کشمیر میں عید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کی صبح واٹس ایپ کے ایک پیغام سے ہوئی۔ عید پر پیغامات کی بھرمار سے واسطہ تو سب کو ہی پڑتا ہوگا مگر یہ پیغام منفرد تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولا سے آیا یہ پیغام اس محبت اور خلوص کی عکاسی کر رہا تھا جو بنا کسی غرض اور حصول کے وفاؤں کی ڈوری ٹوٹنے نہیں دیتا۔ میں اس تحریر کو کشمیریوں سے روایتی اور بے سود اظہار ہمدردی اور یکجہتی کے طور پر قطعی ثابت کرنے کی خواہش نہیں رکھتی مگر ان بے غرض ناتوں کی حرمت ضرور منوانا چاہتی ہوں۔

وہ پیغام کچھ یوں تھا کہ ”میری بہن ایک ایسے ملک میں رہائش پذیر ہیں جہاں سرکاری طور عید کا اعلان نہیں ہوا مگر انہوں نے کہا کہ اگر آج پاکستان میں عید ہے تو میری بھی عید ہے“ باقی تمام مسلمان روزے میں ہیں اور وہ کشمیری خاندان پاکستان کے ساتھ عید منا رہا ہے۔ اپنے انمول خلوص اور سراسر محبت کے آمیزے سے نہ ہی وہ پاکستان سے کوئی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں نہ ہی کوئی من پسند بات منوانے کی نیت رکھتے ہیں، بس دور بیٹھ کر اپنائیت اور وفاؤں کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔

پیغام ارسال کرنے والے اپنے ہر دلعزیز بھائی کی شناخت تو ظاہر کرنے سے قاصر ہوں مگر ان کے خاندان کے اس فرد کے بارے یہ بتانا چاہوں گی کہ وہ جنوبی ایشیا کے ایک ایسے ملک میں رہتی ہیں جہاں سرکاری رویت ہلال نام کی کوئی کمیٹی وجود نہیں رکھتی، وہاں کے مسلمان رمضان اور عید ہندوستان کی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق ہی رکھتے اور مناتے ہیں۔ برصغیر میں کم و بیش رمضان اور عید ہمیشہ ایک ساتھ ہی منائے گئے ہیں اور اس بار تو مذہب اور سائنس کے فاصلوں کی بحث نے بھی میدان مارے رکھا جس کے باعث پاکستان جنوبی ایشیاء میں عید الفطر منانے پر بازی لے گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں ویسے تو چاند کی رویت دیکھنے والی کوئی بھی کمیٹی نہیں لیکن ہر سال مفتی اعظم کشمیر چاند کی رویت کا فیصلہ کرتے ہیں جن کو مزید چار علماء تجویز دیتے ہیں۔ کشمیریوں کے مطابق مفتی اعظم کشمیر پاکستان کی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کی ہی ڈھکے چھپے انداز میں تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ان کے آئینی فریضے میں شامل نہیں کہ ہمارے مفتی منیب الرحمن کی پریس کانفرنس کے بعد فیصلہ سنائیں۔ مگر حقیقت اسی کے گرد طواف کرتی دکھائی دیتی ہے۔

میں نے بہت سے اپنے کشمیری دوستوں سے سنا ہے کہ بچپن سے وہ بھی مفتی منیب الرحمن کو دیکھتے آئے ہیں جیسے ہم پاکستانی دیکھتے آئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مساجد میں رمضان کی تراویح اور عید کی نماز کے اعلان مفتی اعظم کشمیر سے بھی پہلے مفتی منیب کے اعلان کے ساتھ ہی ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہندوستان کی سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کی کشمیر میں توثیق اپنی وقعت کھو بیٹھتی ہے۔ اس کی مثال اس سال کی عید ہے۔ ہندوستان، بنگلہ دیش میں اس سال تیس روزے ہوں گے جبکہ پاکستان نے انتیس روزوں کے بعد عید منانے کا اعلان کیا۔ مذہب اور سائنس کی پیچیدگیوں کی بدولت اس سال عید بھی عین چاند کی پیدائش کے مطابق منائی جارہی ہے۔

ٹویٹر پر اس حوالے سے کشمیری صحافیوں اور صارفین کی دلچسپ رائے دیکھنے کو ملی۔ ایک صارف فیزم نے لکھا کہ یہ چاند کی رویت کا اعلان نہیں، بلکہ ریفرنڈم ہے۔ جبکہ دوسرے صارف احمد حسین کی رائے یہ رہی کہ کشمیری اکتیس روزے تو رکھ سکتے ہیں مگر ہندوستان کے ساتھ عید نہیں منا سکتے۔ کوشر نامی ٹویٹر صارف نے خاصے طنزیہ انداز میں مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ عید کا چاند چندریان کے ملبے سمیت نظر آ گیا ہے۔

علاوہ ازیں یہ یاد رہے کہ حال ہی میں پچیس رمضان کو سرینگر کے علاقے نواکدل میں ہونے والی حریت پسندوں اور قابض بھارتی فوج کے مابین جھڑپوں کی بدولت چار مجاہدین شہید اور کئی گھر نذر آتش کر دیے گئے تھے۔ چاند رات کو قریبی دوست کے توسط سے یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ کشمیری عوام نے دس ماہ کے سیاسی لاک ڈاؤن کے باوجود نواکدل کے متاثرین کے لئے ڈیڑھ کروڑ کی امدادی رقم جمع کر لی ہے۔ عید اور کشمیر پر بات کرتے ایک کشمیری نے لکھا کہ ہر سال عید پر پاکستان کے نام پر ایک کشمیری ضرور مر مٹتا ہے جس کی مثال آج صبح شہید ہونے والے منظور احمد خان ہیں جو بھارتی فوج کے ہاتھوں نواکدل میں گھروں کو آگ لگنے کی وجہ سے بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ منظور احمد کے ساتھ فیاض احمد بھی عید کے روز ہی بھارتی جارحیت کا نشانہ بنے۔

وفا اور اور تقدس جہاں بھی جس حال میں دکھایا جائے اس کو ویسے ہی جذبات اور احساسات کے ساتھ تسلیم کرنا چاہیے۔ ہمارے وطن میں صوبائی، لسانی، سیاسی بہت سے مسائل ہیں مگر اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ اپنے اطراف ہونے والے ان معاملات جو براہ راست ہم سے منسلک ہوں سے نظریں چرائی جائیں اور صدق پر قائم جذبوں کو خوش آمدید کرنے سے کترایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *