یہ سفید پوش کہاں جائیں؟

پچھلے کالم میں لکھ دیا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا۔ اس حوالے سے داتا دربار کے لنگر کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ اس کے علاوہ مخیر اصحاب نے شہر کے مختلف علاقوں کی دکانوں میں دستر خوان کھول رکھے ہیں، جہاں صبح شام غریبوں کو کھانا مل جاتا ہے اور چند ہوٹل اور بیکریاں بھی مفت کھانا تقسیم کرتی ہیں۔ یہ لکھنا تھا کہ ہمارے اوپر چاروں طرف سے جو لعن طعن شروع ہوئی، وہ اب تک جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تمہیں وہ غریب تو یاد رہ گئے جو ان دسترخوانوں پر جا کر اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں، لیکن ان سفید پوش غریبوں کو بھو ل گئے جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔

وہ تو اپنے پڑوسی تک کو یہ بتاتے شرماتے ہیں کہ آج انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کس طرح بھرا۔ ان کی بات بھی صحیح ہے۔ بھلا سو چئے، ان سفید پوشوں کی طرف کون نظر ڈالتا ہے۔ یہ کون سوچتا ہے کہ ان دنوں یہ سفید پوش کس طرح گزارہ کر رہے ہیں؟ حکومت نے احساس جیسے پروگرام شروع کر رکھے ہیں، لیکن معلوم نہیں یہ پروگرام ان سفید پوشوں تک بھی پہنچتا ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے یہ اصحاب کسی سے مانگنے والوں کی فہرست میں اپنا نام تو نہیں لکھوا سکتے، خواہ وہ حکومت کے ادارے ہی کیوں نہ ہوں۔

Read more

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں؟

فارسی کے استاد معین نظامی صاحب نے اپنے بلاگ میں حافظ شیرازی کا ایک شعر نقل کیا ہے۔ وہ شعر ہماری آج کی صورتحال پر کچھ اتنا صحیح بیٹھتا ہے کہ اس وقت ہم اسے آپ کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہاں ”آپ“ سے ہماری کیا مراد ہے؟ یہ شعر پڑھ کر خود ہی آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔ حافظ کا شعر ہے :

گفتگو آئین درویشی نبود
ورنہ با تو ماجراہا داشتیم

Read more

احمد فراز سے شبلی فراز تک

احمد فراز کے صاحب زادے شبلی فراز جب عمران خاں کی جماعت میں شامل ہوئے تھے تو اسی وقت ہم حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے تھے۔ فراز کا بیٹا اور اس جماعت میں جس کے مشیر اعلیٰ جنرل ضیاالحق کے ایک قریبی ساتھی لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمن تھے۔ وہی جو نفسیاتی جنگ کے ماہر مانے جاتے تھے اور جو اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے حوالے سے ضیاالحق کے مشیر خاص تھے؟ ان دنوں ملتان میں ہمارے

Read more

بنی گالہ کی دیوار، جنات اور عام آ دمی

بچپن میں ہماری نانیاں دادیاں اور اماں رات کو کہانی سنایا کرتی تھیں تو وہ اس طرح شروع کرتی تھیں ’’ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا رسولؐ بادشاہ۔ نہ کہنے والے کے گلے عذاب، نہ سننے والے کے گلے عذاب۔ جس نے یہ کہانی بنائی ہے اس کے گلے عذاب‘‘۔ تو یہاں ہم جو کچھ بیان کر رہے ہیں اس کا عذاب و ثواب اس انگریزی ہفت روزہ (The Friday Times) کے سر ہے، جس نے یہ کہانی یا

Read more