یہ سفید پوش کہاں جائیں؟
پچھلے کالم میں لکھ دیا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا۔ اس حوالے سے داتا دربار کے لنگر کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ اس کے علاوہ مخیر اصحاب نے شہر کے مختلف علاقوں کی دکانوں میں دستر خوان کھول رکھے ہیں، جہاں صبح شام غریبوں کو کھانا مل جاتا ہے اور چند ہوٹل اور بیکریاں بھی مفت کھانا تقسیم کرتی ہیں۔ یہ لکھنا تھا کہ ہمارے اوپر چاروں طرف سے جو لعن طعن شروع ہوئی، وہ اب تک جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تمہیں وہ غریب تو یاد رہ گئے جو ان دسترخوانوں پر جا کر اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں، لیکن ان سفید پوش غریبوں کو بھو ل گئے جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔
وہ تو اپنے پڑوسی تک کو یہ بتاتے شرماتے ہیں کہ آج انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کس طرح بھرا۔ ان کی بات بھی صحیح ہے۔ بھلا سو چئے، ان سفید پوشوں کی طرف کون نظر ڈالتا ہے۔ یہ کون سوچتا ہے کہ ان دنوں یہ سفید پوش کس طرح گزارہ کر رہے ہیں؟ حکومت نے احساس جیسے پروگرام شروع کر رکھے ہیں، لیکن معلوم نہیں یہ پروگرام ان سفید پوشوں تک بھی پہنچتا ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے یہ اصحاب کسی سے مانگنے والوں کی فہرست میں اپنا نام تو نہیں لکھوا سکتے، خواہ وہ حکومت کے ادارے ہی کیوں نہ ہوں۔
Read more



