مختصر سی زندگی اور وقت کا ضیاع


زندگی بہت مختصر سی ہے، بچپنا تھا ختم ہوا، اب جوانی ہے ختم ہو جانی ہے، کیسے اور کہاں گزر گئی پتا بھی نہیں چلنا پھر بڑھاپا آ جانا ہے یہ سب آنکھ جھپکنے میں گزر جاتا ہے۔ بڑھاپے میں ویسے بھی انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنی مرضی سے نہیں ہو سکتا کچھ ہمت ہم ہار بیٹھے ہیں کچھ طرح طرح کی بیماریاں جان نچوڑ دیتیں ہیں۔

مختصر زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو دل و دماغ سے لوگوں کے لیے نفرتیں ختم کر دیں بہت مختصر وقت ہم لے کر آئیں ہیں جب پیچھے مڑ کے دیکھیں گئے تو کچھ بھی نہیں بچا ہو گا وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ ختم ہو جانا ہے یادیں رہ جاتی ہیں یا تو افسوس، یہ جائیداد یہ پیسہ سب یہاں رہ جانا ہے اور آخر کار مر جانا ہے اور کفن کا جیب نہیں ہوتا، اس مختصر سی زندگی میں ہم بہت سے اپنوں کو یا تو جائیداد کے تنازعات پر یا پیسے کی لالچ میں ناراض کر دیتے ہیں۔

جب موت کو ہم اپنے سر پر منڈلاتا دیکھتے ہیں تو پیچھے کیے گئے ظلم و ستم یاد آتے ہیں لیکن اس وقت رہتا صرف پچھتاوا ہے۔ انسان ختم ہو جاتا ہے لیکن اس کا نام اور شخصیت کبھی نہیں مرتی اگر خود نہ ختم کی جائے۔ ہم بہت سے لوگوں کے لیے برا سوچ کے ان کو نقصان پہنچا کے جھوٹی تسکین تو حاصل کر لیں گے لیکن اپنے اندر کا انسان کبھی خوش نہیں رہ پائے گا اپنے اردگرد محبتیں بانٹیں اور بہت سے جگہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ غلطی ہماری نہیں ہے، پھر بھی معاف کر دیں زندگی پر سکون ہو جائے گی۔

ایک لمحہ کی خبر نہیں، جیسے 22 مئی کی شام کو لاہور سے کراچی جانا والا جہاز کراچی ائرپورٹ کے قریب ہی گر کر تباہ ہو گیا ایک سو کے قریب اس میں مسافر سوار تھے کیا کسی کو کچھ علم تھا کہ ہم کچھ ہی سیکنڈز میں یہ فانی دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں گے لوگ تو اپنے پیاروں کے پاس جا رہے تھے عید منانے لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا والدین اور عزیز رشتہ دار راہ تکتے راہ گئے۔ ایسے واقعات شاید ہماری زندگیوں میں سبق حاصل کرنے کے لیے بھی آتے ہیں کہ اوپر بھی ایک ذات موجود ہے جو یہ نظام زندگی چلا رہی ہے اور اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔

کیا واقعی مختصر زندگی ہے؟ نہیں ہم خود مختصر بنا دیتے ہیں اصل میں ہم وقت کی قدر نہیں کرتے فضول اور بے معنی لوگوں کے ساتھ وقت کا ضیاع کر دیتے ہیں۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور یہ قیمتی ہم نے خود بنانا ہے اپنا راستہ خود تلاش کرنا ہے۔ اس مختصر وقت کی بچت ایسے کریں جیسے ہم اپنے پیسے کو بچا کر رکھتے ہیں فضول چیز پر خرچ کیا گیا پیسہ پھر انسان کما لیتا ہے لیکن یہ وقت پھر کبھی ہاتھ نہیں آتا۔

مختصر زندگی کو اگر قیمتی بنانا چاہتے ہیں تو روزانہ کے نیک اور مفید کام کا اندازہ لگا لیں، آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا یہ وقت اور زندگی کا ضیاع ہے یا زندگی اور وقت کی قدر، وسوسوں اور اندیشوں سے بھری زندگی کا کوئی فائدہ نہیں زندگی کو پر کیف بنانے کے لیے کوئی فارمولا بھی نہیں، کیوں کہ سب کا دماغ ایک جیسا نہیں ہوتا ہر شخص کی سوچ دوسرے شخص سے مختلف ہے۔

خود کو بہتر کرنے کی کوشش کریں، سیکھنے اور سکھانے کا عمل جاری رکھیں۔ دانشور اور فلسفی تلاش کریں ان کی دانش سے استفادہ حاصل کریں زندگی کا ہر ایک پل کو بھرپور انداز میں استعمال کریں اور پھر دیکھیں مختصر سی زندگی میں سے کیا کچھ نکلتا ہے۔ دنیا میں مختصر سا قیام، مختصر سی زندگی بہت بھاری لگے گی جب لغزشوں اور گناہوں میں گزرے ہر پل کا حساب دینا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے اپنی محبت کے صدقے ہمیں معاف کر دیں اور ہمیں وقت کی قدر اور مختصر زندگی کو سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ (آمین)

Facebook Comments HS