وزیر اعظم عمران خان ایک عظیم رہنما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کو نا اہل اور بے وقوف وزیر اعظم کے طور پر پیش کر کے تنقید ہو رہی ہے۔ ایک ایسا وزیر اعظم جس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں سوائے تقریر کرنے کے اور چندہ مانگنے کے، لیکن میری رائے میں وزیر اعظم عمران خان سمجھدار بھی ہیں اور ملک کے بہتری کے لئے اپنا بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ میری اس رائے کی کئی وجوہات ہیں ابھی ابھی شیخ رشید کا ایک بیان نظر سے گزرا جس میں اس کا فرمانا تھا کہ جتنے سربراہان مملکت کے ساتھ کام کیا عمران خان کو زیادہ ذہین، سمجھدار پایا، میں شیخ رشید کے اس بیان کی مکمل تائید کرتا ہوں۔

اس کی کئی وجوہات ہیں پاکستان میں پچھلے 70 سالوں سے ایک ادارے کے پاس طاقت اور اختیارات ہیں۔ ملک کے کسی بھی اہم فیصلہ سازی میں ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ادارے کے طاقت اور اختیارات میں اضافہ ہوتا گیا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہوں اس ادارے کے تابع تھی۔ غلطیاں ادارے کے فیصلہ سازی کی وجہ سے ہوتی تھی لیکن گالیاں ان سیاستدانوں کو پڑتی تھی۔

تیسری دنیا کے سیاستدان بھی کیسی بدقسمت مخلوق ہیں، قربانیاں سزائیں، جیلیں، جلاوطنیاں، پھانسیاں، قتل مگر اس کے باوجود الزامات اور کردار کشی بھی انہیں کی۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد کم از کم عوام کو یہ تو پتہ چل گیا کہ پاکستان میں اصل حکومت کس کی ہے۔ اہم اداروں کے سربراہان ریٹائرڈ یا حاضر سروس جرنیلوں کو لگا دیا گیا۔ جو کہ ایک اچھا اور مثبت اقدام ہے۔ کم از کم عوام کی جو غلط فہمیاں تھی وہ اب دور ہو رہی ہے۔

اب پہلے جو باتیں صرف سیاستدانوں کے حصے میں آتی تھی اس میں یہ ادارہ بھی شریک ہو گیا ہے، اس ادارے پر بھی اب وہ تنقید ہو رہی ہے جو پہلے صرف سیاست دانوں پر ہوتی تھی جو کہ مساوات اور بھائی چارے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ظلم و استحصال کو ایک خاص حد تک برداشت کرتا ہے اور جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو وہ اس نظام، روایت اور قدروں سے بغاوت کرتا ہے جو کہ اس کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران خان نے ان سیاسی جماعتوں کو بھی عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا جو جمہوریت اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے۔

آج ملک میں اپوزیشن نظر نہیں آ رہی بلکہ چیف کی ملازمت میں توسیع کے بل پر حکومت اور اپوزیشن ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے۔ جس کی وجہ سے عوام کو جمہوریت اور ووٹ کو عزت دو کے بیانئے کو سمجھنے میں مدد ملی۔ لیڈرز ظلم، جبر اور عدم مساوات کے خلاف مزاحمت کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ لیڈر کبھی بھی اپنے آپ کو لیڈر کہلانے کے حقدار نہیں جو مشکل وقت میں خاموش ہوں جو مصلحت کی سیاست کرتے ہوں۔ عمران خان نے ادارے، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ ہمارے عوام کو بھی بے نقاب کیا۔

عوام سیاستدانوں سے قربانی تو مانگتے ہیں جس کی وجہ سے ماضی میں یہ سیاستدان نا صرف قتل ہوئے بلکہ پھانسی بھی چڑھے۔ لیکن عوام نے مشکل وقت میں کبھی اپنے لیڈر کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ اپنے لیڈر سے تو قربانی مانگتے ہیں لیکن خود قربانی دینے کے لئے تیار نہیں۔ دو سال سے بھی کم عرصے کی حکومت میں عمران خان نے عوام کو سب کی اصلیت بتا دی عوام کی طرف سے یو ٹرن کے الزامات پر بھی کھڑے رہے اور یو ٹرن کی افادیت پر بیانات دیتے رہے۔

دہائیوں سے پاکستان کے عوام مسائل کا سامنا کر رہے ہیں کیا کسی اور حکومت نے اپنے بیانات کے ذریعے عوام کو اتنی تفریح فراہم کی ہے جو اس موجودہ حکومت نے کی ہے؟ تبدیلی کا لفظ بہت خوبصورت ہے ہم اداروں، سیاستدانوں سے تبدیلی تو چاہتے ہیں لیکن بحیثیت عوام خود کو تبدیل کرنے بارے نہیں سوچتے۔ اصل تبدیلی اس وقت ہو گی جب عوام کی سوچ تبدیل ہو گی جب ہم شخصیات اور اداروں سے اندھی عقیدت کا رشتہ حتم کریں۔ وزیر اعظم عمران خان ایک عظیم رہنما ہے انہوں نے قوم کے سامنے سب کی اصلیت سامنے رکھ دی۔ امید ہے اس کا فائدہ ہمارے ملک کو ہی ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *