ہمارے بچپن کی عید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام سے ہی عید کی تیاری شروع ہو جاتی، چاند دیکھنے کا اہتمام ہوتا، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھنے کی ناکام کوشش کی جاتی، ہر بندہ چھت پر چڑھا ہوتا، جدھر نظر جاتی بندے نظر آتے سب چھت پر چڑھ کر چاند کو ڈھونڈ رہے ہوتے، چاند صاحب کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا اس لیے وہ کہیں دور پہاڑوں کے اس پار چھپے ہوئے ہماری بے تابی اور اضطراب سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے اور اپنے سب عاشقوں کی بے قراری اور بے کلی کو دو چند کر رہے ہوتے، آتش شوق کو اور بھڑکا رہے ہوتے۔

ساری رات اس خوشی میں نیند نہ آنی کہ صبح عید ہے، نئے کپڑوں کو بار بار دیکھنا جو کہ ماں نے استری کر کے رکھ دیے ہوتے تھے، جاگتے سوتے رات کاٹنی اور پھر صبح صبح اٹھ کر بیٹھ جانا، نہانا، دھونا اور پھر مسجد کی طرف نماز پڑھنے روانہ ہو جانا، عید کی نماز کا بے تابی سے ختم ہونے کا انتظار کرنا، نماز ختم ہوتے ہی گھر دوڑ لگانا تاکہ عیدی اکٹھی کی جا سکے، اس دن ڈھیروں پیسے ملتے تھے، اتنے پیسے کہ مصیبت پڑ جاتی کہ یہ ختم کیسے ہوں گے، عید کے بعد بھی ایک ہفتہ تو ان کے ساتھ آرام سے گزر جاتا تھا۔

دکان داروں نے دکان کے باہر تھڑوں پر کھلونے سجا کر رکھے ہوتے، پلاسٹک کی بندوق، کاغذ کا سانپ، پلاسٹک کا شیر، ہاتھی، گھوڑا، پلاسٹک کی سیٹی، غرض کہ بہت سارے کھلونے، اتنے کھلونے کے جن کو دیکھ دیکھ کر دل نہیں بھرتا تھا، جی کرتا کہ سب اٹھاؤں اور گھر لے جاکر اپنی دکان سجا لوں، گول گپے کھانے، چاٹ سے لطف اندوز ہونا، طرح طرح کے پلاسٹک کے بنے ہوئے کھلونے خریدنے اور کچھ دیر بعد جب وہ ٹوٹ جانے تو اور خرید لینے۔

بہت سارے کزنز عید منانے گاؤں آئے ہوئے ہوتے تھے، ان کے ساتھ کھیلنا، ہنسنا، رونا، لڑنا، روٹھنا اور چند منٹوں بعد پھر ایسے ہو جانا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، اس کھیل کود، لڑنے بھڑنے میں اتنے رنگ تھے کہ پوری ایک قوس قزح تھی، ہر قسم کا رنگ تھا، مسرت تھی خوشبو تھی، آج بھی یہ خوشبو کہیں جسم میں رچ بس گئی ہے جب بھی عید آتی ہے یہ خوشبو اپنی پوری توانائی سے مہک اٹھتی ہے، یہ مسرت اندر سے نکل کر سامنے آجاتی ہے اور ایک عجیب قسم کے ناسٹیلجیا میں مبتلا کر کے غمزدہ کر دیتی ہے اب تو نہ لڑائی ہوتی ہے نہ روٹھنا منانا ہوتا ہے، کیوں کہ اب سب کی انا بہت بلند ہے، سب بڑے ہو گئے ہیں ناں، بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ انا بھی بڑی ہوجاتی ہے۔

گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھ جاتا تھا، ایک کے بعد ایک عزیز و اقربا آتے، چند منٹ بیٹھتے عید مبارک کہتے اور اگلے گھر روانہ ہو جاتے، امی نے شام کو ہی کھیر اور چاٹ تیار کر کے رکھی ہوتی تھی اس کھیر اور چاٹ سے سب کی سیوا کی جاتی، اتنے بندے کھاتے، پورا گھر بھی ذائقے سے لطف اندوز ہوتا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ بچ رہتا، شاید اس وقت برکت زیادہ تھی۔ نہ اب ایسی ذائقہ دار چاٹ ہے اور نہ ایسی مزیدار کھیر ہے، وہ ذائقہ وہ مزہ پھر کبھی نصیب نہ ہوا۔

سب رشتے داروں سے عید بٹورنی، کسی سے چونی، کسی سے اٹھنی اور کسی سے ایک روپیہ۔ نانا نے ایک روپیہ دینا، نانی نے سب بچوں کو چار چار آنے دینے۔ اب الحمدللہ بہت پیسے ہیں، جو چیز پسند ہو وہ خرید لی جاتی ہے، جو کھانا پسند ہو وہ بھی کھا لیا جاتا ہے، لیکن جو مسرت نانا کے ایک روپے سے ملتی تھی جو خوشی نانی کی چونی میں تھی جو مزہ خالہ کے پیسوں میں تھا وہ آج ہزاروں روپوں میں نہیں ملتا، جو لذت چار آنے کی چاٹ میں تھی، وہ پانچ سو روپے کی چاٹ میں کہاں، جو ذائقہ آٹھ آنے کی قلفی میں تھی وہ باسکن اینڈ رابنز کی آئس کریم میں کہاں، جو لطف ریڑھی پر کھڑے ہو کر گول گپے کھانے میں تھا وہ فائیو اسٹار ہوٹل کی میز پر بیٹھ کر کھانے میں کہاں۔

ہم سب لوگ بڑے ہو گئے، بچپن کی عید کہیں دور پیچھے رہ گئی، آج بھی اس عید کو ڈھونڈتا ہوں، آج بھی اس عید کو آنکھیں تلاش کرتی ہیں، لیکن وہ عید نہیں ملتی، وہ مسرت، وہ خوشی وہ بے فکری کہیں کھو گئی ہے، کہیں گم ہوگئی ہے۔ بقول شاعر

چکور چاند کی الفت میں جیسے دیوانہ
تری تلاش میں یوں بے قرار ہم ہیں

آج بھی بچپن کی عید روح کو مسحور کرتی ہے، عید آتی ہے تو بچپن کی عید کو یاد کر کے عید منا لیتا ہوں۔

گاؤں میں عید پھرا کرتی تھی گلیاں گلیاں
اور اس شہر میں تھک کر یوں ہی سو جاتی ہے
پہلے ہنستی تھی ہنساتی تھی کھلاتی تھی مجھے
اب تو وہ پاس بھی آتی ہے تو رو جاتی ہے
کتنی مستانہ سی تھی عید مرے بچپن کی

اب خیالوں میں بھی لاتا ہوں تو کھو جاتی ہے
ہم کبھی عید مناتے تھے منانے کی طرح
اب تو بس وقت گزرتا ہے تو ہو جاتی ہے
ہم بڑے ہوتے گئے عید کا بچپن نہ گیا
یہ تو بچوں کی ہے، بچوں کی ہی ہو جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *