مارکسی دانشور اور کسان تحریک کے بزرگ رہنما چوہدری فتح محمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کسان تحریک کے عظیم انقلابی رہنما، نیشنل عوامی پارٹی کے بانی رکن اور عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے بانی صدر چوہدری فتح محمد کینسر کے خلاف ایک طویل لڑائی کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی وفات 25 مئی کی صبح واقع ہوئی۔ انہیں اسی شام ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ان کے گاؤں 305 گ ب میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ کامریڈ فتح محمد نے سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خلاف سات دہائیوں تک عملی جدوجہد کی تاریخی مثال قائم کی۔ اس تحریک کے لیے انہوں نے ان گنت قربانیاں دیں، قید وبند کے طویل سلسلے دیکھے، لاہور شاہی قلعہ میں بہیمانہ عقوبت بھی برداشت کی۔ چوہدری فتح محمد کے انتقال سے پاکستان میں معاشی انصاف اور عوام دوست نظریے سے غیر متزلزل وابستگی کا ایک تابناک عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

چوہدری فتح محمد 1923 میں جالندھر کے قریب ایک چھوٹے سے گاوں ”چاڑھکے“ میں پیدا ہوٸے تھے۔ بٹوارے کے وقت پاکستان آٸے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اہک گاوں چک 305 گ ب میں آباد ہو گٸے۔ ابتدائی عمر ہی میں انقلابی نظریات اور عوام دوست  نصب العین سے وابستگی اختیار کر لی۔ 25 برس کی عمر میں 1948 میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے رکن بنے۔ چوہدری فتح محمد 25 جولائی 1957 کو ڈھاکہ میں منعقدہ پاکستان ڈیموکریٹک کنونشن میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے عبدالغفار خان، جی ایم سید، عبدالحمید بھاشانی، میاں افتخار الدین، سید قسور گردیزی، میاں محمود قصوری، حیدر بخش جتوئی، شیخ عبدالمجید سندھی، عبدالصمد اچکزئی، غوث بخش بزنجو اور گل خان نصیر جیسے قد آور رہنماؤں کی معیت میں نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ نیشنل عوامی پارٹی پاکستان کی پہلی جمہوری پارٹی تھی جس کی جڑیں مشرقی پاکستان سمیت مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجود تھیں۔ نیشنل عوامی پارٹی کا بنیادی ہدف ون یونٹ کو ختم کر کے پاکستان کے وفاق کو جمہوری اور منصفانہ بنیادوں پر استوار کرنا تھا۔ بہت کم مدت میں اس جماعت کی بے پناہ مقبولیت سے جمہوریت دشمن قوتوں کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی فروری 1959 کے موعودہ انتخابات میں غیر جمہوری قوتوں کو زبردست شکست سے دوچار کریں گی۔

چنانچہ سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان نے سازشوں کے ایک پیچیدہ جال کی مدد سے اکتوبر 1958 میں آئین منسوخ کر دیا اور دوسری سیاسی جماعتوں سمیت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عاید کر دی۔ اس دوران 1960 میں نیشنل عوامی پارٹی کے نوجوان رہنما حسن ناصر کو اذیتیں دے کر لاہور کے شاہی قلعے میں شہید کیا گیا۔ اس وقت چوہدری فتح محمد بھی اس بدنام زمانہ عقوبت خانے میں اپنی سیاسی وابستگی کی قیمت ادا کر رہے تھے۔ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے لئے بدترین ایذا رسانی اور ناکردہ گناہوں کے اعتراف کے لئے شرمناک ہتھکنڈوں کی دہشت ناک شہرت رکھنے والا یہ عقوبت خانہ برطانوی حکومت نے 1924 میں قائم کیا تھا۔

1963 میں سیاسی جماعتوں کی بحالی کے بعد نیشنل عوامی پارٹی نے بھی اپنی سرگرمیاں شروع کیں لیکن جنوری 1965 میں پاکستان کے صدارتی انتخابات کے دوران عالمی کمیونسٹ تحریک میں روس اور چین کی آویزش کے سائے پاکستان تک آن پہنچے۔ جنرل ریٹائرڈ اعظم خان کی بجائے محترمہ فاطمہ جناح کے متفقہ صدارتی امیدوار ہونے کی تحریک اگرچہ مولانا عبدالحمید بھاشانی ہی نے پیش کی تھی لیکن انتخابی مہم کے دوران انہوں نے متحرک کردار ادا نہیں کیا۔ عام تاثر یہ تھا کہ مولانا عبدالحمید بھاشانی نے مبینہ طور پر چین کے اشارے پر اور مالی مراعات کے عوض محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں صدر ایوب کی درپردہ حمایت کی۔ مولانا بھاشانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیسے نہیں لئے البتہ ان کے بیٹوں نے شاید ایسا کیا ہو۔ ایوب خان کی انتخابی مہم کے انچارج ذوالفقار علی بھٹو اپنی نجی مجلسوں میں کھلے عام مولانا بھاشانی کے دوہرے کردار کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اس آویزش کے نتیجے میں نیشنل عوامی پارٹی عبدالولی خان گروپ (ماسکو نواز) اور مولانا عبدالحمید بھاشانی گروپ (پیکنگ نواز) میں تقسیم ہو کر اپنی سیاسی قوت کھو بیٹھی تو چوہدری فتح محمد مولانا بھاشانی کے ساتھ تھے۔

چوہدری فتح محمد قومی سیاست کے بڑے تناظر یا پارلیمانی جمہوریت کے پیچ و خم کی بجائے کسانوں کی مقامی تنظیم سازی کے ماہر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 24 مارچ 1970 کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس منعقد ہوئی تو چوہدری فتح محمد اس تاریخ ساز اجتماع کے روح رواں تھے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس کے شرکا کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی۔ مولانا بھاشانی نے اس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اسلامی سوشلزم پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں گوریلا جنگ کی دھمکی دی۔ تاہم مولانا بھاشانی کی سیاست مستقل مزاجی سے عاری تھی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس نے ملک کے طول و عرض میں سیاسی شعور کی ایک طاقتور لہر دوڑا دی تھی لیکن مولانا اس سیاسی ابھار کو کسی نتیجہ خیز سیاسی قوت میں ڈھالنے سے قاصر تھے۔ ان کی جذباتی سیاست 1968 میں اگرتلہ سازش کیس کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی تھی تو 1970 میں وہ اسلامی سوشلزم کے بے معنی نعرے کے لئے گھیراو جلاؤ کی تلقین کر رہے تھے۔ محض ایک برس بعد مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی تو مولانا بھاشانی مشرقی پاکستان سے نکل کر بھارت پہنچنے والے پہلے قافلوں میں شامل تھے۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان تو الگ ہو گیا لیکن چوہدری فتح محمد جیسے بے لوث نظریاتی سیاسی کارکنوں کی ساکھ کو دھچکا پہنچا۔

جاننا چاہیے کہ مارچ 1970 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس کی کامیابی سے خائف ہو کر مئی 1970 میں جماعت اسلامی نے یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات جنرل (ریٹائرڈ) نوبزادہ شیر علی خان کی درپردہ اعانت سے شوکت اسلام کے جلوس منعقد کئے تو ان اجتماعات میں مذہبی رہنما (بشمول سید ابوالاعلیٰ مودودی) عوام سے سوال کرتے رہے کہ تمہیں اللہ کی کتاب چاہیے یا روٹی۔ لوگ ہاتھ بلند کر کے کہتے تھے، حضور اللہ کی کتاب ہمارے گھر میں موجود ہے لیکن روٹی نہیں ہے۔ یہ زمیں زادوں کا سیاسی شعور تھا لیکن نظریاتی سیاست کی عالمی بساط پر اتھل پتھل کے اپنے قرینے تھے۔ 1971 میں چین اور امریکہ میں ربع صدی پر محیط عداوت اپنے اختتام کو پہنچی۔ اور ٹھیک بیس برس بعد سوویت یونین میں یک جماعتی حکمرانی بھی ختم ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ انصاف اور آزادی کی میزان سنبھالنا ریاستوں کا کام نہیں، یہ منصب تو فرد کے ضمیر سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری کسی ریاست کی داخلی اور خارجی پالیسی کے تابع نہیں۔ یہ کار آسمان کسی ایک نسل سے منسوب نہیں ہوتا۔ یہ خواب ایک اجتماعی انسانی وراثت ہے جسے ایک کے بعد دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہنا ہے۔

پیپلز پارٹی کی ساڑھے پانچ سالہ نیمے دروں نیمے بروں حکومت اور پھر ضیا آمریت کے ننگے استبداد کے نتیجے میں طبقاتی سیاست کو گہرا دھچکا پہنچا۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات نے معاشی سوالات کو انتخابی سرگرمی ہی سے خارج کر دیا سوائے اس معیشت کے جو آمریت سے گٹھ جوڑ کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان مفادات کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ اس کے باوجود چوہدری فتح محمد جیسے مستقل مزاج سیاسی کارکنوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ عوامی ورکرز پارٹی کے پنجاب میں بانی صدر منتخب ہوئے۔ پیرانہ سالی کے باعث ان کی سیاسی سرگرمیوں میں خاصی کمی آ گئی تھی۔ کچھ برس پہلے ان کی خود نوشت سوانح “جو ہم پر گزری” کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ چوہدری فتح محمد کی وفات سے پاکستان میں کسان سیاست کا وہ باب بند ہو گیا ہے جس کے صفحات پر حیدر بخش جتوئی، میجر اسحاق، سی آر اسلم، قسور گردیزی، افضل بنگش اور شیخ رشید جیسے روشن نام رقم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *