چند سیکنڈ میں رن وے تک : ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی میں جناح ائرپورٹ کے رن وے کے قریب پی آئی اے ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی۔

اس کی عمر 34 سال تھی۔ وہ لندن میں پی ایچ ڈی کی سٹوڈنٹ بھی تھی۔ اللہ نے اس کو تین خوبصورت بیٹے عطا کیے تھے۔ برطانیہ میں کرونا وائرس کے خطرناک دنوں میں وہ بہت اداس رہتی تھی۔ ہر روز شام کو اپنے گھر کی بالکونی پر کھڑے ہو کر وہ اپنے شوہر سے کہتی ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں۔ مجھے پاکستان لے چلو“۔

اس کی آنکھوں میں یوں اداسیوں کے ڈیرے دیکھ کر شوہر کا دل کٹ سا جاتا۔ وہ اسے پیار سے سمجھاتا۔ کہ دیکھو، آج کل پاکستان نے انٹرنیشنل فلائٹ بند کی ہوئی ہیں۔ میں کوشش کر رہا ہوں۔ ہم بہت جلد پاکستان چلے جائیں گے۔ بس تم دل چھوٹا نہ کرو۔ دیکھو نا تمہاری وجہ سے بچے بھی اداس ہیں۔ انشا اللہ سب خیریت رہے گی۔ ہم بہت جلدی پاکستان چلے جائیں گے۔

وہ ایک سسکی بھرتی اور لبوں پر پاکستان، پاکستان دہراتی اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ بالآخر پچھلے ہفتے اس کا شوہر خوش خوش گھرمیں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں پی آئی اے کے پاکستان کے لیے، ان کے نام کے بک پانچ ٹکٹ تھے۔ پاکستان کے لیے ٹکٹ دیکھ کروہ خوشی سے رو پڑی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو زار و قطار گرنے لگے۔ نہ جانے کتنی بار اس نے ان ٹکٹوں کو چوما۔ کیونکہ وہ پاکستان کے لیے تھے۔ اس نے جلدی سے اپنے تینوں بچوں کو بلایا اور خوشی سے چلاتے ہوئے پورا گھر سر پر اٹھا لیا۔

بڑا بیٹا جس کی عمر تیرہ برس تھی بولا۔ مما، آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے ٹکٹ کراچی کے لیے بک نہیں ہیں۔ بلکہ ہم لاہور کے راستے کراچی جائیں گے۔ وہ بولی۔ تو پھر کیا ہوا۔ مٹی تو لاہور میں بھی پاکستان کی ہے۔ کراچی اگر پاکستان کا دماغ ہے۔ تو لاہور پاکستان کا دل ہے۔ اور ویسے بھی مجھے پاکستان کے ہر شہر کی مٹی سے ایک جیسی خوشبو آتی ہے۔ بس میں جلدی سے اس مٹی پر پہنچنا چاہتی ہوں۔ جس کی خوشبو جیسی کوئی خوشبو دنیا میں نہیں ہے۔

بالآخر وہ 22 مئی 2020 کی صبح، اپنے شوہر اور تین بیٹوں کے ساتھ لاہور ائرپورٹ پہنچ گئی۔ آج جمعۃ الوداع تھا۔ اس نے ائرپورٹ لاؤنج کی چھوٹی سی مسجد میں نوافل پڑھے۔ اور پھر انہوں نے دن ایک بجے کی پی آئی اے کی فلائٹ میں کراچی کیلے بکنگ کروا لی۔

جہاز کی اڑان بھرنے سے پہلے وہ بار بار اپنی امی اور بہنوں کو فون کر کے اپنی خوشی کی انتہا کا بتا رہی تھی۔ اس کی ماں نے کہا تھا۔ بیٹا، اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔ کرونا وائرس کی وبا لاہور میں بھی بہت زیادہ ہے۔

وہ امی کی بات سن کر کھل کے مسکرائی اور کہا۔ اماں۔ اب مجھے کرونا سے ڈر نہیں لگتا۔ کیونکہ اب میں اپنی مٹی میں آ گئی ہوں۔ میں پاکستان کی مٹی سے بنی تھی۔ پاکستان کی مٹی میں اگر جانا بھی پڑھے تو مجھے کوئی غم نہیں۔

وہ پوری فیملی خوش خوش ایک بجے پی آئی اے ائر بس 320 میں لاہور سے کراچی کے ئے چلی۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔ راستے میں بادلوں سے اٹکھیلیاں بھی ویسی ہی تھی جیسے کہ ہوائی سفر میں ہوتی ہیں۔ پاکستان کے پہاڑ دریا، سمندر صحرا، اوپر سے ہمیشہ کی طرح خوبصورت نظر آ رہے تھے۔ دو گھنٹوں کا پتہ ہی نہ چلا۔ دل کی دھڑکن تب تیز ہوئی۔ جب جہاز کے پائلٹ نے اعلان کیا کہ ہم بہت جلدی کراچی ائرپورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں۔ جہاز آہستہ آہستہ لینڈنگ کی پوزیشن میں آ رہا تھا۔

جہاز نیچے آیا۔ تو اب وہ جناح انٹرنیشنل ائر پورٹ کے آس پاس کے علاقوں کو صاف صاف دیکھ سکتے تھے۔ کراچی میں زندگی رواں دواں تھی۔ زمین سے قریب آنے کی وجہ سے جہاز میں موبائل کے سگنل بھی آنے لگے تھے۔ وہ خوشی خوشی اپنی امی کا نمبر ڈائل کرنے لگی تھی۔ کہ اچانک جہاز کے ٹائر زمین سے ٹکرائے۔ لیکن پائلٹ نے جہاز کو پھر فضا میں اڑا لیا۔

اب جہاز کم اونچائی پر پھر رن وے کی طرف چکر لگاتا ہوا آ رہا تھا۔ ایک دفعہ زمین کو چھونے کے بعد دوبارہ اڑان بھرنا معمول کی بات نہیں ہوتی۔ اب سب مسافروں کو خطرے کا احساس ہونے لگا تھا۔ سب لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے ہے۔ ایسے میں پائلٹ کی پرسکون آواز ایک دفعہ پھر جہاز میں گونجی۔

خواتین و حضرات ”ہم بہت جلدی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں۔ تمام مسافروں نے سکون کا سانس لیا کیونکہ سامنے رن وے صرف تیس سیکنڈ کے فاصلے پر صاف نظر آ رہا تھا۔ مگر یہ 30 سیکنڈ۔ شاید گھڑی کی سوئیاں رک چکی تھیں۔ وقت اور فاصلے آپس میں الجھ چکے تھے۔ فاصلوں نے سمٹنے سے انکار کر دیا تھا۔ شاید وقت کا دیوتا اپنی پوٹلی سمیٹ کر وقت کو اپنے حال پر چھوڑ کر کہیں جا چکا تھا

اب اس 30 سیکنڈ میں طے ہو سکنے والے رن وے نے شاید کبھی نہیں آنا تھا۔ جہاز نے دو جھٹکے کھائے۔ اور پھر پلک جھپکتے ہی جہاز ملیر میں، ماڈل کالونی کی ایک تین منزلہ عمارت سے ٹکرا گیا۔ اب سب کچھ ختم ہو چکا تھا لیکن وہ پاکستان پہنچ چکی تھی۔

اس کی روح دنیا میں کہیں نہ ملنے والی پاکستان کی مٹی کی خوشبو کو پا چکی تھی۔ اس کے تینوں بیٹے اور شوہر بھی جہاز میں سوار مسافروں کے ساتھ شہادت کے عظیم مرتبے والے سفر پہ جا چکے تھے۔ پی آئی اے کا ائر بس 320 کریش ہو چکا تھا۔

مشینوں نے انسان کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ بہرحال مشینوں کے ساتھ دوستی، انسان سے بھاری قیمت بھی وصول کرتی آ رہی ہے۔ زمین یعنی خشکی پر اگر کوئی مشین خراب بھی ہو جائے تو کوئی حل نکالا جاسکتا ہے۔ سڑکوں پر حادثات اگرچہ ہمارے روز کا معمول ہیں۔ لیکن کہیں نہ کہیں خشکی پر مشینوں میں خرابی اور انسان کی غلطی پر کچھ نہ کچھ حد تک پردہ ڈالا جاسکتا ہے۔ لیکن ہواؤں کے دوش پہ اڑتا انسان، مشینوں پر انحصار کر کے، اپنی زندگی مشینوں کے حوالے کر تو دیتا ہے۔

لیکن ہوا میں مشینیں خراب ہونے کی صورت میں زندگی سے کم نقصان پر سمجھوتا نہیں کرتیں۔ ہوائی حادثہ آپ سے بہت زیادہ وصول کرتا ہے۔ انسانی زندگیوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ اگر ایک حادثہ آتا ہے تو اس سے کچھ سیکھ کر آنے والے حادثوں کو روکا جاسکے۔ کیونکہ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی گنوانے کا نقصان، بہرحال سب سے بڑا نقصان ہے۔ کیونکہ انسانی زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “چند سیکنڈ میں رن وے تک : ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی

Leave a Reply