چین نے عالمی لیڈر بننے کا موقع گنوا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی ایک دہائی سے بین الاقوامی سیاسی منظرنامے پر آئسولیشن اور نیشنلزم نے جس طرح سے اپنے پنجے گاڑے ہیں اور جمہوری اقدار کو جس بری طرح سے متاثر کیا ہے اس نے مروجہ جمہوری نظام اور عالمگیریت کے نظریے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بالخصوص امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے کرونا وائرس کی وبا کو جس طرح ہینڈل کیا اور یہ تاثر دیا کہ صرف امریکی شہریوں کی زندگیاں اہم ہے جبکہ باقی دنیا کے لوگ اپنا خیال خود رکھیں، اس سے امریکہ کے بین الاقوامی لیڈر ہونے کے کرداراور دعوے کوشدید نقصان پہنچا ہے۔

سیاست چاہے علاقائی ہو قومی یا بین الاقوامی اس میں  درست وقت پر درست فیصلے کی اہمیت مسلم ہے۔ ہر بحران اپنے اندر ایک موقع لیے ہوتا ہے۔ کرونا ایک بین الاقوامی بحران ہے جس نے بلاامتیاز پوری دنیا کے انسانوں کو متاثر کیا۔ لیڈرشپ کا اندازہ بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے جہاں عام انسان اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں یا پینک کر جاتے ہیں یا وسائل کی کمی انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے وہاں ان کی نظریں ایسے افراد یا ممالک کی طرف اٹھتی ہیں جن سے انہیں امید ہوتی ہے کہ وہ اس کڑے وقت کو ٹالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں تباہ ہونے سے بچا لیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی نااہلی اور بے حسی نے چین کو یہ موقع دیا تھا کہ وہ ان حالات میں دنیا کے تمام ممالک بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک کہ جہاں وسائل کی شدید کمی اور صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا، انہیں تمام اشیائے ضروریہ جن میں میڈیکل کٹ اور طبی عملہ کی فراہمی شامل ہیں مہیا کرتا اور ان کی مالی امداد کرتا۔

اس وقت امریکہ بین الاقومی تجارتی معاہدوں کو اپنے حق میں کرنے پر تلا ہوا ہے اور اس کے لیے کئی ممالک کی بازو مروڑ رہا ہے حتی کہ انڈیا بھی اس صورتحال سے نالاں ہے۔ امریکہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو بطور ٹول استعمال کر رہا ہے۔ ایسے میں چین کو وہ سفارتی فتح حاصل ہوتی جو امریکہ کھو چکا ہے۔

پوسٹ کرونا کاروباری چیلنجز کا شکار صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ چین بھی ہے ہے اور چین کو اس وقت ان تمام ممالک / منڈیوں کی تلاش ہے جہاں وہ وہ اپنی مصنوعات کے لئے مناسب قانون سازی کے کروا کر کر مراعات حاصل کر سکے۔

بہت سے ممالک جو امریکہ کی ناراضی مول نہیں لینا چاہتے وہ چین کو تجارتی اور اسٹرٹیجک مراعات دینے سے گریزاں تھے تھے ان حالات میں چین ان کے ساتھ کھڑا ہوکر ان کو امداد مہیا کر کے وہاں کے عوام کے دلوں میں اپنے لیے وہ ہمدردی حاصل کر سکتا تھا جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی حکومتیں آسانی سے چین کے کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال سکتیں۔ بالخصوص یورپ جہاں چین کے خلاف عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ میڈیا پر چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے سنگین الزامات لگائے جاتے ہیں اور وہاں کے عوام اس معاملے میں حساس ہے۔ چین وہاں اپنے بارے میں رائے کو تبدیل کرکے سفارتی فتح حاصل کرسکتا تھا۔

اقوام متحدہ میں جہاں امریکہ واضح طور پر ایک اکثریتی بین الاقوامی لیڈر کا کردار ادا کر رہا ہے بہت سے ملکوں کی حمایت چین حاصل کرسکتا تھا اور کئی بین الاقوامی قضیوں اور مسائل پر چین کی بات کی اہمیت و وقعت کئی گنا بڑھ جاتی اور کئی ممالک اس کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار ہو جاتے ۔

لیکن بدقسمتی سے چین نے بھی آئسولیشن کی پالیسی اختیار کی اور اس موقع کو گنوا دیا ۔ یہ وہ تاریخی موقع تھا جس میں بین الاقوامی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا تھا اور ایسے موقعے بار بار نہیں آتے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *