زندگی ہے۔۔۔ تو موت بھی ہو گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کو طویل کرنے کی تگ و دو تو بہت عرصہ سے جاری ہے۔ انٹی بائیوٹکس کی ایجاد کے بعد اور صحت سے متعلق نظام بہتر ہونے سے، گزشتہ سو برس میں مختلف ملکوں کے انسانوں کی زندگیوں میں، اوسطا ”بیس تا چالیس برس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا دعوٰی ہے کہ صرف دس برس بعد یعنی 2030 تک ممکن ہو جائے گا کہ جو چاہے 500 سے 1000 سال کی عمر خرید سکے گا البتہ حادثات، معاہدے کی شق Force Majeure میں ہی آئیں گے۔ دعوٰی تو یہ بھی ہے کہ مستقبل قریب میں موت پہ ہی فتح پا لی جائے گی۔ مگر تا حال یہی سچ ہے کہ کس کو، کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی، اس کے بارے میں کسی انسان کو معلوم نہیں ہے۔

موت زندگی کے ساتھ ہی جنم لے لیتی ہے۔ اگر کاروبار حیات انسان کو مصروف نہ رکھے تو انسان کو ہر گھڑی موت کا دھڑکا لگا رہے۔ کون ایسا ہے جو مرنے سے نہیں ڈرتا۔ شاید انسان موت سے نہ ڈرتا ہو بلکہ زندگی تمام ہو جانے سے ڈرتا ہو۔ زندگی اپنے تمام مسائل و مصائب کے باوجود حسین ہے۔ ویسے تو ہمیں زندگی کی تمام قباحتیں انفرادی سے زیادہ اجتماعی برسر عام دکھائی دیتی ہیں مگر پھر بھی خودکشی کرنے کی ہمت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ کچھ لوگ گھبرا کے خود کشی کرتے ہیں تو کچھ کسی خاص مقصد کی خاطر مگر انسانوں کی اکثریت مرنے کی حقیقت بارے سوچنے سے کہیں زیادہ زندگی کے استقرار سے متعلق کچھ نہ کچھ کرتے رہنے میں مصروف رہتا ہے۔

موت کے خوف کو Thanatophobia کہا جاتا ہے۔ موت سے محبت کرنے والے بھی Thanatophyllic نہیں بلکہ Thanatophobic ہی ہوتے ہیں۔ ایسے ایام میں جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو لوگ موت کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں اور ان دنوں میں تو خاص طور پر جب ایک ایسی وبا کا دور دورہ ہو جس کے بارے میں طب کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہر ترین لوگوں کو بھی وبا پھیلا چکے اس وائرس کے بارے میں نہ ہونے کے برابر علم رکھتے ہوں۔ حساس یا کچھ زیادہ ہی محسوس کرنے والے لوگ ایام جوانی میں زندگی کے لایعنی پن یعنی Absurdity سے بے قرار ہو کر موت کو گلے لگانے بارے سوچنے یا مر جانے کی آرزو کرنے کی جانب مائل ہوتے ہیں پھر اگر یہی لوگ عمر کا ساٹھواں سال عبور کر لیں تو انہیں ڈر رہتا ہے کہ کہیں وہ مر نہ جائیں۔

کوئی مر جائے تو بعد میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جنتی نے کل خاص طور پر کچھ پکوا کر کھایا تھا۔ مجھے چونکہ پورا ایک ماہ ایک تکلیف دہ مرض کے باعث متنوع اور زیادہ ادویہ لینی پڑیں یوں میری بھوک جو میری نیند کی طرح پہلے سے ہی کچھ زیادہ چمکنے والی نہیں ہے، بہت ماند پڑ گئی تھی۔ قصبات میں اور خاص طور پر ماہ الصیام میں گھروں میں پکوڑے بنانے کا تو رواج ہے مگر آلو کے چپس بنانے کا نہیں۔ میں نے ایک روز ذائقہ ابھارنے کی خاطر خاص طور پر آلو کے چپس تلنے کو کہا جنہیں کھا کر میں 36 گھنٹے تک مرنے بارے سوچتا رہا۔ خاص طور پر تیار کروا کے کوئی پکوان کھانے کے چھتیس گھنٹے بعد اگر کوئی رحلت کر جائے تو پرسوں کی بات نہیں کی جاتی۔ ایک روز میں نے بڑی بہن سے یہ بھی پوچھا کہ ابا 27 رمضان المبارک کو فوت ہوئے تھے نا؟ ان کی جانب سے تصدیق کیے جانے کے بعد میں باقاعدہ 27 رمضان کا انتظار کرتا رہا۔ آج 29 رمضان ہے۔

موت کس کو، کب، کہاں اور کیسے آئے گی کون جانتا ہے۔ 22 مئی کو لاہور سے کراچی کی فضا میں پہنچا پی ائی اے کا طیارہ جب تک غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ مکانات کی چار منزلوں والے ایک گھر سے ٹکرا کر تباہ نہ ہوا تب تک پائلٹ کو یقین تھا کہ وہ گلائیڈ کرتے ہوئے طیارے کو پیٹ کے بل اتار لیں گے، اسی لیے انہوں نے کوئی ایسا اعلان نہ کیا جس سے لوگ بے قرار ہوں۔

یہ تو بچ جانے والے نوجوان محمد زبیر نے بتایا کہ یک لخت دھماکہ ہوا، پھر انہوں نے اپنی سیٹ بیلٹ کھولی۔ انہیں ایک جانب روشنی دکھائی دی۔ بقول ان کے ہر جانب آگ لگی ہوئی تھی۔ بچوں اور بڑوں، عورتوں مردوں کے چیخنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، دکھائی کچھ نہیں دے رہا تھا۔ جہاں سے روشنی آ رہی تھی وہاں پہنچ کر انہوں نے طیارے کے علیحدہ ہوئے حصے سے دس فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگائی اور بچ گئے۔

خبروں کے مطابق، لاہور کے ہوائی اڈے پر عین آخری لمحوں میں اس ایر ہوسٹس کو روک لیا گیا جس کو بچنا تھا اور اس کو ڈیوٹی کرنے کو سوار ہونے کا حکم دیا گیا، جسے کراچی پہنچ کے دنیا چھوڑنا تھی۔ ایسا بھی میرے ساتھ ہو چکا ہے۔ یہ بات ہے اپریل 1976 کی۔ آرمی میڈیکل کور کے کپتان کے طور پر میری پوسٹنگ استور سے آگے گوری کوٹ میں ہوئی تھی۔ کمانڈنگ افسر مجھے درہ برزل کے اس پار بھیجنا چاہتے تھے مگر میں جانا نہیں چاہتا تھا۔ بہت دیر کے بعد میں جانے پر رضامند ہوا۔ استور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں گلگت سے آنے والے اس ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہا تھا جس میں بریگیڈ کمانڈر بریگیڈیر داؤد کو آنا تھا۔ انہوں نے ہیلی کاپٹر سے اترتے ہی مجھے انگریزی زبان میں کہا تھا، ”کیپٹن مرزا، تم آج نہیں جاؤ گے کیونکہ میں ریکی کی خاطر کرنل ضیاء کو اپنے ساتھ لے آیا ہوں“ ۔ پندرہ منٹ بعد ہیلی کاپٹر اڑا مگر تیس چالیس سیکنڈ بعد ہی اس ہیلی کاپٹر گرنے سے اس میں سوار تمام افراد ہیلی پائلٹس آرمی کے میجر چیمہ جن سے میں چند منٹ محو گفتگو رہا تھا، نیوی کے لیفٹیننٹ خالد، بریگیڈیر داؤد، کرنل ضیا اور ٹیکنیشن پانچوں لقمہ اجل بن چکے تھے اور میں آج بھی حیات ہوں۔

مجھے تو 9 مارچ 1999 کو بھی مر جانا چاہیے تھا جب ماسکو میں روز روشن، ڈیڑھ دو بجے دن میرے سر کی پشت پر کسی نے کسی بھاری شے سے زور دار ضربیں لگائی تھیں۔ کھوپڑی کی ہڈی تین جگہ سے تڑخ گئی تھی۔ دماغ سے بہا خون حرام مغز میں پہنچ چکا تھا اور ڈاکٹروں نے 24 گھنٹوں کے دوران ممکنہ موت بارے بتا کر میری بیوی کو دہلا دیا تھا مگر میں بچ گیا۔ ویسے ہی جیسے محمد زبیر کے علاوہ بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود بھی اس اندوہناک حادثے میں زندہ بچ رہے ہیں۔

موت تو سبھی کو آنی ہے مگر طیاروں کے تکنیکی معاملات کا مناسب خیال نہ رکھے جانے، ائرپورٹ کے نزدیک غیر قانونی آبادیوں کی اجازت دیے جانے اس پر طرح یہ کہ لوگوں نے اجازت لیے بن بلند عمارات بھی تعمیر کر لی ہوں، کی وجہ سے دو کے علاوہ 97 افراد کی جن میں بہت سے، بلکہ کئی کنبے کے ساتھ عید منانے پہنچ رہے تھے، کی جان لے لی۔

عید سے دو تین روز پہلے 100 کے قریب اور اب تک کرونا کی مرض کے سبب 1100 کے قریب افراد کی موت کی وجہ سے میں نے طے کیا ہے کہ میں عید کے موقع پر نہ تو کسی کو مبارک دوں گا اور نہ ہی کسی کی جانب سے دی گئی مبارک کا جواب۔ ہمیں کم از کم مرنے والوں کے لواحقین کے غم میں تو شامل ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *