جہاز کے مسافر: پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس جمعہ کو ہم تین دوستوں نے ورچوئل سحری کا اہتمام کیا تھا، وٹس ایپ کانفرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کافی گپ لگائی۔ ہمیشہ کی طرح میں تھوڑا لیٹ ہو گئی، جب میں نے کانفرنس کال کو جوائن کیا تو وہ دونوں سحری کر کے چائے کے مزے لے رہے تھے۔ میں نے سحری میں کافی اہتمام کیا ہوا تھا۔ گارلک پراٹھا انڈے کے ساتھ بنایا جس کی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔ خیر سحری کے ساتھ ساتھ میرے دونوں عزیز دوست مجھ سے اٹلی کے لاک ڈاؤن کا احوال پوچھ رہے تھے۔

ہماری گفتگو کا محور کرونا وائرس اور اس کے اثرات تھے۔
ھم سب مل کر ”چین“ کو کوس رہے تھے۔ ۔ ۔ مستقل باتیں کرتے کرتے ہم نے چائنا کا نام بھی بدل دیا تھا۔

میں نے کہا کہ جس دن دنیا کرونا کے خاتمے کا جشن منا رہی ہو گی تو اس دن ہم ورلڈ میپ میں چائنا کا نام تبدیل کر کے ”ری پبلک آف کرونا“ کر دیں گے۔ بہت دیر تک ہم سب اس بات پر جی بھر کے ہنستے رہے۔ ایسا لگا کہ بہت عرصے بعد ہم سب اتنا کھل کر، جی بھر کر ہنسے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کو محسوس کیا ہے۔

ہم تینوں یورپ کے الگ الگ ملکوں میں مقیم ہیں، لیکن جمعہ کی ورچوئل سحری، جیسے ہم نے ساتھ بیٹھ کر ایک ہی کمرے میں کی ہو۔ باتیں کرتے کرتے تین گھنٹے گزر گئے، وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ جب یہ کانفرنس کال ختم کی تو ہم سب بہت ہی سرشار اور بے انتہا خوش تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ خوشی کچھ دیر بعد ایک ایسے غم میں بدلنے والی ہے، جو ہماری موت تک ہمارے ساتھ رہے گا۔

دوپہر گیارہ بجے اٹھنے کے بعد حسب عادت اپنا موبائل فون دیکھا تو جو خبر میں نے پڑھی وہ ملیر میں طیارے کے حادثے کی تھی۔ پوری خبر پڑھے بغیر ہی میں نے اپنے بھائی کو کال ملائی۔ میرا گھر ملیر میں ہی واقع ہے، اس لئے پریشانی اور ایک انجانا سا خوف مجھ پر طاری ہو گیا تھا۔ بھائی نے اپنی اور گھر والوں کی خیریت سے مطلع کیا۔ اس نے بتایا جہاں طیارہ گرا ہے وہ جگہ ہمارے گھر سے کافی دور ہے۔

حادثے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ہر طرف سے یلغار تھی۔ اس اندوہناک حادثے کی طرح طرح کی ویڈیوز فیس بک پر گردش کر رہی تھیں۔ میں نے فیس بک پر ہر پوسٹ کو چیک کیا اور ہر اس خبر کو کلک کیا جو اس المناک حادثے کی تفصیلات بتا رہی تھی۔ کچھ ہی گھنٹوں کے اندر اندر فیس بک کی ایک پوسٹ نے مجھے غم کے سمندر میں دھکیل دیا، جہاں سے میں اب خود کو شاید کبھی نہ نکال پاؤں۔ میں خود کو اس کی جگہ رکھ کر سوچتی ہوں تو پورا وجود لرز اٹھتا ہے۔

اپنے پیاروں سے ملنے کی امنگ اور انہیں دیکھنے کی جو خوشی ہوتی ہے، اس کا اندازہ ہم پردیس میں رہنے والوں سے زیادہ بھلا کون جان سکتا ہے۔ لفظوں میں اس احساس کی تفہیم شاید ممکن ہی نہیں۔ ۔ ۔

وہ عمار راشد کا فیس بک اسٹیٹس تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ دو مہینے لاک ڈاؤن کے بعد کراچی واپس آ رہا ہے اور بے انتہا خوش ہے کہ وہ عید اپنے پیاروں کے ساتھ ان کے پاس کرے گا۔

عمار نے سفر جس منزل پر پہچنے کے لئے کیا تھا، اسے خبر ہی نہیں تھی کہ وہ منزل کبھی نہیں آئے گی۔ طیارہ جب پہلی بار لینڈنگ کی غرض سے رن وے سے ٹکرایا ہوگا تو عمار کے دل میں خوشی کا فوارہ پھوٹا ہو گا لیکن پھر اچانک طیارہ لینڈ کے بجائے ہوا میں پرواز کرنے لگا ہو گا تو عمار نے اپنے سیل فون کو آن کر لیا ہوگا۔ ۔ ۔ اسے معلوم ہے سگنلز نہیں موبائل فون کے، لیکن پھر بھی اس نے اپنے ہمدم دوست کے لئے ایک پیغام ٹائپ کر کے اسے فضا کے سپرد کر دیا ہوگا۔ یہ سوچ کر کہ شاید مجھ سے پہلے یہ پیغام دوست تک پہنچ جائے۔

عمار نے اپنی نشست سے آگے کو جھک کر، ونڈو سے اپنے پیارے شہر کراچی کو آخری بار دیکھ کر اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لی ہوں گی۔ اس کے کانوں میں چیخ و پکار، آہ و بکا کی آوازیں آ رہی ہوں گی۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو آخری بار اپنے سینے سے لگا کر انہیں پیار کیا ہوگا۔ ۔ ۔

بچے ماؤں سے چمٹے، اپنے باپ کی انگلی پکڑے، اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں جو ان سب کی منتخب کردہ نہیں تھی۔ ۔ ۔ وہ سب لوگ تو عید منانے کے لیے لاہور سے کراچی روانہ ہوئے تھے۔

پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی۔ ۔ ۔ آہ۔ ۔ ۔ کاش کہ وہ نگاہیں پلٹ سکتیں، وہ جہاز گھروں سے ٹکرانے کے بجائے پلٹ کر رن وے کی طرف بڑھ سکتا۔
سب کو اس بات کی خبر ہو گئی ہو گی کہ موت ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ ان کی منزل کا تعین اب وہ کرے گا، جو سب سے بے نیاز ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صائمہ حیات، اٹلی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *