علما کرام اور وسعت قلبی کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اختتام کو پہنچا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس مہینے کے فیوض و برکات کے حصول کے لئے عبادتیں اور ریاضتیں کیں اور اپنی آئندہ زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا عہد کیا۔

دوسری طرف ہمارے ٹیلی ویژن چینلز نے حسب سابق بے مقصد اور بھونڈے پروگراموں کے ذریعے نوجوان نسل کے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا۔ خصوصاً ایک چینل پر نشر ہونے والے پروگرام، جس میں تمام فرقوں یا یوں کہیے مسالک کے علماء کرام شرکت کرتے تھے۔ حیرت ہے کہ ایک طر ف قرآن کریم کی واضح ہدایت ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔ اور دوسری طرف مختلف انداز کی ٹوپیاں پگڑیاں دستاریں عمامے داڑھیوں کی تراش خراش اور رنگ صاف ظاہر کرتے تھے کہ حضرت کا تعلق کس فرقے سے ہے۔

یعنی کھلے عام حکم الہیٰ کی نافرمانی اور تکذیب اور ببانگ دہل اعلان کہ ہمارا تعلق فلاں فرقے سے ہے۔ گفتگو کے موضوعات بے مقصد فروعی مسائل اور اختلافات اور ان کے جوابات میں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد۔ اختلاف رائے کا یہ عالم کہ علماء حضرات برملا ایک دوسرے کو جھوٹا کہہ رہے تھے اور انہیں علم تھا کہ ان کا یہ پروگرام چھتیس سے زیادہ ممالک میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے جو تاثر بنتا ہے اس کا اندازہ ہر ذی عقل انسان لگا سکتا ہے۔

آج جب کہ وطن عزیز میں غربت، افلاس، ناداری، بیماری اور بے روزگاری عروج پر ہے، اصل مسائل اور مصائب سے روگردانی کرتے ہوئے سطحی گفتگو کا کیا مقصد ہے، اس وقت پاکستان میں چالیس فیصد سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔ ہر ادارے اور محکمے میں شدید بحران کی کیفیت ہے۔ انصاف کا حصول ایک قصہ پارینہ ہے۔ دولت اور اختیارات کی غیرمنصفانہ تقسیم پتھر کے زمانے سے بھی بدتر ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت، علاقائیت اور زبان و ثقافت کے جھگڑوں نے پورے معاشرے کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ لوٹ مار منی لانڈرنگ، جعلی بنک اکاؤنٹس، زمینوں اور جائیدادوں پہ قبضہ قتل و غارت گری، بے راہ روی، غرض کون سا شعبہ ہے جو روبہ زوال نہیں۔ ایسے میں مولانا حضرات کا خواتین کے برقع، حجاب اور رضاعت کے موضوع پر لایعنی گفتگو کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا۔

جہاں تک برقعے کا تعلق ہے، دیہات میں گندم کی کٹائی کرتی، فالسے اور کپاس کے پھول چنتی، مال مویشیوں کو چارہ ڈالتی، کچے گھروں کی لپائی کرتی، مٹی کے برتن بناتی خواتین اگر برقعہ نہیں کرتیں تو اسلام کہاں سے خطر ے میں پڑ گیا۔

شہروں میں طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والی عظیم قابل قدر خواتین، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسلک خواتین، بنکوں، مالیاتی اور تعلیمی اداروں میں خدمات سر انجام دینے والی خواتین کیا محض اس وجہ سے خارج از اسلام ٹھہریں کہ وہ برقعہ یا حجاب نہیں کرتیں۔ اور پھر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ہر برقعہ پوش اور حجاب کرنے والی خاتون اعلی کردار کی مالک ہوتی ہے۔ اور جو نہیں کرتیں وہ کردار کے اس معیار پہ پورا نہیں اترتیں، جس کا تقاضا یہ مولانا حضرات کرتے ہیں۔

ہمیں حیرت ہے کہ وطن عزیز اس وقت گمبھیر مسائل میں گھرا ہوا ہے اور مولانا صاحبان کے نزدیک ایک ماں کا بچے کو دو سال تک دودھ پلانا تمام مسائل سے بڑا مسئلہ ہے۔ قرآن و سنت کے احکامات سر آنکھوں پر لیکن رضاعت کے معاملات میں طبی نکتہ نظر کو بھی ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ پھر محنت کش مزدور اور اعلی تعلیم یافتہ خواتین جو مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رہی ہیں، ان کے لئے کیا مشکلات ہوتی ہیں۔ اس کا اندازہ ان حضرات کو کیوں نہیں ہوتا۔

خواتین ہمارے معاشرے کا پچاس فیصد حصہ ہیں۔ اگر تمام خواتین کو برقعہ پہنا دیا جائے تو کیا پاکستان سپر پاور بن جائے گا، کیا معاشرتی اور سماجی ناہمواریاں ختم ہو جائیں گی، کیا امن و امان قائم ہو جائے گا، کیا ملک خوشحال ہو جائے گا، اربوں کھربوں کے بیرونی قرضے ختم ہو جائیں گے، فرقہ بندی ختم ہو جائے گی، اور تمام مسلمان ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے۔

ہمارے علما ء کرام لکیر کے فقیر ہیں۔ سینکڑوں سال پہلے کے فقہی مسائل اور ان پر آئمہ کرام کی آرا ء بلاشبہ تاریخ کا اثاثہ ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں جس وسعت النظری کی ضرورت ہے، جس پر سنجیدگی سے غور اور اجتہاد ہونا چاہیے تھا، اس کا فقدان ہے۔ فرقہ واریت نے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ سرکار دو عالم ﷺ صحابہ کرام رض کے ہمراہ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک بدزبان بدو مسجد میں داخل ہوا اور تمام حضرات پر قہر آلود نظر ڈالتے ہوئے بولا: تم میں سے کون ہے جو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ صاف ستھرے پیوند لگے کپڑے پہنے ایک عام آدمی کی سطح پر صحابہ کرام رض کے درمیان تشریف فرما ہوتے تھے۔ گلے میں منکے اور مالائیں، نہ سب سے مختلف وضع قطع، نہ ہاتھوں میں بیس پچیس انگوٹھیاں۔ تو پھر یہ آج کے عجیب و غریب حلیوں میں علما ء کرام کس سنت نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہیں۔

اپنے اپنے فرقوں کی تختیاں سجائے ان سے اتحاد عالم اسلامی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ علامہ اقبال تو نیل کے ساحل سے کاشغر تک اتحاد بین المسلمین کی خواہش رکھتے تھے۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ آج کے علماء کرام چیچہ وطنی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بیچ اتحاد پیدا نہیں کر سکتے۔ یہ بھلا عالمی سطح پہ مسلمانوں کو کہاں متحد کر پائیں گے۔

جو صاحب زوجہ محترمہ کے ساتھ سندھی بریانی، نرگسی کوفتے اور متنجن بنانے کی ترکیبیں بتا رہے ہوتے ہیں، وہی دینی پروگرام میں اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ بے مقصد اور لایعنی سوالات ٹھٹھے اور قہقہے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والے سوالات کر کے یہ مذہب کی تضحیک نہیں کرتے تو اور کیا کرتے ہیں۔

ہمیں آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے علما ء کرام خواتین کے پیچھے ہاتھ دھو کر کیوں پڑ گئے ہیں۔ ان کی نظریں صرف خواتین کی زیبائشوں تک محدود کیوں ہیں۔ کیا یہ سارے اعلی کردار کے مالک ہیں۔

ہم نے ایک مولانا سے رتھ فاو کے بارے میں پوچھا، جس کا انہیں علم نہیں تھا۔ ہم نے بتایا: ایک حسین و جمیل نازک اندام لڑکی اپنے ملک کی آسائشیں چھوڑ کر پاکستان آئی اور اس نے ستر برس تک کوڑھ کے مریضوں کا علاج کیا۔ کوڑھ کا مریض وہ ہوتا ہے جس کے جسم کا گوشت گل سڑ جاتا ہے اور اس کی سڑانڈ اتنی ہوتی ہے کہ جس جگہ وہ مریض ہو تو اس کے سگے رشتہ دار بھی دو گلیاں چھوڑ کر گزرتے ہیں۔

مولانا نے پوچھا: کیا وہ مسلمان تھی۔ ہم نے کہا: بھلا مسلمانوں کو ایسی توفیق کہاں تو بہت بگڑے اور کہا کہ اس خاتون کی بخشش نہیں ہوگی کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھی۔ ہم نے کہا: مولانا، ایک طوائف نے پیاس سے نڈھال کتے کو پانی پلا دیا تھا تو وہ جنت میں چلی گئی اور جس نے ہزاروں لاکھوں کلمہ گو کوڑھ کے مریضوں کا علاج کیا، وہ دوزخ میں جائے گی۔ تو مولانا نے بغیر کسی توقف کے، ہمیں دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہوئے تجدید مذہب کے لئے کلمہ پڑھنے کی ہدایت کی۔ بصورت دیگر دوزخ میں ابو لہب کی ہمراہی کا مژدہ سنایا۔

ہمارے ملک میں جامعات اور دینی مدارس میں اعلی درجے کے سکالر اور محققین موجود ہیں۔ جو دینی احکامات کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ جن کی نظر میں سرکار دو عالم ﷺ کی حیات طیبہ اور قرآن پاک ہی روشنی اور روشنی کا منبع ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فرقہ وارانہ مناظروں اور مجادلوں کی بجائے صرف قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کی جائے اور ایسے نام نہاد علماء کرام کا بائیکاٹ کیا جائے جو نفرتوں کی دکانیں سجاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *