اس عید میں ہمارے لئے کچھ بنیادی اہم پیغامات و احکامات ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ ہر قوم کی عید

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ ہر قوم اپنے فکر و نظریہ کے مطابق اس اجتماعی دن کی خوشی کو مناتی ہے۔

عید کی تکبیرات ہمیں واضح اور دو ٹوک پیغام دیتی ہیں کہ حکمرانی صرف اللہ کی ہی ہے اور اس کی نمائندگی و اظہار دنیا میں اس کے بتائے ہوئے احکامات پر عادلانہ نظام بنا کر ہی ہو سکتا ہے، جس کا دائرہ کار معاشی، سماجی اور سیاسی عدل پر محیط ہو۔

اسی کے عملی اظہار اور عزم کو ذہن میں رکھ کر ہم با آواز بلند ان تکبیرات کو کہتے ہوئے گھر سے نکلتے ہیں اور ایک کھلے میدان میں اکٹھے ہو کر ایک اجتماعیت تشکیل دے کر اس مشن کو دہراتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں حاکمیت اللہ کی ہی ہونی چاہیے۔

2۔ صدقہ فطر

نماز عید پڑھنے سے پہلے ہر ممکن اس کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ دین رحمت اس موقع پر معاشرے کے کمزور، نادار اور غربا کو بھول جاتا۔ صدقہ فطر، فدیہ اور زکواۃ ( زیادہ مسلمان اسی مہینے ادا کرتے ہیں )

کے ذریعے سے ایک معاشی سرگرمی پیدا ہوتی جس سے ان لوگوں کو بھی خوشی میں برابر کا شریک کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی خوشی کا مزہ تب ہوتا ہے جب سب خوش ہوں ان کے اچھے لباس، کھانے اور دوسری ضروریات کے حوالے سے انتظامات ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس عزم کو بھی دہرایا جاتا ہے کہ مستقل بنیادوں پر کوشش کر کے ایک ایسے معاشی نظام کی تشکیل کے لئے تگ و دو کرنی ہے جو سالہا سال ایسے افراد کی ملکی سطح پر کفالت اس انداز سے کرے کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور یہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر دینے والے بن جائیں۔

3۔ ملنا ملانا اور کھانا پینا

یہ وہ دن ہے جس میں ملنے ملانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے سے مل کر آگے بڑھ کر دلوں میں موجود کدورتوں اور نفرتوں کو مٹانا چاہیے، دلوں کو صاف کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہیے۔ مل جل کر میسر وسائل کو استعمال کرتے ہوئے معتدل کھانے پینے کا انتظام بھی کرنا چاہیے۔ اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اسی وجہ سے اس دن روزہ رکھنے کی بھی ممانعت ہے۔

4۔ لیلتہ الجائزہ

عید الفطر سے جو پہلی رات ہے وہ لیلتہ الجائزہ کہلاتی ہے۔ یہ نہایت اہم رات ہے جس میں انسان اپنے پورے رمضان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتا ہے اور مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی بناتا ہے۔ اس رات سے مستفید نہ ہونے کو ایسے تشبیح دیا گیا ہے کہ جیسے مزدوری کر کے اس کی مکمل اجرت وصول نہ کی جائے۔ لہذا اپنے رکھے گئے روزے، تلاوت قرآن پاک، ذکر اللہ، قیام الیل کے حوالے سے اللہ پاک کی طرف متوجہ ہو کر اس کی قبولیت کے لئے گڑگڑا گڑگڑا کر دعا کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ اس تربیت کی طرف بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے جو اس مہینے کی ریاضت کا اصل ہے۔ اسی مہینے میں غزوہ بدر اور فتح مکہ کے واقعات ہوئے تھے جس سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ سیاسی و معاشی آزادی کتنی اہم ہے اور کیا ہم اس وقت سیاسی و معاشی طور پر آزاد ہیں؟ اور اگر نہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری انفرادی و اجتماعی اصلاح کرے اور ہمیں اس تربیتی مہینے کے مطلوب مقاصد حاصل کرنے میں مدد فرمائے۔ اور ایک حقیقی عید منانا نصیب کرے۔

مجھے اور میرے اہل خانہ کو دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔
والسلام
اویس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اویس احمد میر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *