اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فارسی کے استاد معین نظامی صاحب نے اپنے بلاگ میں حافظ شیرازی کا ایک شعر نقل کیا ہے۔ وہ شعر ہماری آج کی صورتحال پر کچھ اتنا صحیح بیٹھتا ہے کہ اس وقت ہم اسے آپ کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہاں ”آپ“ سے ہماری کیا مراد ہے؟ یہ شعر پڑھ کر خود ہی آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔ حافظ کا شعر ہے :

گفتگو آئین درویشی نبود
ورنہ با تو ماجراہا داشتیم

درویشی کا دستور شکوے کی اجازت نہیں دیتا، ورنہ تمہارے ساتھ تو ہمارے بہت شکوے شکایتیں ہیں۔ اس وقت ہماری حکومت یمین و یسار (دائیں بائیں ) ہر جانب سے محفوظ ہے۔ اسے کسی جانب سے بھی کسی قسم کا خطرہ نظر نہیں آتا۔ اس کے باوجود ہم اٹھتے بیٹھتے ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے، چاروں جانب خطروں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ادھر ہم ”ایک پیج“ پر ہونے کا بھی اتنا شور مچاتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے خطرے ہمارا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہے، اور ان خطروں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔

معلوم نہیں آج کل کچھ لوگوں کی کوئی نہ کوئی چڑ ہوتی ہے یا نہیں؟ ہمارے لڑکپن میں کسی نہ کسی شخص کی کوئی چڑ ضرور ہوتی تھی، مثلاً کچھ لوگ ”بھنڈی“ کے نام سے چڑتے تھے۔ کسی نے انہیں بھنڈی کہا اور وہ اول فول بکنے لگے۔ کسی شخص کی چڑ ”کدو“ ہوتی تھی۔ ان کو دیکھتے ہی آوارہ لڑکے زور زور سے ”کدو کدو“ کہتے، اور وہ صاحب الٹی سیدھی سنانا شروع کر دیتے تھے۔ ہمارے ایک رشتے دار ”دولہا بھائی“ کہنے سے چڑتے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی شریر لڑکے کہتے ”دولہا بھائی سلام“ اور ان کا پارہ آسمان پر چڑھ جاتا۔ اس پر وہ اپنی زبان میں جو کچھ کہتے، وہ ہم یہاں بیان نہیں کر سکتے۔

یہ سب باتیں ہمیں اس لئے یاد آئیں کہ آج کل ”صوبہ سندھ“ ہماری چڑ بن گیا ہے۔ اگرچہ ہمارے وزیر اعظم اس بارے میں خود اپنے منہ سے کوئی ایسی ویسی بات نہیں نکالتے، لیکن ان کے آہلی موالی اس صوبے کا نام سنتے ہی ایسے بھڑک اٹھتے ہیں جیسے ان کے سارے جسم میں آگ لگ گئی ہو۔ پھر وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر اس صوبے کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں جیسے دنیا بھر کی خرابیاں اگر کہیں پائی جاتی ہیں تو اسی صوبے میں۔ ہماری عرض تو یہ ہے کہ عمران خان صاحب صرف پنجاب، پختونخوا یا بلوچستان کے وزیراعظم ہی نہیں بلکہ سندھ کے بھی وزیر اعظم ہیں، اس لئے ہماری مؤدبانہ اور عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر انہیں وہاں آئینی یا قانونی طور پر کوئی خرابی یا کوئی سقم نظر آتا ہو تو اسے سامنے لائیں اور اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔

ان کے ساتھیوں کے اس طرح شور مچانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ الٹا ان کے گلے کا ہی نقصان ہو گا۔ آخر ہم نے سندھ کو اپنی چڑ کیوں بنا لیا ہے؟ اگر سندھ میں موجودہ حکومت کی کارکردگی اتنی ہی خراب ہے تو آنے دیجئے اگلے انتخابات، عوام خود ہی اس کا مزہ چکھا دیں گے۔ آخر اتنی جلدی کیا ہے؟ آپ خود ہی تو کہتے ہیں کہ آئندہ الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوں گے تو آنے دیجئے اگلے الیکشن۔ لیکن یہاں تک لکھنے کے بعد خیال آیا کہ اگر یہ ساتھی سندھ کو اپنی چڑ نہ بنائیں، اور ہر دوسرے دن اس کی غلطیاں نہ گنوائیں تو ان کا جواز ہی کیا رہ جائے گا؟

اس وقت ہم ایک عالمی بلائے ناگہانی کی زد میں ہیں۔ ساری دنیا اس موذی وبا کی سنگینی کا پورا ادراک رکھتی ہے اور تھوڑی بہت نرمی کے باوجود پوری تندہی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی کررہی ہے۔ ان ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ وہاں کے عوام بھی اس کا پورا احساس رکھتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں اس کا احساس اور ادراک کتنا ہے؟ اس کا نمونہ ہم نے چند دن پہلے ہی دیکھ لیا۔ حکومت نے لاک ڈاؤن میں ذرا سی نرمی کا اعلان کیا اور پورے ملک میں جیسے سارے بند ٹوٹ گئے۔

ہر چھوٹے بڑے بازار میں عورتوں، مردوں اور بچوں کا ایک جم غفیر ایسے نکل آیا جیسے برسوں کی قید سے آزاد ہوئے ہوں۔ کھوے سے کھوا چھلنا تو ایک معمولی سا محاورہ ہے، وہاں تو باقاعدہ ہاتھا پائی تک کی نوبت آ گئی تھی بلکہ نوبت آ گئی ہے۔ ۔ ۔ ”یہ کپڑا میں نے لیا ہے، تم نے اس پر ہاتھ کیوں ڈالا؟“ اور تو اور اس بھیڑ بھڑکے میں دودھ پیتے بچے بھی ماؤں کے کندھوں سے لٹکے ہوتے ہیں۔ کسی کو پروا نہیں ہوتی کہ انہیں نہیں، اس ننھی سی جان کو اگر کچھ ہو گیا تو پھر کیا ہوگا؟

وزیراعظم نے بالکل بجا فرمایا کہ آخر کا روبارکا پہیہ کب تک ٹھہرا رہے گا۔ اسے بہرحال چلنا ہے، ورنہ پوری معیشت ہی ٹھپ ہو جائے گی اور ہر روز اپنی روزی کمانے والا اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالے گا؟ لیکن اس غول بیابانی کو کسی قاعدے قانون کے دائرے میں لانا بھی تو حکومت کا ہی فرض ہے۔ وزیراعظم کو اس وقت کتنا اچھا اور کیسا سنہری موقع ملا تھا جب پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ وزیراعظم بنفس نفیس وہاں تشریف لے آتے، اپوزیشن کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھاتے، اور مل جل کرطے کرتے کہ جب تک یہ آفت ہمارے سروں پر سوار ہے، اس وقت تک اپنے ذاتی اور جماعتی جھگڑے بھول جائیں اور عوام کی بھلائی کا ہی سوچیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

دل خوش فہم کو یقین ہے کہ ہمارے وزیراعظم بھی اس بدنصیب قوم کو تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی آرام، سکون اور امن و آشتی کی فضا مہیاکرنا چاہتے ہوں گے اور یہ بھی جانتے ہوں گے کہ امن و سکون کی فضا ملک کے تمام صوبوں اور علاقوں میں دوستی اور بھائی چارے کا ماحول پیدا کر کے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ عمران خاں یہ بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ اس طرح کی پیش قدمی حکومت کی طرف سے کی جاتی ہے۔ ہمیں تو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اس اجلاس میں سندھی کشتی ملاکھڑو کا جو مظاہرہ کیا گیا، اور اپنے مدمقابل کی طاقت آزمانے کی جو کوشش کی گئی، وزیر اعظم کی موجودگی میں شاید ایسا نہ ہوتا۔

چلئے، آپ اسے ہماری خوش فہمی کہہ لیجیے۔ کبھی توہمیں خوش فہمی میں زندہ رہنے کی عادت بھی ڈالنا چاہیے۔ بدگمانیوں کے بارے میں تو پہلے ہی کہاگیا ہے :، ان بعض الظن اثم، یعنی بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔ لیکن یہ سب لکھنے کے بعدہمیں پھر سندھ کی ”چڑ“ یاد آ گئی، گویا جن اصحاب کے بارے میں کہاجا رہا ہے کہ انہوں نے صوبہ سندھ کو اپنی چڑ بنارکھا ہے، اگر ایسا ہوجاتا تو پھر ان کا کیا بنتا؟ اس سوال کا جواب بھی جناب وزیراعظم کے پاس ہے، بشرطیکہ وہ ہمارے دل خوش فہم کی سنتے۔

ان بری خبروں میں ایک اچھی خبر بھی پڑھ لیجیے۔ اس منحوس کورونا نے جہاں اور اچھی محفلیں اجاڑی ہیں وہاں نیر علی داداکی ماہانہ بیٹھک بھی اجاڑ دی ہے، لیکن سید قاسم جعفری کہاں نچلے بیٹھنے والے ہیں۔ انہیں ڈاکٹر مبشر حسن کی یاد میں ایک محفل برپاکرنا تھی اور محفل بھی پاکستان اور ہندوستان کے نامور دانشوروں کی، اس کے لئے انہوں نے ویڈیوکا سہارا لیا، اور پاکستان اور ہندوستان میں موجود ڈاکٹر مبشر حسن کے نامور دوستوں کواس طرح جمع کیا کہ وہ ایک دوسرے کی بات سن سکیں۔

ان کے یہ پیغام ریکارڈ کرائے گئے اور سب کو ان سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔ جن کے پیغام پیش کیے گئے ان میں سید بابر علی، آئی اے رحمن، جاوید نقوی، عارفہ سیدہ، فرزانہ عالم، جیوتی پانڈے، پروفیسر گوپی چند نارنگ، فاطمہ بٹ، افتخار عارف، قاسم جعفری، شیبا جارج، اور سیدہ حمید شامل ہیں۔ ان ناموں سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ کس شخصیت کا تعلق کس ملک سے ہوگا۔ جاوید نقوی کو ہم ان کے انگریزی کالموں کے حوالے سے جانتے ہیں۔ ان کا تعلق بھارت سے ہے۔ سیدہ حمید ڈاکٹر مبشر حسن کی قریبی عزیزہ ہیں۔ بھارت کے پلاننگ کمیشن کی رکن رہ چکی ہیں۔ ڈاکٹر نارنگ کو توآپ بخوبی جانتے ہیں۔ افتخار عارف نے کہا ہے نا:

ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں
اصل مقصد تو دلوں کو درد سے آباد رکھنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *