وہ نائی تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے گزشتہ دنوں مارکیٹوں کو بند رکھنے کے معاملے پر صوبائی حکومت پر گرفت کی۔ خبر کے مطابق ”دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ جب چھوٹی بڑی مارکیٹوں کو کھول دیا گیا تو نائی کی دکانیں کیوں بند ہیں؟ انہوں نے کہا کہ باربر کی دکانیں بند رکھی جا رہی ہیں تو لوگ عید پر بال کیسے کٹوائیں گے؟ نائی کی دکان کے لیے بھی ایس او پیز بنا دیں، عمل درآمد نہ ہو تو انہیں بند کر سکتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ان سے پوچھا کہ باقی مارکیٹیں کھول دی گئی ہیں تو حجام اور بیوٹی پارلرز کیوں نہیں کھول سکتے؟“

”بینچ کے سربراہ نے کراچی کے کمشنر سے استفسار کیا کہ کچھ مارکیٹوں کو کیوں بند کیا گیا جس پر کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ ان مارکیٹوں نے ایس او پیز کی پاسداری نہیں کی تھی جس پر انہیں بند کر دیا گیا۔ عدالت نے کمشنر کراچی کو حکم دیا کہ جن مارکیٹوں اور دکانوں کو سیل کیا گیا ہے ان کو دوبارہ کھول دیں۔“

ہماری سمجھ میں تو یہ آیا ہے کہ حجام اور بیوٹی پارلر کھول دیے جائیں اور انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ایس او پیز کی پابندی کریں۔ نیز اگر وہ ایس او پیز کی پابندی نا کریں تو ان کو دوبارہ کھول دیا جائے۔

کرونا کے معاملے میں ایس او پی یہ ہے کہ دو اشخاص کے درمیان کم از کم فاصلہ ایک سے دو میٹر تک ہونا چاہیے۔ حجام غالباً ایک بانس کے سرے پر اپنی قینچی اور استرا وغیرہ باندھ کر کام کیا کریں گے اور بیوٹی پارلر والیاں وائپر سے فیشل کر کے کریم اور پاؤڈر تھوپا کریں گی۔

یہ اہم نوٹس لیا گیا ہے۔ کئی لوگ ہم جیسے بھی ہوتے ہیں جو سال بھر میں عید کے عید نہاتے اور بال کٹواتے ہیں۔ اگر عید سے قبل وہ بال کٹوانے کی شش ماہی مہم پر بازار جائیں اور نائی کی دکان بند پائیں تو ان کا کیا حال ہو گا؟ ہمارے لیے تو یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ اگر نائی ہی نا ہو تو کیا آپشن باقی رہ جاتی ہے؟ کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنی اپنی بیگم کے ہاتھ میں استرا اور قینچی تھما کر اس کے سامنے سر جھکا سکتے ہیں؟ اردو میں تو شوہر کو کہا بھی خصم جاتا ہے جس کو حسبِ رواج بغیر اعراب کے لکھا جائے تو اس کا مطلب دشمن نکلتا ہے۔ کون ذی شعور شخص ایسا ہے جو دشمن کو قینچی استرا تھما کر جان اس کے ہاتھ میں دینے کا حوصلہ یہ رجز پڑھتے ہوئے رکھتا:۔

ہم نے ان کے سامنے اول تو ”استرا“ رکھ دیا
پھر کلیجا رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا

یہ صورت حال خاص طور پر اس وقت مزید مہلک ہونے کا امکان ہے جب بیوٹی پارلر بند ہوں، شوہر اپنی بیگم کے ہاتھوں خوبصورت ہو رہے ہوں اور سامنے ہی شیشے میں بیگم صاحبہ کو اپنی بغیر بیوٹی پارلر والی صورت دکھائی دے رہی ہو۔

مرد تو خیر نائی نا ملنے پر ملنگ یا صوفی ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ حسنین جمال تو خیر اپنے بچپن سے ایسے ہی ہیں مگر لاک ڈاؤن میں نائی نا ملنے سے وجاہت مسعود بھی اب ان کے پیروکار دکھائی دینے لگے ہیں۔ مگر خواتین کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔ حسینائیں اگر بیوٹی پارلر بند ہونے پر حسنین جمال کی پیروکار دکھائی دینے لگیں تو بہت گڑبڑ ہو جائے گی۔ شوہر برادری ان سے مردانہ وار مقابلہ کرنے پر مائل ہو سکتی ہے جس کا نتیجہ پہلے ہی واضح ہے کہ کیا نکلے گا۔ شوہروں مزید کتنے زخم سہیں گے؟ ان کا سب سے بڑا ہیرو کیپٹن جیک سپیرو بھی گزشتہ دنوں اپنی گھر والی سے خوب پٹائی کروا چکا ہے اور اب عدالت میں فریادی ہے کہ میری داد رسی کی جائے۔

ایسی گمبھیر صورت حال میں سندھ ہائی کورٹ کے حجامت خانے اور صنم خانے کھولنے کے احکامات شوہروں کے لیے رحمت ثابت ہوں گے۔ یادش بخیر ہمارے ایک دوست کا شادی کا ارادہ ہوا تو اس نے لڑکی کے متعلق اپنی اماں کے سامنے ایک ہی شرط رکھی۔ کہنے لگا کہ اماں لڑکی ایسی ہو کہ رات کو جب آنکھ کھلے تو بندہ اسے اپنے پہلو میں لیٹا دیکھ کر خوف سے دھڑ دھڑ کانپنے نا لگے۔ بیوٹی پارلر نا کھلنے کی صورت میں ایسے حضرات دائمی خوف کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بظاہر یہ صورت حال تاریخ میں پہلی مرتبہ نہیں ہوئی ہے۔ ناصر کاظمی صاحب پر بھی یہ بجوگ پڑا تھا تو وہ اپنے نائی کو یاد کر کے بے ساختہ یہ اشعار کہہ اٹھے:۔

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ نائی تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں، کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں
ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا
ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے
نوٹ: ہماری یادداشت نہایت خراب ہو چکی ہے۔ کوئی شعر غلط لکھ دیا ہو تو خود ہی اسے درست کر کے اس کا وزن پورا کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1288 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *