اینکرز اپنی وقعت کیوں کھو رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئی صدی کے اوائل میں پرویز مشرف نے اپنے سافٹ امیج کے لیے نجی نیوز چینلز کو لائسنس دینے کا آغاز کیا۔ الیکٹرانک میڈیا آیا اور چھا گیا۔ چینل مالکان نے صحافی حضرات کو گھر سے اٹھا کر سکرین اور عوام نے سر آنکھوں پہ بٹھایا۔ اک وقت تھا جب یہ صحافی اینکرز حکومتیں گرانے کا الٹی میٹم دیا کرتے تھے۔ میڈیا مالکان نے ان کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ ان کا کہا پتھر پہ لکیر ہو جاتا۔ کیا سیاستدان کیا فوجی سب اک وقت میں ان سے بنا کر رکھنے میں عافیت جانتے۔

لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ کسی کو اتنا مت ڈراؤ کہ ڈر ہی ختم ہو جائے۔ اینکرز کے بے جا غرور اور نازک انا نے ان کی کمان سے اک اک کر کے تمام تیر چلا دیے اب ان کے پاس نام کو بھی کوئی تیر نہیں بچا۔

جب حامد میر صاحب کو گولیاں لگیں اور جیو کی سکرین پہ مسلسل چھ گھنٹے حاضر سروس آئی ایس آئی چیف کی تصاویر لگا کر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ یہ الیکٹرانک میڈیا کے عروج کے آخری گھنٹے تھے۔

اس سے قبل اسٹیبلشمنٹ مکمل چینل بند کرا کے چینلز کو آزادی صحافت پہ حملہ کے نعرے کو کیش کرانے کا موقع فراہم کرتی تھی۔ مگر اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنی چال بدلی اور کیبل آپریٹرز کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں میں چینل بند کرنا شروع کر دیے۔ بندش کا شکار چینل جب آواز اٹھاتا تو ملک کے دیگر حصوں سے گواہیاں آنا شروع ہو جاتیں کہ چینل بند نہیں ہے چل رہا ہے۔

چینلز کی ریٹنگز گرنا شروع ہو جاتیں۔ چونکہ ریٹنگ کے اعتبار سے چینل کے اشتہارات کی قیمت طے کی جاتی ہے اس لیے چینل مالکان زیادہ دیر تک میدان میں نہ ٹھہر سکے اور ہتھیار ڈال دیے۔

چینلز کے ہتھیار ڈالنے کی دیر تھی۔ غیر محسوس انداز میں ناپسندیدہ اینکرز سکرین سے غائب ہونا شروع ہو گئے۔ نصرت جاوید، مطیع اللہ جان، طلعت حسین اور رؤف کلاسرا سمیت کئی نامور اینکرز سکرین سے غائب ہیں۔ چند اینکرز نے اپنے تئیں لڑائی لڑنے کی کوشش کی مگر وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کے پاس موجود سب تیر چل چکے ہیں۔ اس کوشش میں کئی سنجیدہ سمجھے جانے والے اینکرز مسخرے لگنا شروع ہو گئے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا اور یوٹیوب اک بہت بڑے میڈیم کے طور پہ سامنے آئے۔ اک طرف تو مارکیٹنگ کے لیے اشتہارات مین سٹریم میڈیا سے سوشل میڈیا کی طرف شفٹ ہونا شروع ہو گئے تو دوسری طرف عوام کی دلچسپی الیکٹرانک میڈیا سے مفقود ہونے لگی۔

اب خبروں اور ناظرین پہ نظر رکھنے والے اک عالمی ادارے کے مطابق پاکستان کی اسی فیصد آڈینس سوشل میڈیا و یوٹیوب پہ شفٹ ہو چکی ہے۔ بھلے ان کا نیوز پلیٹ فارم نیوز چینل ہی کیوں نہ ہو لیکن ناظر یوٹیوب پہ خبریں سنتا ہے نہ کہ ٹی وی پر۔

اس لیے ریٹنگز کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ پھر سوشل میڈیا نے عوام کے ہاتھ میں سکرین شاٹس اور پرانی ویڈیوز کا ہتھیار بھی دے دیا۔ اب حال یہ ہے کہ عوام قریب قریب تمام بڑے اینکرز کے مزاج اور ترجیحات کو سمجھ چکے ہیں۔

ادھر کسی اینکر نے کوئی لوز پوائنٹ دیا نہیں کہ سیکنڈوں میں ان کے ماضی کا متضاد موقف یا غلط دعوے کا کلپ سوشل میڈیا پہ آ جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ شہرت اک نشہ ہے جب یہ نشہ ٹوٹتا ہے تو بڑے بڑے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اب ان اینکرز حضرات کو سمجھنا ہو گا کہ اب وہ باتیں نہیں رہیں۔ جتنا جلد یہ اس حقیقت کو قبول کریں گے اتنا جلد فیس سیونگ کر پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *