اٹھارہویں ترمیم اور کٹھ پتلی سیاستدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آمریت ایک بدترین طرز حکومت ہے اور ہماری ستم ظریفی ہے کہ ہم ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں جو آمریت کے چار بھیانک اور بدترین ادوار دیکھ چکا ہے۔ اور مکمل جمہوریت کی نعمت سے یہ ابھی بھی محروم ہے۔ یہ سب بھگت کر بھی ہم اپنی بیٹھکوں اور محفلوں میں بیٹھے آمریت کے فوائد گنتے رہتے ہیں اور تبدیلی کی امید سیاستدانوں سے رکھتے ہیں، کرپشن کے الزام بھی سیاستدانوں پہ دھرتے ہیں اور ملک لوٹنے کے طعنے بھی انہی کو دیتے ہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جینوئن سیاستدان پیدا ہی نہیں ہونے دیے، ہمارے نظام نے روز اول سے ہی یہ بات طے کر لی تھی کہ عوامی سیاست کا دم بھرنے والے سیاستدان اس ملک میں سیاست کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

لیکن یہ ملک ایسا بھی بانجھ نہیں تھا اس نے بڑے قد آور اور زیرک سیاستدان اس نظام کو دیے جو اعلی مناصب پہ براجمان ہونے کے ساتھ ساتھ اعوام کے دلوں میں بھی گھر کر بیٹھے اور یہی بات ان کا ناقابل معافی جرم ٹھہرا۔ کیونکہ ہماری ضرورت تو بونے اور کٹھ پتلی سیاستدان تھے جو کوئی سوال کرنے کی بجائے ہر حکم پہ سر تسلیم خم کریں۔ اس لیے ہم نے ایسے گستاخ مگر منتخب وزرائے اعظم کو جلاوطنیوں، جیلوں، نا اہلیوں، ہتھکڑیوں، پھانسیوں اور گولیوں کے تحفے دیے اور یہ سلسلہ انہی تک موقوف نہیں رہا بلکہ ان کے کارکنوں اور نام لیواؤں کے مقدر میں بھی یہی سب لکھا گیا۔

آمریت اور جمہوری جدوجہد کی اس آنکھ مچولی میں دھونس و دھاندلی کا کون سا طریقہ ہے جو ہم نے اختیار نہیں کیا۔ ہم نے الیکشن کے انعقاد سے نتائج تک سب کچھ اپنی مرضی و منشا سے حاصل کیا۔ ہم نے ”سلیکٹڈ پارلیمنٹ“ سے حسب ضرورت ترمیمیں کروائیں اور آئین کی اصل روح ہی مسخ کر دی۔ ہم نے سیاسی شخصیات کی کردار کشی کی۔ لفظ سیاست کو اس ملک میں ایک گالی بنایا، سیاسیدان اس ملک کے سب سے بڑے مجرم اور غدار گردانے گئے۔

ایسے میں جب مشرف کی آمریت رخصت ہوئی تو پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کا تحفہ دے کر خود کو حقیقی اور جینوئن سیاسی قوت ثابت کیا۔ گو کہ اس کے بعد بھی جمہوریت پہ حملے جاری رہے اور ایک منتخب وزیراعظم کو نا اہل قرار دے کر جیل میں ڈالا گیا لیکن اس کے باوجود بھی اٹھارہویں آئینی ترمیم جمہوریت کے لیے ڈھال ثابت ہوئی ہے۔

اب جبکہ کچھ لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لئے اٹھارہویں آئینی ترمیم ختم کر کے جمہوریت پہ وار کرنا چاہتے ہیں تو یہ تمام سیاسیدانوں کے لئے ایک ”ٹیسٹ کیس“ ہو گا۔ جو اٹھارہویں ترمیم کے لئے کھڑا ہوگا وہ حقیقی سیاستدان ہو گا جو اس کے خلاف کسی اور قوت کا آلہ کار بنے گا وہ تاریخ میں کٹھ پتلی لکھا جائے گا۔

خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے۔
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “اٹھارہویں ترمیم اور کٹھ پتلی سیاستدان

  • 30/05/2020 at 6:34 pm
    Permalink

    Well clear precise and boldy expreseed

  • 31/05/2020 at 10:48 pm
    Permalink

    Fantastic piece of writing very well expressed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *