کورونا کے بعد کچھ نہیں ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کے حوالے سے ہمارے ہاں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ اتنی تشویش کہ ہر روز اخبارات میں کالموں کی صورت کورونا کا رونا ہوتا ہے اور ٹی وی پہ ٹاک شوز کا کورونا بازار لگتا ہے۔ ہر کوئی اپنے انداز میں اس پر اظہار تشویش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی کورونا کے حوالے سے پیشن گوئیاں کر رہا ہے۔ کوئی اس سے بچنے کے طریقے بتاتا ہے تو کوئی اس سے لڑنے کا مشورہ دیتا ہے۔ کوئی اس کے مستقبل پر تباہی کے اثرات بتاتا ہے تو کوئی عالمی سطح پر اس وبا کے بعد کا منظر بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔

تجزیہ نگاروں کو یقین ہے کہ اس وبا کے بعد کی دنیا مختلف ہوگی اور دنیا میں بہت کچھ بدل جائے گا لیکن میرا یقین بھی اپنی جگہ کامل ہے کہ پوری دنیا بدل جائے گی لیکن ہمارے ہاں کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ کم از کم سائنسی، تحقیقی و طبی سطح پر تو بالکل بھی نہیں۔ تبدیلی آئی تو وہ پہلے سے تباہ حال معیشت کی مزید تباہی کی صورت ہوگی دیگر معاملات میں ہم کنویں کے مینڈک ہی رہیں گے۔ اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے رہن سہن کے حوالے سے وبا کے اثرات کو چیلنج کو سمجھ رہے ہیں جس اس کے بعد اپنے رہن سہن کے طریقوں، سماجی رویوں کو بہتر کر لیں گے تو یہ نری بکواس ہے کہ یہ سب تو ہم نے وبا کے دنوں میں نہیں کیا۔

پھر بھی کوئی جاگتی آنکھوں یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ اس وبا کہ بعد طبی شعبے میں تحقیق کے دروازے کھلیں گے، شعبہ طب میں ہم کوئی مہم سر کر لیں گے، ہسپتالوں کی تعداد بڑھ جائے گی، صحت کی سہولیات بہتر ہوجائیں گی تو یقین کریں یہ صرف دیوانوں کا خواب ہو سکتا ہے۔ سو دیکھتے رہیں کہ خواب دیکھنے پہ پابندی ہے نہ دیوانوں پہ کوئی قدغن۔ یقین کریں کورونا کے بعد یہاں ایسا کچھ نہیں ہوگا، کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہاں بیروزگاری ضرور بڑھے گی، غربت میں اضافہ اور عقل میں مزید کمی ہوگی، پڑھنے والے علم سے پہلے جیسا فاصلہ برقرار رکھیں گے اور پڑھانے والے بھی اسے سر کا بوجھ سمجھ کے اتارتے رہیں گے۔

سو نہ تعلیم کی جستجو پیدا ہونے والی ہے نہ تحقیق کی شمع جلنے والی ہے۔ اب آپ میں سے بہت سارے دانشور اور پر امید لوگ میرے پیچھے ہاتھ دھوکر نہ پڑ جانا کہ بی بی منہ اچھا نہیں تو کم از کم بات ہی اچھی کر لو۔ تو اس کا جواب پھر میرے پاس یہی ہو سکتا ہے قدرت نے منہ اچھا نہیں دیا تو پھر خود سوچیں برے منہ سے بات کیسے اچھی نکل سکتی ہے۔ آپ ہی ایمانداری سے بتائیں تہتر سال ہو گئے ملک بنے یہاں ہر سال سیلاب آتے ہیں اور اس سیلاب میں کیا کچھ نہیں بہہ جاتا۔ کئی کئی ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، ہزاروں لوگ ہر سال گھر سے بے گھر ہو جاتے ہیں۔ مال مویشی سب بہہ جاتا ہے۔ لیکن حرام ہے جو کبھی کسی حکومت نے منصوبہ بندی کی ہو کہ آئندہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کیسے بچنا ہے یا سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کی سوچ کو قریب بھی آنے دیا ہو۔ سوائے مون سون کے موسم میں ہر سال فوج کے جوانوں کو الرٹ کر دینے کے کسی نے کبھی کچھ کیا؟ ہر سال بارشیں ہوتی ہیں، ان بارشوں میں بہت کچھ بہا لے جانے کو سیلاب، ”مویشیوں“ کو ریسکیو کرنے کو فوج اور دلاسے دینے کو حکومتی بیان آ جاتے ہیں۔

لمبے بوٹ پہن کر اور سندھی اجرک کندھے پہ ڈال کر سیلابی پانی میں کھڑے ہو کر تصویریں بنوائی جاتی ہیں اور محفوظ لگژری عمارتوں میں بیٹھ کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلی دی جاتی ہے ”ہم متاثرین کے دکھ درد میں ان کے ساتھ ہیں، پاک فوج کے جوان سیلاب زدگان کی مدد کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔“ سیلاب تباہی مچا کر چلا جاتا ہے اور سیاستدان میڈیا پہ آکر انڈیا کی آبی جارحیت کو کوستے رہتے ہیں۔ اسمبلی میں کھڑے ہو کر انڈیا کی پاکستان کو ڈبونے کی سازش کی پر زور مذمت کرتے ہیں، امریکی دفتر خارجہ کے باہر کھڑے ہو کر اور انڈین ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ کے دفتر بلا کر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں اور پھر اپنی اپنی وزارتوں میں مخولیات کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ہمارا اتنا ہی کام ہوتا ہے آگے خدا جانے یا رام جانے۔

ہم سال کے بارہ مہینے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگتتے ہیں۔ تاریکی کی ماری معیشت کے چراغ میں آئی ایم ایف سے حاصل قرضوں کا تیل ڈال کر اسے روشن کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ ان حالات میں کوئی نادان قابو سے باہر ہوتی لوڈ شیڈنگ اور حد سے بڑھتی مہنگائی کا سوال کردے تو ارباب اختیار اپنی ناکامی کی ذمہ داری پچھلوں پہ ڈال کے خود سرخرو ہونے اور ذہنی طور پہ نابالغ عوام کو پچکارنے کی کوشش کرتے ہیں، پچھلوں کی غلطیوں کو کوستے مزید قرضوں کی چاہت لیے آگے بڑھتے جاتے ہیں، حکومت کے خاتمے پر دوسری پارٹی کو حکومت کرنے کی باری دے کر اپنی اگلی باری کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور بس۔

اتنا ہی کام ہے جو ہم کرتے ہیں۔ کتنے سالوں سے مہنگی بجلی، سیلابی نقصان اور انڈیا کی جارحیت کو کوستے آرہے ہیں ہر سال خسارہ بجٹ پیش کرتے ہیں، کوئی بتائے اس سارے عذاب کو ختم کرنے کے لیے کبھی کچھ کیا گیا ہو، فصلوں کو نقصان سے بچانے کے لیے کوئی بند باندھا ہو یا پانی بچانے کو کوئی ”گڑھا کھودا“ ہو۔ ہم تو وہ احسان فراموش قوم ہیں جو آج بھی ایک آمر کے احسان تلے دبے ہیں، جس کو جابر کہتے بھی نہیں تھکتے لیکن خود اتنے صابر ہیں کہ آج بھی اسی ظالم کے عطا کردہ پانی پر گزارہ کرتے ہیں۔

جس قوم نے دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلہ سے خود کچھ سیکھنے کی بجائے دنیا کو سکھایا کہ ایسے حالات میں امدادی فنڈ سے پہلے ”اپنا حصہ“ کیسے نکالتے ہیں، جنھوں نے بائیس بائیس گھنٹے کی لگاتار لوڈشیڈنگ سے ملک تاریک رکھا لیکن رینٹل پاور لگا کر ”اپنی اپنی“ قسمت روشن کر لی۔ جس قوم کے راہنما پانی بچانے کے بجائے لاشیں بچھانے کو تیار ہو جائیں کہ خون بہا دیں گے لیکن ڈیم بنا کر سیلابی پانی نہیں بچائیں گے۔

جو قوم ہیپاٹائٹس جیسی مہلک بیماری سے بچاؤ کے لیے پینے کے لیے پانی کو ابالنا بار سمجھے اور گندی نالی کے کنارے پر لگے ٹھیلے سے مکھیوں کی غلاظت سے بھری اشیاء کھانا ترک نہ کرے، جو قوم اتنے سالوں سے یہ نہ طے کر سکی ہو کہ پورے ملک میں ہفتہ وار تعطیل کس دن ہوگی، جہاں کچھ لوگ اتوار کی چھٹی کو کفر اور کچھ جمعہ کو چھٹی نہ ہونے کو گناہ سمجھتے ہوں، جو قوم کورونا وبا کے پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے میڈیکل ماسک خرید کر چھپا لے اور جب ماسک پہننے کی ضرورت ہو تو یہ کہہ کر ماسک جیبوں میں رکھ لے کہ کچھ نئی ہوندا جدوں آنی اودوں اونے ماسک تھوڑی ویکھنا (کچھ نہیں ہوتا جب موت آنی ہے تو اس نے ماسک تھوڑی دیکھنا ) ، جس قوم کے سربراہان کے لیے لاک ڈاؤن شغل میلہ بن جائے، ملک کا سربراہ کہے ملک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد ملک میں سب کچھ بند بھی رکھے، جو لاک ڈاؤن کر کے یاد کرواتا رہے کہ ہم لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے، جسے کاروبار بند کرنے سے غریبوں کی بھوک ستائے اور لاک ڈاؤن کھولنے پر بیری کورونا جگاتا ہو، ٹی وی پہ آکر ایک مسخرہ پکا منہ بنا کے کہے لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی ہے اور نرمی کرنے کے بعد انتظامیہ کو دکانداروں پر سختی کرنے بھیج دے، جس قوم کے سربراہان وبا کے دنوں میں بنا ماسک کے میٹنگ اٹینڈ کریں اور بلا ناغہ صحافیوں کا جمگھٹا لگا کر پریس کانفرنس کر کے عوام کو سماجی دوری اپنانے اور ماسک پہننے کا مشورہ دیتے ہوں، اور جو قوم یہ ہی فیصلہ نہ کر سکے کہ کورونا سے ڈرنا ہے یا لڑنا ہے۔

کہ اگر مرض سے بچنا ہے تو ڈر کے احتیاط کرنی ہوگی لیکن اگر لڑائی پر اکسایا جائے تو پھر لڑنے کے لیے تو باہر ہی آنا پڑے گا۔ جہاں عام بندہ کورونا کو وبا نہیں ڈرامہ کہہ رہا ہو اور کچھ لوگ ماہرہ خان کے سٹائل میں ”جب کورونا ہے تو پھر نظر کیوں نہیں آتا“ کہہ کر کورونا کو للکارتے ہوں، اس قوم سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ قوم وبا کے بعد یہاں کا منظر نامہ بدل دے گی۔ ایسی قوم پر صرف انا للہ وانا الیہ راجعون ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔ کورونا سے چھیڑ چھاڑ اور ٹڈی دل سے دل لگی کے بعد اب رم جھم بھی برسنے کو تیار ہے۔ لہذا امید ہے۔ سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے فوج کے جوانوں کو الرٹ رہنے کا اشارہ دیا جا چکا ہوگا اور بس اللہ اللہ خیر صلا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *