کیا دکھ کی فضا میں عید ہو سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے لیے اس بار کا رمضان تو تب موقوف ہو گیا تھا جب میں نے پہلا روزہ رکھا اور پہلے سے جاری مرض کی اذیت دو چند ہو گئی تھی۔ دوسرے روزہ کی افطاری تک جسم کا پانی قریب قریب خشک ہو گیا تھا۔ اس میں میری غلطی تھی بلکہ میری طب کے اپنے علم سے پہلو تہی تھی۔ جس مرض کا میں شکار ہوا اس میں جسم میں پانی کی مقدار ضرورت سے بھی کچھ زیادہ رکھنا ہوتی ہے جبکہ گرمی تب بھی بہت تھی۔

ظاہر ہے روزے نا رکھنے کا کفارہ دے دیا گیا مگر روزے نہ رکھے جانے کا بے حد قلق رہا اور اب تک ہے۔ میرے گھر میں تو 81 برس کی بہن جو دن بھر شدید گرمی میں چولہا چوکی کرتی رہیں اور 86 برس کے بھائی شدید گرمی میں اپنے لگائے درختوں، پودوں کو پانی دیتے رہے تا حتٰی درختوں کے تنوں تک کو تر کرتے رہے کہ زندہ درختوں کو بھی گرمی لگتی ہے، دونوں نے پورے روزے رکھے اور تمام عبادات کیں۔ دونوں بہنوں، جن میں سے ایک جو خود بھی 80 برس کی ہیں اور میری طرح مریض ہونے کے سبب روزے نہ رکھ پائیں، نے قرآن کریم کئی کئی بار پڑھ کے مکمل کیے۔ تراویح بھی پڑھیں، انہیں دیکھ کر مجھے خجالت ہوتی رہی مگر مرض تو مجبوری ہے۔

روزے کے فرض ہونے کے علاوہ روزے میں بھوکے پیاسے لوگوں کے محسوسات کا نہ صرف باقاعدہ گیان ہوتا ہے بلکہ اگر انسان حساس ہو تو اس کی دنیا میں محروم لوگوں کے بارے میں سوچ کو مہیج ملتا ہے اور انسان کوشش کرتا ہے کہ دنیا داری میں پڑ کر کسی کا حق نہ مارے تاکہ کم از کم اس ضمن میں جو کردار وہ ادا کر سکتا ہے، وہ تو کرے چاہے اس سے دنیا میں جاری معاشی و معاشرتی تفریق میں کوئی فرق نہ پڑے، جو پڑتا بھی نہیں مگر اس کا ضمیر کم از کم بہت زیادہ مختل نہ ہو۔

ماہ صیام میں روزے رکھے جانے کی بہ خیریت و عافیت تکمیل کا نتیجہ وہ روز ہوتا ہے جسے عید کہا جاتا ہے یعنی خوشی۔ لامحالہ جب انسان کوئی بھی فریضہ بہ خوبی مکمل کرے تو خوش ہونا اس کا حق بنتا ہے۔ جبکہ ماہ صیام ایسا مذہبی فریضہ ہے جس میں عبادات بھی عام ایام کی عبادات سے بڑھ کے مستحسن ہوتی ہیں۔

دنیا میں کورونا نام کی ایک آفت تو جاری و ساری تھی جس کے سبب آج تک 344409 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور آج بھی 53236 افراد انتہائی بری یا نازک حالت میں ہسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے زندہ بچ جانے والے کتنے ہوں گے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان میں بھی اب تک 1133 افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ 111 افراد موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔ پاکستان میں روزانہ 30 تا 50 افراد اس مرض کی وجہ سے اپنی جان ہار رہے ہیں۔ پاکستان میں ابھی مرض کی معراج کا دورانیہ نہیں پہنچا۔ ہمارے ہاں جس طرح سب کچھ کھول دیا گیا، اس کے برے نتائج سے جی گھبرا رہا ہے۔

اوپر سے پی آئی اے کے طیارے کا اندوہناک حادثہ ہو گیا جس میں بچوں والے تین کنبوں سمیت 97 افراد میں سے بیشتر زندہ جل مرے۔ معجزانہ طور پر بچ جانے والے دو افراد میں سے ایک محمد زبیر نے بتایا ہے کہ ہر طرف آگ تھی۔ عورتوں، بچوں اور مردوں کی چیخ و پکار تھی اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے میں سے کچھ دیر تک اللہ اکبر کی صدائیں بھی آتی رہیں۔ پھر وہ لوگ بھی جن کے گھروں پر طیارہ گرا اور جن کے نہ صرف گھر تباہ ہوئے بلکہ ان گھروں کے باسی جل بھی گئے اور زخمی بھی ہوئے۔ آب اندازہ کیجیے کہ ان ساڑھے بارہ سو لوگوں کے کتنے لواحقین ہوں گے اور کیا وہ عید منا سکتے ہیں یعنی کیا وہ خوش ہو سکتے ہیں۔

میں نے تو عید نہیں منائی۔ غم زدہ لوگوں کے ساتھ یک جہتی کے طور پر، بڑے بھائی کے چھ سات سال پرانے، ترک کردہ دھلے ہوئے کپڑے پہنے، اگرچہ ایک دوست نے نئے کپڑوں کے تین جوڑے مجھے بطور تحفہ بھجوا دیے تھے۔ ایک بھتیجے کی امامت میں بڑے بھائی اور ان کے دوسرے دو بیٹوں کے ساتھ گھر کے ایک کمرے میں عید کی نماز پڑھی اور یہ بھی سوچا کہ جب نادر شاہ نے دہلی میں قتل عام کیا تھا یا جب 1857 کی بغاوت کے بعد انگریز نے مشاہیر سمیت ہزاروں لوگوں کو سولی چڑھا دیا تھا کیا ان مقامات میں لوگوں نے عید منائی ہوگی؟ احساس ہر ایک کا اپنا اپنا ہے، میں اس روز کو عید نہیں مان سکا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *