محبت کیا ہے؟
محبت کیا ہے یہ سوال روزاول سے لے کر آج تک ہر زمانے میں ہر معاشرے میں اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں سے کیا جاتا رہا ہے اور ہر کوئی محبت کی تعریف و تشریح اپنے نقطہ نظر سے کرتا آیا ہے۔ جو بھی اپنے تجربات اور مشاہدے کی بنا پر محبت کے جس معیار پہ پہنچا اس نے وہیں پہ کہا کہ یہ محبت ہے۔ محبت کی آج تک کوئی ایسی جامع تعریف نہیں ہو سکی جو کہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ میرے خیال میں آج تک محبت کے متعلق جتنی بھی تعریف ہوچکی ہے اس کو قابل قبول اور درست تسلیم کر لیا جائے۔ محبت تو ایک جذبہ ہے ایک کیفیت ہے اور جس نے بھی اس کیفیت یا جذبے کو جس طرح محسوس کیا اس کے نزدیک وہی محبت ہے۔
میرے نزدیک محبت بقا سے فنا تک کا سفر ہے۔ اس سفر میں مسافر کو کہیں تو تندوتیز دریا کی لہروں میں گھڑے سمیت غرق ہونا پڑتا ہے تو کسی کو تپتے ریگستان کی ریت میں دفن ہونا پڑتا ہے۔ یا پھر کہیں پر انا الحق کا نعرہ لگا کر تختہ دار پہ جھولنا پڑتا ہے۔ یہ سارے امتحانات ہیں اور محبت میں بقا سے فنا تک کے سفر میں ہر مسافر کو ان امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مدارج کو طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ رتبے ہوتے ہیں اور اس سفر میں ایک کے بعد دوسرا رتبہ ملتا جاتا ہے۔
اور اس طرح ہر مرتبے کے بعد ایک امتحان ہوتا ہے بعد ہر امتحان کے ایک رتبہ ہوتا ہے یہ امتحان ڈالنے والی اور رتبے عطا کرنے والی ذات بھی محبت سے ناآشنا نہیں ہے محبت وجہ تخلیق کائنات ہے اور اس ساری کائنات میں وہی سب سے پہلا محب ہے جس نے اپنے محبوب کی خاطر چند دنوں میں یہ کائنات تخلیق کی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ محبت ایک لاثانی اور آفاقی جذبے کا نام ہے۔ محبت آسمان سے اترے ہوئے صحیفوں کی مانند مقدس، پاکیزہ اور معتبر ہے۔ محبت جیسے معتبر جذبے میں شک نہیں ہو سکتا۔ شک ایمان کے کمزور ہونے کی دلیل ہے اور جن کے ایمان کمزور ہوتے ہیں ان کو رتبے عطا نہیں کیے جاتے۔ جن دلوں میں شک کے بیج گر جائیں وہاں نفرتوں کی خاردار جھاڑیاں اگا کرتی ہیں یقین کے پھول نہیں۔
محبت کسی کے منصب اور امارت سے نہیں ہوتی۔ منصب اور امارت کی بریدہ لاش کو محبت کی مقدس چادر سے ڈھانپنے والے لوگ درحقیقت قابل رحم ہوتے ہیں۔ محبت کا معیار تو اپنی ذات کی نفی کرنا، اپنی ہستی، اپنی خواہشات اور اپنی آرزوؤں کی نفی کرنا ہے۔ محبت کے جذبے سے آشنا ہونے والا محبوب کے سامنے بس جھک جاتا ہے۔ بنا دام کے بک جاتا ہے۔ اس لیے محبت میں انا نہیں ہوتی اور اگر انا ہو تو محبت نہیں ہوتی۔ اس لیے محبت پیشانی کو سجدے میں زمیں پر ٹیک دینے کا نام ہے۔
محبت بے غرض و طلب ہوتی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ گہری وابستگی میں بال برابر بھی غرض ہے تو وہ محبت نہیں خود غرضی ہے۔ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تو پھر آپ کا بے لوث ہونا لازم ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ آپ سے محبت کرتا بھی ہے کہ نہیں۔ کیونکہ محبت میں طلب محبت جائز نہیں۔ منزل راہ طلب محبت نہیں بلکہ صرف طلب ہی محبت کا مقام معرفت ہے۔ پھر اسے اتنا کچھ بے طلب مل جاتا ہے جتنا اس نے کبھی طلب بھی نہیں کیا ہوتا۔ جس نے محبت میں طلب کی خواہش رکھی اسے تند و تیز دریا کی لہروں میں غرق ہونا پڑا۔ اس میں بھی انہوں نے بقا سے فنا تک کا سفر کیا لیکن ان کا سفر جلد اختتام پذیر ہوا اور وہ بہت سارے درجات، بہت سے رتبوں سے محروم رہ گئے۔
کو بہ کو رسوائی اور بدنامی محبت کا شیوہ نہیں ہے کیونکہ محبت کے نخلستان میں رسوائیوں اور بدنامیوں کے ببول نہیں اگا کرتے۔ بلکہ اس نخلستان میں عزت و وقار کے تناور درخت کی گھنی چھاؤں ہوتی ہے اور ویسے بھی صحرا میں بھٹکتے ہوئے ہر مسافر کو نخلستان نہیں ملا کرتے۔ نخلستان تو ان مسافروں کے پڑاؤ کے کام آتے ہیں جنہوں نے مزید سفر کرنا ہوتا ہے آگے کی منزلیں طے کرنی ہوتی ہیں۔
محبت آرزوئے قرب حسن کا نام بھی نہیں ہے۔ محبت تکمیل خواہشات کا نام نہیں ہے۔ محبت تو تشنگی ہے محبت تو یہ ہے کہ آپ اپنے اندر جھانکیں اور اپنے محبوب کو دیکھ لیں۔ دل چاہے تو اس کو سامنے بٹھا کر ڈھیروں باتیں کریں۔ چاہے وہ آپ سے کوسوں دور ہو۔ محبت میں دوریاں اور فاصلے نہیں ہوتے۔ محبت تو زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ محبت وقت کی قید سے آزاد ہے۔ محبت تو خوشبو ہے۔ بھلا خوشبو پہ کوئی پہرے بٹھا سکا ہے آج تک۔
انسان کے دماغ میں اندیشہ اور دل میں محبت بیک وقت نہیں رہ سکتے۔ جہاں وسوسوں اور اندیشوں کے زہریلے سانپ ہر وقت پھنکارتے رہتے ہوں وہاں محبت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ محبت تو اعتماد اور یقین کا دوسرا نام ہے۔ جہاں یقین ہوتا ہے وہاں محبت ہوتی ہے۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں خدا ہوتا ہے اور جہاں خدا ہوتا ہے وہاں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔
محبت سرشت آدم ہے۔ محبت مزاج پیغمبری ہے۔ محبت اولاد کے کھو جانے کے دکھ میں رو رو کر اپنی آنکھیں گنوانے کا نام ہے۔ محبت اولاد کی قربانی کے لیے اپنے رب کا حکم ماننے کا نام ہے۔ محبت تو اپنے بیٹے کی پیاس کی شدت سے گھبرا کر صفا سے مروہ اور پھر مروہ سے صفا کی پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں بھاگنے کا نام ہے۔ اور پھر ہر مسلمان کے لئے صفا سے مروہ کے درمیان بھاگنے کا حکم اس محبت کا انعام ہے۔ حضورﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت بلالؓ کے مدینہ چھوڑنے کا نام محبت ہے۔
محبت حضرت بلالؓ کو پھر مدینہ میں بلانے کے پیغام کا نام ہے۔ اور محبت ایک بار پھر حضرت بلالؓ کے مدینہ کو چھوڑنے کا نام ہے۔ امت کی بخشش کے لیے گریہ و زاری کا نام محبت ہے جس پر اللہ نے فرمایا:اے جبرائیل! محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ آپ ﷺ کی امت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں کریں گے۔


Comments are closed.