خدا کا اپنی روح سے مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خدا : آخر کار میں اداس ہو گیا ہوں۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں ہزاروں برس سے تنہا ہوں اور میں ادیبوں کی یہ بات سننے کو تیار نہیں کہ احساس تنہائی بہت قیمتی چیز ہے کیونکہ میں ادیب نہیں ہوں۔ اب تو وہ مقام آ گیا ہے کہ میں جھوٹ بول کر خود فریبی میں مبتلا بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ تو میں مثالی کردار بننا چاہتا ہوں اور نہ ہی اپنی ذات پر لعنت ملامت کرنا چاہتا ہوں۔ میں قادر مطلق ہونے اور ہر جگہ موجود ہونے کی خصوصیات سے تنگ آ گیا ہوں اور اب میرے سامنے صرف ایک حقیقت ہے اور وہ یہ ہے کہ میں اداس و تنہا ہوں۔

روح:اداسی تشکیک کو جنم دیتی ہے

خدا : خوب کہا۔ مجھے تمہاری بات پسند آئی۔ یہ بات قابل غور ہے۔ خدا کا خدا کی ذات کو شک کی نگاہ سے دیکھنا عجیب بات ہے۔ اگر مجھے اپنی ذات پر یقین نہ ہوتا تو وہ تمام نام جن سے انسان مجھے پکارتے چلے آئے ہیں بے معنی ہو کر رہ جاتے۔ ان سب ناموں کی فہرست ’جو آج تک مجھے مل چکے ہیں‘ بہت طویل ہے۔ ۔ ۔ زیوس۔ ۔ ۔ آہورا مزدا۔ ۔ ۔ اندرا۔ ۔ ۔ رام۔ ۔ ۔ اللہ۔ ۔ ۔ بھگوان۔ ۔ ۔ خدا۔ ۔ ۔ ان میں سے چند ایک ہیں۔ ان میں اچھے اور برے نام سب ہی شامل ہیں۔ جب انسانوں نے زندگی کو مزید پیچیدہ بنانا چاہا تو میری ذات کے تین حصے کر دیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میرا اصل نام کیا ہے؟ مجھے اس سے مطلب نہیں کہ وہ مجھے کس نام سے پکاریں بس اتنا ہے کہ وہ اچھا سا نام ہو۔

روح : (رخ بدلتے ہوئے ) کتنا باتونی ہے

خدا :تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ تم سمجھتے ہو کہ میں بوڑھا ہو رہا ہوں اور یہ حقیقت بھی مجھے پریشان رکھتی ہے۔ فرض کرو یہ لامحدود زندگی کا تصور ایک جھوٹ ہو۔ میں اگر ہر چیز کرنے پر قادر ہوں تو کیا میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں اگر غور کروں تو مجھے اپنی ذات میں بہت سی چیزیں ایسی نظر آئیں گی جو مجھے اپنی ذات پر شک کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔ اے میری روح! اگر سچ پوچھو تو اب میں اپنی ذات کی گہرائیوں میں شک و شبہے کی چنگاریوں محسوس کر رہا ہوں۔

روح : (سرگوشی میں۔ ۔ ۔ جب خدا نے اپنی عقل استعمال کی تو اس کا ایمان اپنی روح سے اٹھ گیا)

خدا : شک کے شر نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔ کاش میری ذات سے بھی بالاتر کوئی ذات ہوتی جس کی میں تعریف کر سکتا۔ جس پر میں ایمان لا سکتا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ میری ذات سے بلند اور کوئی ذات نہیں جس کو میں اپنے آپ کو بطور ہدیہ پیش کر سکتا۔ مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو کسی کی عبادت کر سکتے ہیں۔ جو کراہ سکتے ہیں اور اپنی زندگی کی تکلیفوں اور دشواریوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ میں خدا نہ ہوں اور دیگر انسانوں کی طرح ایک انسان ہوں۔ یہ ایک ایسا خیال ہے جسے سوچنے سے ہی میرے پندار کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

میں کیا کروں؟
کس پر ایمان لاؤں؟

میرے پاس تو اب کچھ بھی کرنے کو نہیں ہے۔ میں عنقریب انسانوں کو بتانے والا ہوں کہ امید کا دامن چھوڑ دو۔ زندگی میں صرف ایک چیز یقینی ہے اور وہ فنا ہے۔ اس پر ایمان لے آؤ اور خوشی سے آگے بڑھ جاؤ۔

یہ سب ایک خیال ہے ایک واہمہ ہے۔ زندگی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پرومیتھیس وہ ذات تھی جس نے انسانیت کو اندھی امید اور آگ سے نوازا تھا۔

خدا وفور جذبات سے مغلوب ہو کر بڑبڑانے لگا۔

میرے خدا! میرے دل میں ایک امید باقی ہے۔ افریقہ کے قبائل میں سے ایک قبیلہ ایسا بھی ہے جس کے مرد و زن مجھے ایک کالا انسان سمجھ کر میری تعریف اور عبادت کرتے ہیں۔ ایسا کالا انسان جو بطخوں کو قتل کرنے کے خلاف ہے اور اگر ان لوگوں کا ایمان برحق ہے تو مجھے اپنی نجات کی صورت نظر آتی ہے۔ ۔ ۔ وہ بطخیں میرے سکون کا باعث ہوں گی۔

٭٭٭     ٭٭٭

Albert Camus

البرٹ کامیو فرانس کے مالداوی الجیریا میں 1913 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن غربت میں گزارا۔ انہوں نے الجیریا کی یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ جب جرمنی نے فرانس پر حملہ کیا تو انہوں نے فرانس کی مزاحمتی تحریک میں شرکت کی۔ وہ ایک باغی رسالے کومبیٹ کے مدیر اعلیٰ تھے۔ جنگ کے بعد وہ ایک ادیب اور فلسفی کے طور پر بہت مشہور ہوئے۔ انہیں چوالیس برس کی عمر میں 1957 میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

البرٹ کامیو ایک انصاف پسند اور انسان دوست ادیب تھے۔ وہ جرمنی کے فاشزم کے ساتھ ساتھ روس کے کمیونزم کے بھی خلاف تھے۔ وہ انسان کی عظمت کے قائل تھے۔

البرٹ کامیو نے زندگی میں بہت سے ناول اور مقالے لکھے ان کا ناول THE STRANGER اور مضمون THE MYTH OF SISYPHUS بہت مشہور ہوئے۔ جب بیسویں صدی کے وجودیت کے فلسفے کا ذکر کیا جاتا ہے تو ژاں پال سارتر کے نام کے ساتھ البرٹ کامیو کا نام بھی آتا ہے۔ البرٹ کامیو کی وفات ایک کار کے حادثے میں 1960 میں ہوئی جب ان کی عمر صرف چھیالیس برس تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 342 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *