ایس پی آر کے نام سے خبریں چلائی جاتی ہیں جن کا ٹی وی چینلز پر نام و نشان نہیں ہوتا تو ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ فوج سے متعلق خبریں منظم طریقہ کار کہ ذریعے جاری کی جاتی ہیں جن میں ٹی وی چینلز کا کردار سب سے پہلے اور اہم ہوتا ہے۔

ان تمام ادارے جن کا میں نے ذکر کیا ہے یہ پبلک ریلیشنز یعنی تعلقات عامہ کے محکمے ہیں لیکن شاید سوشل میڈیا پر اتنے متحرک نہیں ہیں جتنے ٹی وی میڈیا پر ہیں لہاذا حکومت یا فوج یا پولیس یا دیگر اداروں سے متعلق کوئی بھی خبریں آئیں تو وہ سب سے پہلے ان محکموں، پبلک ریلیشنز افسر ز اور میڈیا مینیجرز کے ذریعے ٹی وی چینلز کو فراہم کی جاتی ہے۔ اگر خبر ٹیلی ویژن نیوز چینلز پر نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر ہی چل رہی ہے چاہے وہ کرونا کے حوالے سے ہو یا پھر کرنل کی بیوی سے متعلقہ ہو تو برائے کرم اجتناب کریں کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ آج کل کے دور میں کہ کوئی اہم خبر ہو جو سوشل میڈیا پر چلے اور ٹی وی نیوز چینلز پر نہ دکھایا جائے۔

Facebook Comments HS