اٹھارہویں ترمیم اور ہماری قومی نفسیاتی الجھنیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دیر کے لئے اپنے سکول اور کالج کے دن یاد کریں۔ آپ کے ذہن میں مطالعہ پاکستان کے اساتذہ آئیں گے جو اپنی عینکوں کے پیچھے سے آپ کو گھور کر کہہ رہے ہوں گے کہ ان میں سے تو کوئی نہ کوئی سوال امتحان میں ضرور آئے گا۔ مثال کے طور پر قائد اعظم کے چودہ نکات اور علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد۔ یہ سن کر ہم نے ٹہل ٹہل کر ان اسباق کو رٹنا شروع کر دیا۔ لیکن نہ کبھی کسی نے ہمیں یہ سمجھایا کہ ان واقعات سے ہم کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں؟ اور نہ کبھی ہم نے خود کوئی سبق حاصل کیا۔

چند ہفتے قبل جس طرح اٹھارہویں ترمیم پر تبصرے شروع ہوئے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ کے علم کو صرف ا پنے نمبروں میں اضافہ کے لئے پڑھا تھا۔ یوں تو ہم نے آئین میں بہت سی ترامیم کی ہیں لیکن یہ ترمیم کیوں زیر عتاب ہے؟

جب 2010 میں اس ترمیم کو منظور کیا گیا تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ قومی مالیاتی کمیشن میں مختلف صوبوں کا حصہ گزشتہ مالیاتی کمیشن کے حصے سے کم نہیں ہوگا۔ آئین میں جہاں یہ اختیار گورنر کو دیا گیا تھا کہ وہ صوبائی حکومت کے کام کی تقسیم اور انجام دہی کے لئے قوانین وضع کرے گا۔ اس کی جگہ یہ اختیار صوبائی حکومت کو دے دیا گیا۔ آئین میں اس شق کا اضافہ کیا گیا کہ ہر صوبہ قانون کے ذریعہ مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا۔ اور ذمہ داریاں مقامی حکومتوں کو منتقل کرے گا۔ پہلے آئین میں لکھا تھا کہ کوئی صوبائی حکومت کسی ایسے معاملے کو جو اس کے اختیار میں آتا ہو وفاقی حکومت کی رضامندی سے، وفاقی حکومت کو منتقل کر سکتی ہے۔ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے ذریعہ یہ شرط لگا دی گئی کہ ایسی صورت میں ساٹھ دن کے اندر اندر صوبائی اسمبلی سے اس کی منظوری لینی ہو گی۔ اس ترمیم کے ذریعہ یہ ضروری قرار دیا گیا کہ کہ وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کے تیس دن کے اندر مشترکہ مفادات کی کونسل تشکیل دی جائے گی۔ اور نوے دن میں ایک مرتبہ اس کا اجلاس منعقد کرانا ضروری ہوگا۔ اسی طرح قومی اقتصادی کونسل میں صوبوں کی نمائندگی بڑھا دی گئی۔ پہلے مرکزی حکومت کسی صوبے میں پن بجلی کا اسٹیشن قائم کر سکتی تھی مگر اس ترمیم کے ذریعہ یہ شرط لگا دی گئی کہ ایسا سٹیشن لگانے سے پہلے جس صوبے میں یہ سٹیشن لگایا جا رہا ہے، اس کی صوبائی حکومت سے مشورہ کرنا ہو گا۔ اور اگر اس معاملے میں کوئی اختلاف پیدا ہو تو اس اختلاف کا فیصلہ مشترکہ مفادات کی کونسل کرے گی۔

اسی طرح تیل پر عائد ایکسائز ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی آمد صوبوں کو ادا کر دی جائے گی۔ پہلے وفاق کے حسابات کے متعلق رپورٹ صرف قومی اسمبلی میں پیش ہوتی تھی اس ترمیم کے ذریعہ یہ رپورٹیں سینٹ میں بھی پیش ہوتی ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں وفاقی حکومت کہ بعض اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے عزیز ہم وطنوں کا ایک طبقہ ہمیشہ اس قسم کے اقدامات کے خلاف جہاد کیوں شروع کر دیتا ہے۔

ہمارے ہم وطنوں کا ایک طبقہ ہے جن کے شعور یا لا شعور میں یہ خیال موجود رہتا ہے کہ صوبائی خود مختاری کے نتیجے میں ہمارا ملک کمزور ہو جائے گا۔ اس خیال کا یہ لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ جو لوگ صوبائی خود مختاری کی بات کریں انہیں غیر محب وطن قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہ لوگ صوبائی خود مختاری کی طرف ہر قدم کو ملک سے اور قائد اعظم کے نظریات سے بے وفائی سمجھنے لگتے ہیں۔

سب سے پہلے تو اس نفسیاتی الجھن سے باہر نکلنا پڑے گا کہ صوبائی خود مختاری کا نتیجہ کمزور ملک کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ اور نہ ہی اس سے انحراف کرنا نظریہ پاکستان سے انحراف ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی تاریخ میں دو مرتبہ ملک تقسیم ہوئے۔ پہلی مرتبہ جب آزادی کے وقت پاکستان ایک علیحدہ ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا اور دوسری مرتبہ جب سقوط ڈھاکہ کے المیے کے بعد بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہو گیا۔

اور دونوں مرتبہ اس تقسیم کی وجہ یہ نہیں تھی کہ صوبوں کو زیادہ صوبائی خود مختاری دی گئی تھی بلکہ وجہ یہ تھی کہ مرکز صوبوں کو جائز اختیارات دینے کو تیار نہیں ہو رہا تھا۔ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے ملک کے بانیان نے ہمارے لئے صرف ایک ملک نہیں چھوڑا تھا۔ بلکہ کچھ سیاسی نظریات اور قدریں بھی چھوڑی تھیں۔

پہلے قائد اعظم کے چودہ نکات پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں 1929 میں پیش کیا گیا۔ پہلا نکتہ ہی یہی ہے کہ ہندوستان کو ایک فیڈریشن بنایا جائے اور Residuary Powers [فاضل اختیارات] صوبوں کو دیے جائیں۔ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ سب صوبوں کو برابر کی خود مختاری دی جائے۔ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے الگ صوبہ بنایا جائے۔ شمالی مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان میں اصطلاحات کر کے انہیں دوسرے صوبوں کے برابر لایا جائے۔ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی اس وقت تک آئین میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گی جب تک کہ ہندوستان کی یونین میں شامل ریاستیں اس سے اتفاق نہ کریں۔ گویا پانچ نکات براہ راست صوبائی خود مختاری سے تعلق رکھتے تھے۔ اس پر موتی لال نہرو صاحب کا جواب کیا تھا؟ انہوں نے گاندھی جی کو لکھا کہ یہ محض لغو مطالبات ہیں اور بہتر یہی ہے کہ ہم مسٹر جناح اور علی برادران کو توجہ نہ دیں۔

اس کے اگلے برس ایک اہم سنگ میل علامہ اقبال کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے کی۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں پاکستان کا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس میں بھی متحدہ ہندوستان کی فیڈریشن کو برقرار رکھنے کی تجویز موجود تھی۔ لیکن اس میں فیڈریشن کا کیا تصور پیش کیا گیا تھا؟ اس تصور اور کانگرس کے تصور کا تصادم کیوں تھا؟ اور علامہ اقبال کے نزدیک فیڈریشن کا کیا تصور تھا؟ جیسا کہ اس حوالے سے ظاہر ہے اس تقریر میں علامہ اقبال فیڈریشن میں شامل اکائیوں کے لئے ”ریاست“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت اس تقریر کے اس حصہ سے ہوجاتی ہے:

”ہندوستان کے پنڈتوں کو یہ منظور نہیں کہ مرکزی حکومت کے موجودہ اختیارات میں سر مو فرق آئے۔۔۔ میں تو اس امر کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ہندوستان میں وحدانی حکومت قائم ہو۔ جن اختیارات کو فاضل [Residuary] کہا جاتا ہے وہ صرف آزاد ریاستوں کو ملنا چاہیے۔ مرکزی فیڈرل ریاست کے ذمے صرف ایسے اختیارات رہنے چاہئیں جو تمام فیڈرل ریاستیں اپنی مرضی سے اس کے سپرد کریں۔“

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلم لیگ کی سیاست کی بنیاد ہی صوبائی خود مختاری کا مطالبہ تھا۔ اور فیڈریشن کا مطلب یہی تھا کہ اس میں شامل اکائیاں اپنی مرضی سے اختیارات فیڈریشن کے سپرد کریں۔ جب یہ مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے اور دوسرے فریق نے مضبوط مرکزی حکومت پر اصرار کیا تو پھر ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ سامنے آ گیا۔ جو اختیارات دینے کو تیار نہیں تھے انہیں علیحدہ ملک دینا پڑا۔ اس میں ہمارے لئے پہلا سبق یہ ہے کہ صوبائی خود مختاری کو ملک کی کمزوری قرار دے دینا ملک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ ایک بار جب یہ معاملات افہام و تفہیم سے طے ہو چکے تھے، اس کے بعد مناسب یہی ہوگا اگر صوبوں کے اختیارات اسی صورت میں کم کیے جائیں جب تمام صوبے اس کے لئے آمادہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *