سرائیکی زبان میں آقائے دو جہاں سے محبت کے اظہار کا عقیدتوں بھرا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وجہ تخلیق کائنات کی شان، فضیلت، تعریف بیان کرنے کو اردو میں نعت کہتے ہیں جبکہ عربی زبان میں نعت کے لئے لفظ ”مدح رسول“ استعمال ہوتا ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی انداز بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ اسلام کی ابتدا میں بہت سے صحابہ اکرام نے نعتیں لکھیں اور حضورؑ کی شان کو بیان کرنے کا یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ نعتیں لکھنے والے کو نعت گو شاعر جبکہ نعت پڑھنے والے کو نعت خواں کہا جاتا ہے۔

نعت خوانی کا آغاز کب ہوا تھا اس کے متعلق ٹھیک سے بتانا تو مشکل ہے تاہم روایات سے پتہ چلتا ہے حضور کے چچا حضرت ابوطالب نے پہلے پہل نعت کہی۔ مورخین کے مطابق عہد نبوی میں چارسو سے زائد عرب شعراء نے حضور کی مدح سرائی کی اور ان میں سے خاندان نبوت کے اکابرین بھی شامل ہیں جن میں عبدالمطلب بن ہاشم، ابوطالب، علی ابن ابی طالب، ابوسفیان بن الحارث اور حضرت ابوبکر صدیق جیسی ہستیاں شامل ہیں۔ یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے عہد میں کم وبیش دوسو سے زائد شاعرات کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اولین نعت گو شعراء میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ پہلے نعت گو شاعر اور نعت خواں تھے جن کو دربار نبوی ﷺ میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی اور اسی بناء پر انہیں شاعر دربار رسالت ﷺبھی کہا جاتا ہے۔ جب حضور پاک ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے تو آپؑ کی آمد پر انصار کی بچیوں نے دف پر نعت پڑھی۔

سرائیکی شعروادب میں نعت کی تاریخ پر خورشید ربانی لکھتے ہیں کہ ”سرائیکی شعر و ادب میں نعت کا ظہور بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود سرائیکی ادب۔ سرائیکی زبان کی پہلی دستیاب کتاب“ نور نامہ ”ہے۔ اس طویل نعتیہ نظم کے مصنف کے تفصیلی حالات زندگی کے بارے میں اگرچہ تاریخ تاحال خاموش ہے تاہم محققین اس کا سن تصنیف 500 ہ بتاتے ہیں جبکہ معروف محقق حافظ محمود شیرانی کا کہنا ہے کہ یہ“ نور نامہ ”752 ہ میں سامنے آیا۔

اس کے مصنف ملاں تخلص کرتے تھے۔ حضرت ملاں کے قدیم نور نامے کے علاوہ حافظ مراد نابینا، امام الدین بھکوی کے نور نامے بھی آسمان تاریخ پر درخشاں ستاروں کی صورت موجود ہیں۔ چانڈیو قوم کے ایک بزرگ حضرت میاں قبول ؒ اور دودے شاہ کے معراج نامے، جو چھٹی صدی ہجری میں تخلیق ہوئے بھی قدیم سرائیکی نعت کے لازوال نمونے ہیں۔ ڈاکٹر مہر عبدالحق کے مطابق سرائیکی ادب کی جو دو قدیم تحریریں دریافت ہوئی ہیں ان میں ایک قصیدہ بردہ شریف کا ترجمہ ہے جبکہ دوسری تحریر غلام حسین کی تخلیق“ حلیہ مبارک ”ہے جو 55 اشعار پر مشتمل ہے۔ حضرت ملا ں کے“ نور نامے ”اعظم چانڈیو کے“ حلیہ مبارک ”اور پیارا شہید کے“ معراج نامہ ”جیسی نعتیہ روایت کے ساتھ ساتھ قدیم مذہبی کتب اور رسائل میں بھی نعتیہ کلام موجود ہے“

خورشید ربانی سرائیکی زبان کے تاریخی سفر پر لکھتے ہیں کہ ”زمانہ ء قدیم سے سرائیکی شاعری میں نعت نگاری کی مختلف اصناف مروج چلی آتی ہیں جن میں زیادہ تر سینہ بہ سینہ سفر کرتی رہی ہیں یا قلمی نسخوں کی صورت محفوظ ہیں تاہم ایک معقول ذخیرہ کتابی صورت میں بھی دستیاب ہے۔ سرائیکی شعر و ادب میں نعت کے لیے مولود شریف کی ترکیب رائج ہے، اگرچہ یہ پرانے زمانے سے ایک الگ صنف کے طور پر بھی اپنا وجود منواتی رہی لیکن مجموعی طور پر ہر نعت کو مولود کہا جاتا ہے اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔

دوسری نعتیہ اصناف میں (جو غالباً سرائیکی شاعری ہی کا اختصاص ہیں ) نور نامے، معراج نامے، حلیہ مبارک یا حلیہ نامہ، تولد نامہ، بارات نامہ، وصال نامہ، مولود شریف، تاج نامہ، درود نامہ، معجزہ معراج اور دیگر اصناف شامل ہیں، علاوہ ازیں کافی، رباعی، ڈوہڑہ، قصیدہ ’مثنوی اور غزل کی ہیئت میں بھی نعت لکھی جاتی رہی ہے۔ قدیم زمانے میں گھڑ ولی لعل، تورہ، جوگی نامہ، طوطا نامہ، ڈھولے نامہ، سی حرفی اور محمدی بارہ ما جیسی نعتیہ اصناف بھی موجود رہی ہیں تاہم اب یہ روایت قریباً ختم ہوچکی ہے۔ گھڑولی لعل پرانے زمانے میں سہرے کے لیے مخصوص تھی لیکن بعض شعرا ء نے نعتیہ گھڑولیاں بھی لکھیں۔ اس صنف میں بھی سہ حرفی کی طرح الف سے ی تک ایک ایک بند لکھا گیا“

اسلامی تاریخ میں علماء کرام اور صوفیاء نے بھی بارگاہ نبوت میں گل ہائے عقیدت پیش کیے اور ان کے نعتیہ کلام ایک خاص پذیرائی حاصل ہوئی ان نعت گو شعراء میں امام ابوحنیفہؒ، مولانا رومؒ، شیخ سعدیؒ، مولانا جامیؒ، امام بوصیریؒ، امام احمد رضا خانؒ جیسی ہستیاں شامل ہیں جنہوں نے رب کعبہ کی وحدانیت کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ عشق مصطفی کے چراغ جلائے اور نامکمل ایمان کی تکمیل کے لیے بندگان خدا کو عشق رسول کا درس دیا اور اس کے لیے نعت خوانی کو سب سے بہتر ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کو فروغ دیا۔

یہ اللہ کے ولی نہ صرف نعت خوانی کے دلدادہ تھے بلکہ انہوں نے خود بھی نعت گوئی کی اور میرے آقا سے اپنی والہانہ عقیدت، عشق کا اظہار بذریعہ اشعار بھی کیا۔ ان برگزیدہ ہستیوں میں حضرت شیخ سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ، بابا فرید الدین گنج شکرؒ، سلطان باہوؒ، بابا بلھے شاہؒ، خواجہ نظام الدین اولیاؒ، امیر خسروؒ، خواجہ عثمان ہارونیؒ، مخدوم علا الدین علی احمد صابر کلیریؒ، پیر مہر علی شاہؒ، خواجہ غلام فریدؒ شامل ہیں۔

وسیب کے سرائیکی شعراء کی ایک طویل فہرست ہے جن کے نعتیہ کلام کو بے حد پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان میں سرفہرست صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا نام آتا ہے۔ آقائے دو جہاں کی محبت اور عشق کی خوشبو میں رچے ہوئے سرائیکی وسیب اور یہاں کے سرائیکی شعراء نے اپنی شاعری میں حضور سے اپنی محبت اور عقیدت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ نعت گوئی میں سرائیکی شعرا میں لطف علی، خدا یار بیکس، کمتر، محمد یار فریدی، بسمل شاہ، کہتر، مسکین احقر، گانمن شاہ، ساقی سمینوی، شاکر شجاع آبادی، عزیز شاہد، ظفر حسین ظفر فریدی، شبیر شوکت، رامش قادری، عاصی سمینوی، رمضان طالب، واجد محمود واجد، غلام حسین زائر، ظہور فاتح، فرید ساجد اور نور محمد سائل جیسے باکمال شعرا شامل ہیں۔

سرائیکی شعرا نے محض سرائیکی میں نعت ہی نہیں لکھی بلکہ سرائیکی ڈوہڑے میں بھی حضور کی مدح سرائی کی ہے اور سرائیکی نعتیہ ڈوہڑے نے بھی عاشقان رسول میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ سرائیکی وسیب کے شعراء اور ان کی شاعری میں مدحت رسول بیان ہوتی رہے گی۔ سرائیکی نعت اور نعتیہ ڈوہڑے کا سفر اسی محبت اور عقیدت سے تا قیامت جاری رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *