نقش فریادی ہے اور کاغذی ہے پیرہن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھارہویں صدی میں برصغیر پاک و ہند میں بادشاہت کا دور تھا۔ میڈیا نام کی کوئی چیز پائی بھی جاتی تھی تو وہ تخلیے کی خبروں تک محدود تھی۔ کس کا سر قلم ہوا، بادشاہ سلامت کو کیا پسند ہے کیا ناپسند ہے، بادشاہ سلامت کس سے خوش ہوئے کس سے ناراض، کس کو سزا دی کس کو انعام دیا وغیرہ۔ تصویر اور ویڈیو کے بغیر یہ خبریں صرف زیرلب ہی شائع ہوتیں اور پیٹ میں پہنچنے سے پہلے پہلے ہی ہضم کر لی جاتیں۔

میڈیا کے اسی تخلیے کے مسکن کی وجہ سے ہمیں آج بادشاہوں کے جاہ و جلال اور اختیارات کا تو بخوبی علم ہے مگر یہ علم نہیں کہ ان ادوار میں عوام کے کیا حالات زندگی تھے۔ شہری حقوق کی صحت کیسی تھی، عدل و انصاف کے حصول میں عام آدمی کو کن مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ صحت عامہ کی سہولیات کس صورت میں دستیاب تھیں اور کن کو دستیاب تھیں۔ تاریخ ہمیں ان تمام امور کی سرسری سی معلومات فراہم کرتی ہیں جبکہ بنیادی انسانی ضرورتوں تک عام آدمی کی رسائی کے متعلق تاریخ مثبت طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج بھی نقش فریادی ہے کسی کی شوخی تحریر کا جبکہ تخلیے کا دباؤ بھی موجود نہیں ہے؟ تو اس کا ممکنہ جواب یہ ہے کہ آج بھی نقش فریادی ہی ہے بس تخلیے کا انداز بدل گیا ہے۔ پیکر تصویر موجودہ دور میں بھی کاغذی ہی ہے۔ یہاں بادشاہوں کی جگہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے لے لی ہے۔ جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سڑکیں سجا لیتا ہے وہ عنان حکومت سنبھالتے ہی ان خلاف ورزیوں پر اپنے سابقین پر بھی سبقت لے جاتا ہے۔ جو اخلاقی معیارات دوسری حکومت کے لیے ضروری تھے یہ ان کی قید سے آزاد ہے۔ جن معاملات پر دوسرے جواب دہ ہیں یہ نہیں ہے۔ ہر مخالف کا نام ہونٹوں پر آئے تو برسر الزام ہی آئے۔

سوشل میڈیا نے تو بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں جیسے کہ اگر سیلفی کی سہولت موجود نہ ہوتی تو لوگوں کی فاتحہ خوانی کے مناظر بھی نظروں سے اوجھل ہوتے، جس سے مرحومین کی بخشش کا عمل بھی سست روی کا شکار ہو جاتا۔ ایک 10 کلو وزنی آٹے کے تھیلے میں کتنے لاکھ ٹن گندم کا آٹا غریب شخص کو سونپا گیا ہے یہ بھی معلوم نہ ہو پاتا۔ اپنی تشہیر اور دوسروں کی تذلیل کا ہنر بھی ترقی نہ کرتا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جس دین، خدا اور رسول کریم ﷺ کا نام لے کر صدقات، خیرات، زکوٰۃ یا امداد بانٹی جا رہی ہے انہوں نے تو ان تمام اعمال کو پردے کی حدود میں ادا کرنے کے باقاعدہ احکامات دیے ہوئے ہیں، ان احکامات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مستحق طبقہ کی عزت نفس مجروح نہ ہو سکے۔

مگر پیکر تصویر کو لائیک، کمنٹ اور شیئر کی غرض نے مذہب کے احکامات بھلا کر غریب کی تضحیک پر لگا دیا ہے۔ اب کوئی کسی کا جنازہ بھی ادا کرتا ہے تو کیمرہ اور سوشل میڈیا تشہیر بھی مع زائد چار تکبیرات کے ضروری سمجھی جاتی ہے (قبر کے حالات مردہ ہی بہتر جانتا ہے ) ۔ افسوس صد افسوس کہ یہ سہولیات غالب کے بادشاہوں کو میسر نہ تھیں۔

غالب آج کے وقتوں کی بات ہوتی تو ہم سمجھتے کہ شوخی تحریر سے مراد آئین و قانون میں موجود بنیادی انسانی حقوق ہیں جو فریادی کی پہنچ سے اتنا ہی دور ہیں جتنا غالب کی شاعری کا عاشق اپنی معشوقہ سے۔ انسانوں اور انسانی حقوق کا وصل ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ بلکہ انسان بشمول مسلمان انسانی حقوق کے میدان میں بھی طبقاتی تقسیم کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں ایک اعلیٰ طبقہ کو جو قانونی مراعات حاصل ہیں وہ نچلے طبقے کو حاصل نہیں ہیں۔

جن طبقات کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین، سیاسی جماعتیں، محکمے، فنڈز، سیاسی منشور اور دیگر لقمے بنائے جاتے ہیں وہ ان طبقات کی پہنچ سے دور ہی رکھے جاتے ہیں۔ ہم اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پانی، بجلی، سڑک، تعلیم، صحت اور دیگر جو بنیادی انسانی ضروریات ہیں آج کا انسان بشمول مسلمان ان کی فراہمی کے دلنشیں وعدوں پر اپنا اور اپنے خاندان کے ووٹ کا فیصلہ کر رہا ہے، اور وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔ فریادی ووٹر کو یہ بات ازبر کروا دی گئی ہے کہ وہ ان تمام ضروریات کا حق نہیں رکھتا تھا، پیکر تصویر نے جوکھوں سے زیادہ محنت کر کے اسے یہ ضروریات بہم پہنچائی ہیں، اس عمل کے دوران اسے قانون شکنی کا مرتکب ہونا پڑا مگر اس نے پرواہ نہیں کی اور فریادی ووٹر تک وہ سب پہنچا دیا جس کا وہ حق نہیں رکھتا تھا۔

فریادی کو یہ بات معلوم ہی نہیں کہ وہ پیکر تصویر کی مجبوری ہے، پیکر تصویر اس کی مجبوری نہیں ہے۔ فریادی وہ آلہ مبادلہ ہے جس کے عوض پیکر تصویر نے بنگلہ، گاڑی اور لامحدود وسائل حاصل کر لیے ہیں۔ فریادی نے اپنی تمام عمر یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اسے کیا کیا حقوق حاصل ہیں، جن چیزوں کی عدم موجودگی اس کے لیے باعث تکلیف ہے وہ ان چیزوں کا مستحق ہے چاہے اس نے کسی پارٹی کے پیکر تصویر کو ہی ووٹ دے رکھا ہے۔ پیکر تصویر نے بھی کبھی یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ وہ فریادی کو اس کے آئینی حقوق کی تبلیغ کرے، وہ یہ چاہتا ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے فریادی کو جاہل، بیمار اور پسماندہ رکھے تا کہ اس میں سوال، مقابلے اور فکر کے جراثیم انگڑائی نہ لیں۔ حالت یہ ہے کہ اگر فریادی کو یہ بات سمجھانے کی کوشش بھی کی جائے کہ یار تم اپنی خودی اور قیمت کو پہچانو تو وہ ناراض ہونے لگتا ہے اور پیکر تصویر کی ناراضی اور اپنی بے وقعتی کے دفتر کھول لیتا ہے۔

بنیادی انسانی حقوق کے کمزور کاغذی پیرہنوں اور فریادی کی منتشر مزاجی نے ہر پیکر تصویر کو بادشاہوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب پیکر تصویر کی بھی مجبوری ہے کہ وہ ان لامحدود وسائل کا کیا استعمال کرے، مجبوراً اسے مہنگی گاڑیاں، بڑے بنگلے، کاروبار اور تو اور اپنے جگر گوشوں تک کو بیرون ممالک جائیدادیں خرید کر وہاں رکھنا پڑ رہا ہے۔ اسے دو دو شادیاں بھی کرنی پڑتی ہیں۔ ہر ایک کے لیے الگ الگ گھر اور گاڑیاں رکھنی پڑ رہی ہیں، الگ الگ ملکوں میں جائیدادیں بنانی پڑ رہی ہیں۔ جبکہ یہی فریادی متحد ہو کر پیکر تصویر کو ان مصائب سے نجات دلا سکتا ہے۔ مگر اس سے بھی بڑی مصیبت بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے کی ہے جس پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

سچ کہا تھا غالب نے کہ
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *