سائنسی چاند بمقابلہ رویتی چاند


بچپن میں دادی نانی سے سنا کرتے تھے چندا ماموں دور کے بڑے پکائیں بور کے۔ ۔ ۔ اپ کھائیں تھالی میں ہم کو دیں پیالی میں۔ ۔ ۔ پیالی گئی ٹوٹ۔ ۔ ۔ چندا ماموں گئے روٹھ۔ اور یہ کہ چاند پر ایک بوڑھی ماں چرخا کاتتی ہے۔ اس کے بعد لڑکپن کا دور آیا تو اردو ادب کے شاعروں کا چاند دل کو بھانے لگا اور گھوڑا گھاس کھاتا ہے کے مصداق ہمیں بھی اپنے اردگرد چاند کی چاندنیوں میں دلچسپی محسوس ہونا شروع ہوگئی اور ہم بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے۔

چاند عید کا دلکش ہے مانتا ہوں۔ ۔ ۔ حسن جاناں سے مگر ہار جائے گا۔ شعور کی آنکھ کھولی تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چاند کا سسپنس اور تجسس سے بھرپور ٹریلر دیکھنے کو ملا جس کی دوربین کی آنکھ سے دیکھے جانے والے چاند سے ہم ماہ رمضان اور عیدین مناتے ارہے ہیں اور پھر ہم نے دیکھا کہ اس میدان میں سابق سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا میں پوپلزئی چاند جو کہ ہر سال ایک دن قبل نظر آ جاتا تھا نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چیلنج کرنا شروع کر دیا اور اس کے سامنے مرکزی اور صوبائی حکومت بھی گھٹنے ٹیکتی ہوئی نظر ائیں۔

گزشتہ سالوں سے پوپلزئی چاند کا چیلنج کم ہوا ہے تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے سائنسی چاند نے ٹکر دینا شروع کردی ہے۔ یہ سائنسی چاند کھلم کھلا اعلان کر رہا ہے کہ اب شعبان ہو یا رمضان، عید ہو یا شب برات سائنسی چاند ہی چلے گا۔ اب چاند کو دیکھنے کے لیے حبیب بنک کراچی کی عمارت پر عمر رسیدہ علما کرام کو دوربین لے کر چڑھنے کی تکلیف نہیں کرنا پڑے گی۔ چاند خودبخود ہر ایک کے موبائل پر نظر آ جایا کرے گا بس ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت ہوگی اور چاند آ پکے قدموں میں۔

اس کا کوئی اگر غلط مطلب سمجھ کر کسی اور ”چاند“ کو قدموں میں لانے کی کوشش کرے گا تو کمپنی ذمہ دار نہ ہوگی۔ اب اس عید پر سائنسی چاند اور رویتی چاند کا مقابلہ ہے۔ دیکھتے ہیں اس سال قوم سائنسی عید مناتی ہے یا رویتی۔ ویسے بقول سابق وزیراعلی بلوچستان رئیس بخش رئیسانی مدظلہ چاند تو چاند ہوتا ہے نانی دادی کا ہو، شاعروں کا ہو، پوپلزئی کا ہو یا سائنسی ہو یا رویتی۔ ۔ ۔ لیکن بدقسمتی سے عید روز نیست۔ اور موجودہ کرونائی حالات میں تو ہمارے عوام کے لیے ایک عید منانا بھی مشکل ہو رہی ہے۔ ہم تو سائنسی اور رویتی دونوں چاندوں کو یہی مشورہ دیں گے کہ۔ ادھر سے چاند تم دیکھو۔ ۔ ۔ ادھر سے چاند وہ دیکھیں۔ ۔ ۔ نگاہیں یوں ٹکرائیں کہ دونوں دلوں کی عید ہو جائے۔

Facebook Comments HS