1943 ء میں سندھ اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

15 اگست 1947 ء، بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ، بروز جمعة الوداع، پاکستان وجود میں آیا اور اس برس 27ویں رمضان کی رات ہم نے پاکستان کے وجود کو ہجری تقویم کے لحاظ سے پون صدی مکمل کی۔ ان 75 برسوں میں ہم نے کیا کھویا، کیا پایا۔ ۔ ۔ یہ تو ایک طویل موضوع اور بحث ہے، جس پر لگ بھگ تمام فاضل قلمکار اپنے خیالات کا وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہتے ہیں، مگر تاریخ قیام پاکستان میں کچھ ایسے سنگ ہائے میل بھی ہیں، جن کا ذکر قیام پاکستان کی ”سرکاری تواریخ“ میں نہیں کیا جاتا۔ ان اذکار میں سے سندھ کی دستور ساز اسمبلی کی جانب سے 1943 ء میں منظور کی جانے والی اس قرارداد کا ذکر بھی شامل ہے، جو قیام پاکستان کا مطالبہ کرنے والی وہ واحد قرارداد ہے، جو مشترکہ ہندوستان کی کسی بھی دستور ساز اسمبلی نے پاس کی تھی۔ اور یہ اعزاز صرف سندھ ہی کو حاصل ہوا۔

23 مارچ 1940 ء کو منٹو پارک لاہور میں، آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں، پاس ہونے والی قرارداد پاکستان سے پہلے بھی کراچی میں علیحدہ وطن کے حصول کے لیے ایک اور قرارداد منظور ہوئی تھی، جس کا درجہ انتہائی کلیدی ہے، مگر اس قرارداد کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمارے بیشتر ”سرکاری مؤرخین“ شرماتے یا کتراتے ہیں۔ وہ تھی 1938 ء والی قرارداد۔ ۔ ۔ اکتوبر 1938 ء میں سندھ میں صوبائی مسلم لیگ کانفرنس کا پہلا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا تھا، جس میں شیخ عبدالمجید سندھی کی پیش کردہ ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کو آئین کی ایک اسکیم وضع کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جس کے تحت مسلمانان ہند مکمل آزادی حاصل کر سکیں۔

بنگال (صوبے ) کے اس وقت کے وزیراعظم، اے۔ کے۔ فضل الحق، جو اس وقت تک آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل بھی نہیں ہوئے تھے، اس قرارداد علیحدگی کے حق میں کافی حد تک قائل تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح بھی اس تصور سے متفق تھے۔ اس حد تک کہ انہوں نے 9 مارچ 1940 ء کو (قرارداد لاہور سے صرف 15 دن قبل) لندن سے جاری ہونے والے ہفتہ وار اخبار ”ٹائم اینڈ ٹائیڈ“ میں اسی تصور کو بنیاد بنا کر ایک مضمون بھی تحریر کیا، جس کا متن 1938 ء اور 1940 ء کی قراردادوں ہی کا لب لباب تھا۔

23 مارچ 1940 ء کو منٹو پارک لاہور میں، آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں، منظور ہونے والی قرارداد لاہور (جس کا جشن ہم ہر سال مناتے ہیں ) کے بعد اس بات کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا، کہ ہندوستان کی کوئی بھی قانون/دستور ساز اسمبلی، ایک نئی آزاد خودمختار مسلمان ریاست کے حصول کے حق میں ایک قرارداد پاس کرے، تاکہ ایک دستور ساز اسمبلی کی جانب سے منظور ہونے والی قرارداد زیادہ وزندار ثابت ہو اور برطانوی راج پر مسلمانوں کی آزادی کے لیے پر اثر انداز میں زور ڈال سکے۔

اس ضمن میں 3 مارچ 1943 ء کو سندھ کی دستور ساز اسمبلی میں اس وقت کے معزز رکن اسمبلی، آل انڈیا مسلم لیگ سندھ کے سرگرم کارکن اور قائداعظم محمد علی جناح کے دست راست، جناب غلام مرتضیٰ سید (المعروف جی۔ ایم۔ سید) نے قرارداد پاکستان پیش کی، جو اکثریت رائے سے منظور ہوئی۔ اس قراداد کا متن، سندھ اسمبلی کی مرکزی عمارت (پرانی عمارت) میں داخل ہوتے وقت تو ہمیں ایک بڑے بورڈ پر سنہرے حروف میں لکھا نظر آتا ہے، مگر ہم مطالعۂ پاکستان میں اپنے نؤنہالوں اور نؤجوانوں کو اس قرارداد کے بارے میں پڑھاتے نہیں ہیں۔

اس قرارداد کا ذکر ہر پانچ برس بعد ملک میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد سندھ اسمبلی کے اولین سیشن میں (جس میں تمام معزز ارکان سندھ اسمبلی حلف اٹھاتے ہیں ) اسپیکر صاحب بس صرف اس حد تک کرتے ہیں کہ ”یہ وہی اہم اسمبلی ہے، جس نے پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی۔“ مگر سندھ حکومت یا سندھ اسمبلی کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ کسی برس (یا ہر سال) 3 مارچ کو اس قرارداد کی سالگرہ منانے کے لیے خصوصی اجلاس طلب کریں اور اس دن تمام معزز ارکان اسمبلی کو یہ ہدایت کریں کہ وہ اس قرارداد اور قیام پاکستان میں اس قرارداد کی اہمیت کے حوالے سے اپنی تقاریر کریں، جس کی خصوصی پریس کوریج کا اہتمام بھی کیا جائے، تاکہ نئی نسل کو بھی اس اہم قرارداد کی اہمیت کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ 3 مارچ 1943 ء کو منظور ہونے والی اس قرارداد پاکستان کا اصل متن انگریزی میں ہے، جس کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے :

”یہ ایوان، سرکار کو سفارش کرتا ہے، کہ قابل احترام وائسرائے ہند کے توسط سے بڑی سرکار (برطانوی تاج) تک اس صوبے کے مسلمانوں کے جذبات اور اس خواہش کو پہنچایا جائے، کہ: جیسا کہ مسلمانان ہند، اپنے مذہب، فلسفے، سماجی رسومات، ادب، روایات اور اپنے خالص سیاسی اور اقتصادی نظریات کے لحاظ سے، ایک الگ قوم ہیں، جن کے یہ تمام اوصاف، ہندوؤں کے خصائل سے یکسر مختلف ہیں، جس کی بنیاد پر یہ (مسلمانان ہند) ایک جداگانہ، علیحدہ قوم کی حیثیت میں، ایک آزاد ریاست حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں، جو ریاست، ہندوستان اور برصغیر کے ان علاقہ جات پر مشتمل ہو، جہاں مسلمانوں کی آبادی کی اکثریت بستی ہے۔

اس لیے، یہ (اس خطے کے مسلمان) پرزور انداز میں اعلان کرتے ہیں، کہ ایسا کوئی بھی آئین ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا، جو مسلمانوں کو کسی ایسی مرکزی حکومت کے زیر دست رکھے، جو (حکومت) کسی دوسری قوم کے زیر اثر ہو۔ اس لیے آنے والے واقعات کی ترتیب میں ان (مسلمانوں ) کے لیے اپنی الگ آزاد ریاستوں کا ہونا ضروری ہے، جہاں وہ اپنے منفرد تور طریقوں کے ساتھ زندگی گزار کر، اپنا آزادانہ کردار ادا کر سکیں اور اسی لیے مسلمانان ہندوستان کو کسی بھی مرکزی حکومت کے زیرتسلط رکھنے کی کسی بھی کوشش کا نتیجہ، سخت سنگین، ناگوار نتائج پر مشتمل اور خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا۔ ”

قرارداد کا نتیجہ:
ہاں :
(حمایت میں ووٹ دینے والے معزز ارکان اسمبلی) :
1۔ شیخ عبدالمجید (سندھی)
2۔ خان بہادر الھ بخش کے۔ گبول
3۔ خان بہادر حاجی امیر علی لاہوری
4۔ محترم ارباب توگچانی
5۔ میر بندہ علی خان تالپور
6۔ میر غلام علی خان تالپور
7۔ سر غلام حسین ہدایت اللھ
8۔ خانبہادر غلام محمد اسران
9۔ سید غلام مرتضیٰ شاہ (جی۔ ایم۔ سید)
10۔ خانبہادر سید غلام نبی شاھ
11۔ جناب پیر الاہی بخش نواز علی
12۔ نواب حاجی جام جان محمد
13۔ مسز جینو بائی جی۔ الانا
14۔ ایس۔ بی۔ سردار قیصر خان
15۔ سید محمد علی شاھ
16۔ خانبہادر محمد ایوب کھہڑو
17۔ حاجی محمد ہاشم گزدر
18۔ جناب محمد عثمان سومرو
19۔ جناب محمد یوسف چانڈیو
20۔ سید نور محمد شاھ
21۔ رئیس رسول بخش خان انڑ
22۔ جناب علی گوہر خان مہر
23۔ جناب شمس الدین خان بارکزئی
24۔ خان صاحب سہراب خان سرکی
انکار:
(قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے معزز ارکان اسمبلی) :
1۔ راء صاحب گوکلداس میول داس
2۔ ڈاکٹر ہیمنداس آر۔ وادھوانی
3۔ جناب لالو مل آر۔ موتیوانی

ضرورت اس امر کی ہے کہ 1940 ء کی قرارداد پاکستان کی طرح 1938 ء اور بالخصوص 1943 ء کی قرارداد کو ہر سطح کے مطالعۂ پاکستان کے نصاب میں شامل کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کو تاریخی تسلسل کی ان گمنام کڑیوں کے بارے میں آگاہی مل سکے۔

3 مارچ 1943 ء کی سندھ کی دستور ساز اسمبلی کی پورے اجلاس کی کارروائی مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے :

Click to access Pakistan%20Resolution%20moved%20by%20G%20M%20Sayeed.pdf

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *