حادثات اور ہم
حادثات اور آفات کی انتظام کاری ایک ایسا کام ہے جس کو کرنے کے لیے مطلوبہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ جہاں لوگوں کی مہارتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اس سے بہتر نتائج موصول ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے سیلابوں کی انتظام کاری میں بنگلہ دیش کے لوگوں کی بہت مثالیں دی جاتی ہیں۔
دیکھا جائے، تو ہم اپنی روزمرہ کے معمولات میں بہت سارے کام ایسے کر رہے ہوتے ہیں، اس میں معلومات سے زیادہ ہنر اور مہارتوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ مثال، خانساماں کے ہاتھ کے بنے ہوئے سالن کے ذائقے کی زیادہ اہمیت ہے، بجائے اس کے اس بات پر غور کیا جائے کہ ان کی تعلیم کتنی ہے۔ اسی طرح جب کہیں آگ لگی ہوئی ہے تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ فائر فائٹر کے پاس کون سی ڈگری ہے، بلکہ کام میں اس کی پھرتی اور سمجھ بوجھ کتنی ہے، یہ دیکھا جاتا ہے۔
آفات کی نوعیت قدرتی بھی ہوتی ہیں، لیکن اگر ان کے مضمرات کا بغور جائزہ لیں تو بیشتر کے پیچھے انسانوں کا ہاتھ پنہاں ہوتا ہے۔ کہیں ہم مقررہ حد سے تجاوز اور مروجہ اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اور کہیں آفات کی وجہ ہمارے بنائے ہوئے بڑے بڑے ڈیم بنتے ہیں۔ شہروں میں پانی کے راستوں پر تجاوزات بنائے گئے ہیں۔ بارشیں ذرا زیادہ ہوں سیلاب کا منظر نظر آتا ہر طرف۔ بظاہر تو وجہ بارش ہوتی ہے لیکن بارش کو تو نہیں معلوم ہے کہ وہ زیادہ نہ برسے نیچے پانی کے راستے لوگوں نے بند کر رکھے ہیں۔
کسی سول انجینئرنگ منصوبہ میں زمین پر ہماری سروے اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ میرے پاس باہر کی کوئی ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے تو میں سب کچھ جانتا ہوں۔ سروے کے اعداد و شمار میں جہاں مقامی لوگوں کی ذہانت شامل ہے۔ وہ ایک ایسی معلومات ہے جو دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ملتی۔
شہروں کو چلانے میں، قانون کا اطلاق اور طے شدہ معیارات کو کس طرح یقینی بناتے ہیں اس حوالے سے بلدیہ کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں تو یہ دکھتا ہے کہ آج تک ہم یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ پانی کے ہمارے پاس کتنے ادارے ہونے چاہیں۔ سیکورٹی کے کتنے محکمے ہونے چاہیں۔ انجینئرنگ کے اداروں کا آپس میں ہم کاری اور ہم آہنگی کا ایک طریقہ کار ہونا چاہیے۔ یا یہ سب ادارے ایک ہی بڑی چھتری کے نیچے کیوں کام نہ کریں جو ایک جیسا کام کر رہے ہیں۔ جیسے تمام انجینئرنگ کے محکمے۔
شہریوں کا تحفظ اداروں کے ساتھ ساتھ جہاں وہ ہیں، مثال کے طور پر اگر کوئی ملازم کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں یا کسی صنعتی یونٹ میں کام کرتا ہے تو اس کا تحفظ ان کی ذمہ داری میں آتا ہے۔ نئے شامل ہونے والے ملازمین کے لیے جہاں ادارے کے بارے میں معلومات دینا اہم ہے وہاں حفاظتی ہدایات کی تربیت دینا کم اہم نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح ملازمین کی استعداد بڑھانے کے لیے ورکشاپ اور تربیتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر ڈرل ہونی چاہیں تاکہ نہ صرف وہ اپنی حفاظت کا بندوبست کریں بلکہ وہ دوسروں کو بھی محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ذمہ داریوں کا تعین اور کسی بھی کام کی کمزوریوں کی نشان دہی، تب شروع ہوتی ہے جب پہلی بار کوئی کاروباری کمپنی کوئی بڑی عمارت بنانے، صنعتی یونٹ لگانے یا کوئی بھی کاروباری آؤٹ لٹس کھولنے کی درخواست دے۔ سرکاری عہدہ داروں کو اس کے نقشے میں ضروری آلات کو شامل کرنے کی اقدامات سختی سے لینے چاہیے۔
جو کام ایک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا سیلنڈر کر سکتا ہے اگر وقت آنے پر اس میں گیس موجود ہو۔ بعد میں بہت ساری توانائیاں تحقیق اور تفتیش پر صرف کی جاتی ہیں، ان کا اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا ایک سیلنڈر کی گیس بر وقت استعمال کی جائے، لگی ہوئی آگ کو بجھانے کے لیے۔
ادارے اندرونی طور پر مختلف ذیلی محکموں کے ڈھانچے میں ڈھل کر کام کریں تو امکان ہے کہ کام زیادہ بہتر طریقوں سے انجام پائے، کیونکہ جو افراد کام پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ دار ہیں وہ اپنے کام کی خامیاں نکال نہیں سکتے۔ اس کام کو ہم بینکوں کے طریقہ کار کو دیکھ کر مدد لے سکتے ہیں۔ بینک کو چلانے والے اور کام کے آڈٹ کی ذمہ داری الگ الگ یونٹوں کے پاس ہوتی ہے۔
ہم سائنسی اصولوں کا اطلاق نہیں جانتے یا ایسی خواہش ہی نہیں رکھتے کہ ہم اپنے قصبوں اور شہروں میں حادثات کو روکیں۔ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ بلدیہ کی ذرا سی توجہ مختلف حادثات کو روک سکتی ہیں۔ بلوچستان کے مختلف شہروں میں پیٹرول سائنسی اصولوں کے بغیر فروخت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر آگ لگنے کے حادثات ہو جاتے ہیں۔ حادثات کی وجہ یہ دیکھی گئی ہے کہ جس دکان میں تیل بیچا جاتا ہے اس کے قریب اسنیکس کی دکان بھی واقع ہے جہاں پکوڑے تلنے کا کام ہوتا ہے۔ اول تو شہر کے اندر بغیر سائنسی اصولوں کے تیل فروخت کرنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہمارے پاس بڑے فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، لیکن اگر ہم چھوٹے فیصلے کریں تو ان سے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مثال، جہاں پیٹرول کی دکان ہے تو پکوڑے تلنے کی دکان ذرا فاصلہ رکھ کر کھولی جائے۔


