سوچنا جرم ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سال قبل صدا کاری کا جنون عروج پہ تھا۔ جب میں نے احمد ندیم قاسمی صاحب کی ایک آزاد نظم ”ایک درخواست کو احتجاجی لہجے میں ریکارڈ کرنے کی کوشش کی جس کے ابتدائیہ مصرعے کچھ یوں تھے

دیکھنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حد نظر سے آگے بڑھ کے دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے یقینوں اور گمانوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے

بابا جان کو سنائی اور داد پائی۔ اس پہلی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ نہایت ہی ایمانداری کے ساتھ قاسمی صاحب کی جدت پسندی کو آواز دینے میں میری زبان تھی۔ وقت گزرا، سرکاری نوکری کی مصروفیات نے اس شوق کو ٹھوکریں ماریں لیکن یہ خوبصورت جملے میری زبان پہ رہتے تھے۔

نصف مارچ گزر چکا تھا اور مین اپنے حصے کی سزا کاٹنے قرنطینہ کی بند کوٹھڑی میں چلا گیا۔ یہ وہ سزا تھی جس میں انسانیت ملوث تھی۔ ہر ملک اپنی باری پہ کرونا کی دیوی کو سامنے چند ہزار یا لاکھ لوگوں کی جانوں کا نذرانہ دے رہا تھا۔ کئی ملکوں کا نظم و ضبط دیکھ کر دیوی خوش ہو جاتی اور ان کی سزا کم ہو جاتی بد قسمتی سے ہم ان کی فہرست میں شامل نہ ہو سکے۔

اس بند کوٹھڑی میں دوسرے سزا یافتہ لوگوں کے ساتھ رابطے کا ذریعہ موبائل فون تھا۔ یعنی اس دوران سماج کا حصہ بننے کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ استعمال کرنی پڑتی تھی۔ خیر! اب یہی مشغلہ تھا کہ میں اور میرے کچھ مشرب رند دوست فیس بک پہ ہونے والے مکالمات میں حصہ دیتے تھے۔ کبھی کبھی تو بات اس سطح پہ چلی جاتی کہ افلاطون اور سقراط کی روحیں اپنی کم علمی پہ شرما جاتی تھیں۔ البتہ ارسطو میاں نے کبھی بھی ہماری بات کو سنجیدہ نہیں لیا۔

کچھ دوست کرونا سے نظر بچا کے ہمارے ڈیرے پہ تشریف لاتے اور ایک دوسرے سے 6 فٹ کے فاصلے پہ بیٹھ جاتے۔ اب کیوں؟ کب؟ کیسے؟ جیسے فضول سوالات بھی ہمارے ذہن میں آنے لگے۔ شاید ایک یا دو دوست ایسے تھے جن کے اذہان میں اچھے سوالات کے تانے بانے تھے۔ باقی تمام سنتے، مسکراتے اور اپنی کم علمی پہ سر دھنتے تھے۔ یقین مانیے کہ اگر افلاطون ہمارے زمانے میں ہوتا یا یوں فرض کیجیئے کہ ہم اس کے زمانے میں پائے جاتے تو اس مکالمات افلاطون لکھنے کے لیے کارمیڈس، چیریفون اور کراٹیاس جیسے فرضی کردار نہ لینے پڑتے۔

ہماری دان شوری کے چرچے عام ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہم ہر خاص و عام کی زبان پہ تھے، ہمارے مضافات میں حمام پہ کوئی ایسا نائی یا تندور پہ کوئی ایسی مائی نہ تھی کہ جس کی زبان پہ ہمارا ذکر نہ ہو۔

القصہ مختصر کچھ پڑھے لکھے لوگوں نے ہماری باتوں کو سنجیدگی سے لیا۔ ان پڑھے لکھے لوگوں میں زیادہ تعداد اسکولز کے دانشوروں اور کالجوں کے اساتذہ کی تھی۔ ڈاکٹر مبارک حیدر نے اپنی کتاب ”تہذیبی نرگسیت“ میں مدرسہ کے مولویوں کے بعد کالج اور سکولز کے اساتذہ کو بھی نرگسیت کے مرض میں مبتلا دیکھا۔ میں خود بھی استاد بھرتی ہوا تھا لیکن ابھی علم و حکمت کی اس سطح پہ نہیں پہنچا تھا۔ بات کارل مارکس کی نبوت کی ہو یا حجاج بن یوسف کے بھتیجے محمد بن قاسم کے اسلام بانٹنے کی، زمین کہ ساکن ہونے کہ جس پہ اعلیٰ حضرت نے فوز العظیم میں 105 دلائل دیے (عقل والوں کے لیے ) یا کسی مکمل مذہبی نظام کے رائج کرنے نظام کے رائج کرنے کی یہ دانشوروں کا ٹولہ برس پڑتا۔

پہلا زہر خند تیر جو مخالف سمت سے ہمارے خیمہ پہ برسا وہ تھا اس کا نام تھا ”ایمان کی کمزوری“ ۔ کہ ہمارے سوالات اس بات کی دلیل ہیں کہ ہمارا ایمان کمزور ہے۔ جیسے ہی یہ خبر ہمارے کانوں پہ پڑی کان سرخ ہو گئے۔ ہمارے اندر چھپے سادھو نے ایک بہت بڑا قہقہہ لگایا لیکن چہرے پہ مکرو سی مسکراہٹ اور اطمینان تھا۔ یہ پہلا فتویٰ تھا۔ شاید ان کے نزدیک ایسی بات پہ سوال کرنا بھی ایمان کی کمزوری ہے لہٰذا فتویٰ لگانا ایک آسان کام تھا۔

جتنے سوالات ہم پہ کیے گئے ان میں سے بیشتر کا تعلق آٹھویں جماعت کی مطالعہ پاکستان سے تھا۔ اور ہم جواب نہ ہونے پہ شرمندگی کا اظہار کرتے۔ ہمارے سوالات پہ ان لوگوں کا رویہ دیکھ کر مجھے ان معصوم بچوں کی فکر ہونے لگی جو کئی سوالات لے کر ان اساتذہ کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے رویوں کی بدولت اول تو کوئی سوال کرنے کی کوشش ہی نہیں کرے گا۔ کسی نے ایک دفعہ یہ جرات کی تو آئندہ دوسروں کو بھی کوئی ایسی حرکت کرنے سے منع کرے گا۔

ایمان کی کمزوری کے بعد اگلا فتویٰ (الزام ) جو ہم پہ لگایا گیا وہ یہ تھا کہ یہ ٹولہ ملحد ہو چکا ہے۔ ان فتاویٰ سے خوب لطف اندوز ہوا کرتے تھے اور کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ کیونکہ یہ پروفیشنل کی جانب سے کبھی نہیں لگایا گیا۔ بلکہ ان میں سے زیادہ تعداد، کمپیوٹر سائنس، فزکس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے لوگوں کی تھی۔ لیکن اس خطرے سے بھی آگاہ رہتے کہ بات پروفیشنلز تک پہنچ گئی تو ہمارے ساتھ بھی شاید وہی ہو جہ مشال خان جیسے دوستوں کے ساتھ ہو چکا تھا۔ ہمارے ہاں سائنس ابھی تک معبدوں سے آزاد نہیں ہو سکی ہے۔ اور ہماری تنزلی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ میرے مشاہدہ کے مطابق مذہبی تنگ نظری کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک لوگ سائنس کے لوگ ہیں۔ اور یہ بات پریشان کن بھی ہے۔

اب ہم شیطان پرستی کے دائرے میں داخل کر دیے گئے تھے۔ اور اگلی پابندی سوال اٹھانے پہ لگائی گئی۔ ہمارے سب سے کم عمر دوست جو کہ بارہویں جماعت کا طالبعلم تھا اسے شیطان پرست کے خطاب سے نوازا گیا جو کہ ان دنوں تاریخ طبری اور صحیح بخاری جیسی مقدس کتا ب کے مطالعہ میں مصروف تھا۔ خیر! کالج جانے کی عمر میں تو سبھی شریر ہوتے ہیں بعض کو تو ذات شیطان کے لقب سے بھی نوازا جاتا ہے۔ کچھ دنوں بعد ایک دوست کا فون آیا جو کافی بوکھلاہٹ کا شکار تھا اس نے اس نے اس بات سے آگاہ کیا کہ ”مجھے قادیانی مذہب کے اختیار کرنے کی افواہ پھیلائی جا رہی ہے اب میں کیا کروں“ میں نے جواب میں کہا کہ تم آرام کرو۔ اور مجھے بھی آرام کرنے دو اور فون کال کاٹ دی۔

اس کے بعد جو ”دانشوروں“ افواہ پھیلائی گئی وہ کچھ یوں تھی۔ ”یہ گروپ سادہ مسلمانوں کو ملحد کرتا ہے اس کے بعد انہیں شیعہ کرتا ہے اور پھر خاتمہ مرزائیت پہ ہوتا ہے۔ اس بات نے ہمیں کافی حیران کیا۔ کیونکہ شیعہ ہونے سے پہلے ملحد ہونا اس بات کی دلیل تھی کہ ایک دفعہ بندے کو نیوٹرل کیا جاتا ہے۔ لیکن شیعہ مذہب سے قادیانیت کی طرف کوئی راستہ نہیں جاتا۔

آج علی عباس جلالپوری کی کتاب روایات فلسفہ کھولی تو اس کے تیسرے صفحہ پہ افلاطون سے منسوب یہ حکمت بھرا جملہ لکھا تھا۔
” کسی انسان پہ کبھی اس سے بڑی مصیبت نازل نہیں ہو سکتی کہ وہ عقل و خرد کی مخالفت کرنے لگے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ابوذر علی، سرگودھا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *